
لطیف النساء
حجاب!!یہ کپڑے کا ٹکڑا نہیں بلکہ زندگی کا وہ مستقل طرزعمل جوحیا سے مزین ہو۔ قرآن میرالائحہ عمل ہ،مجھےزندگی حیا،حجاب،عفت اورتقویٰ سےملتی ہے۔ قرآن میری
اصلاح میری زندگی کے ہر ہر عمل کو کرنے کے لیے ہر ہر جگہ پر میری رہنمائی ہے۔ اس لیے قرآن کو روزانہ بار بار پڑھنے،سمجھنے عمل کرنے (گویا اطاعت خداوندی ساری زندگی) اور اپنے عمل سے ہی آگے بڑھانے کا نام ہے۔
قرآن! میری پہچان اور میرا رہبر ہے۔ میرا راستہ، صراط مستقیم ہے۔اس سےکوتاہی کر کےمیں کہاں جاؤں گی؟ ظاہر ہے کہ بھٹک جاؤں گی! اوربھٹکا ہوا بندہ اپنی منزل ہی تو کھو دیتا ہے! جب منزل ہی نہ ملی تو جو نہ چاہے ہو سکتا ہے! سوچیں یہ کتنا بڑا چیلنج ہے؟ بگڑ جائیں، کوئی لوٹ لے، خود گر جائیں،مرکھپ جائیں،کئی سوالات آتے ہیں نا؟مٹھائی کیوں نہیں کھلی رکھی جاتی؟ کیوں؟ مکھیاں، کیڑے مکوڑے آ جاتے ہیں، پیسے کیوں نہیں کھلے رکھے جاتے ہیں؟ چھپا کر رکھے جاتے ہیں؟ ظاہر ہے اچھے برے سب ہی افراد چاروں طرف ہیں،کوئی لوٹ جائے نقصان یعنی خسارہ!تو پھر عورت، لڑکی، بچی سب ہی قابل دید اور توجہ کی باعث ہیں اور ایک نوجوان بچی یا ایک بنی سجی سنوری عورت! سمجھو دھوپ میں شربت کا گلاس ،کیوں نہ دل کا مرض رکھنے والے متاثر ہوں گے؟ اور نہ صرف نقصان پہنچائیں گے بلکہ خود بھی نقصان اٹھائیں گے۔
دنیا کی رسوائی اور آخرت کی ناکامی!وجہ کون یہی عورت! اور اس کی بےحجابی! کہاں تک پہنچ چکی ہے؟فیشن نےایسا بدلاہےکہ خود گھر والےتک نہ پہچان پائیں!رنگ، روپ، بال، گال، آنکھیں تک رنگ برنگی مگر حیا سے خالی، بے باکی اور جال کی متلاشی،شیطان کی ساتھی اور اپنی حرکتوں چال،ڈھال اور لباس نام کی دجالیت ساتھ لئے کتنوں کو گھائل،مائل اور جہنم کی دعوت دیتی ہے!۔ ایسا ہی ہے مگر جس کی زندگی میں قرآن آجائے،سورۃ النساء اور سورۃ الاحزاب آجائے، امہات المؤمنین کی زندگیاں آجائیں، اللہ کی محبت آ جائے، اللہ کے احکام کی توفیق مل جائے انہیں پڑھنے، سننے،سمجھنے کو من ہمیشہ تیار رہے اور پھر سب سے بڑھ کر اس رب کی نعمتوں کا احساس ہو جائے۔ اس مہربان رب کی معرفت عطا ہو جائے جس نے تمہیں تخلیق کیا بہترین ساخت میں تمام اعضاء کے ساتھ حسن و صلاحیت دی، طاقت دی، شعور بھی دیاپھر فطرت سلیم دیکر رہنمائی قرآن اور شریعت کا شعور دیا اور اس طرح تمہارے نفس میں نیکی اور بدی الہام کر دی، حیا سمجھا دی سجھادی، اتنی سمجھ دے دی کہ لوگوں کی نظریں پہچان جاؤ، روئیے جان جاؤ اور ارادے بھانپ لو پھر بھی اشتہار بننا چاہو؟یہ کیسے ممکن ہے؟
اگر عورت حجاب اور قرآن کو سمجھ جائےاوراس کی اہمیت کو اپنا لے، آخرت پر یقین پختہ ہی ہوتا جائےجتناجس میں تقویٰ ہےاتنی ہی حیا ہے۔اپنی عزت،عفت، پاک دامنی کے لیے حجاب کو آسانی سے اپناتی ہیں اور یوں اپنے ساتھ ساتھ کئی لوگوں کو دوزخ کی آگ سے بچانے کا ذریعہ بن جاتی ہے! بچے بھی تو دیکھ کر سیکھتے ہیں!کیسے ماں کو نماز کا دوپٹہ لا کر دیتے ہیں؟ کیسی نقل کرتے ہیں؟ بس یہی نقل یہی شعور ارتقائی منازل طے کرتا رہتا ہے ،ساتھ ساتھ اپنی ماں کےدیگر اہل خانہ کے اور پھر ہر معاشرے کے،ماحول کیسا ہی ہو؟ آج کل تو ہم ساری دنیا کو سمیٹ کر اپنی مٹھی میں لے آئے ہیں۔نظریں کمزور نہیں مگر دل کی تسلی درکار ہے تو پوری کمرے کی دیواریں ہی اسکرین بنا لی ہیں اور اپنے آپ ہی اشتہار بن گئے!! چوائس آپ کی ہے کیا دیکھیں؟کیا نہیں؟اور انجام کی خبر رکھیں نہ رکھیں ذمہ داری تو آپ کی ہے؟
بچے بچیاں تو آپ کا عکس ہوں گے نا؟ یہ دو چیزیں حجاب اور قرآن کو اگر اپنی زندگی سےدور کر دیں تو سمجھیں آپ خود بخود عفت،پاکبازی، حیا سےدور ہوتی جائیں گی۔ آپ تقویٰ، عشق رسولؐ اور عشق فاطمۃ الزہرہ، شریعت اور اطاعت خداوندی سے دور ہوتے جائیں گے اور آہستہ آہستہ عورتیں سب کچھ بھول کر اطاعت خداوندی، حیا اطاعت سب کچھ بھول کر برباد ہونے لگتی ہیں لہٰذا ہمیں اپنی زندگی گزارنے کے ان طریقوں کو اپنانا ہے جو جذبہ ایمانی، قرآن اور حجاب سے مزین ہوں اور زندگی کو اطاعت الٰہی کے مطابق کر دیں اور کبھی نہ بھولیں کہ میرا وجود ہی تو میری نسلوں کی تعمیر اور میرے معاشرے کے سدھار سے وابستہ ہے۔ اس لیے معاشرے کی تعمیر کریں کبھی تقریب کی طرف نہ جائیں بلکہ اطاعتِ خداوندی کی زندگی گزاریں اور نسلوں کوحیا کے زیور سے آراستہ کریں۔ اللہ توفیق دے۔ آمین





































