
لطیف النساء
مسائل کا حل کبھی بھی جنگ نہیں ہوتا ہر طرح کی صورتحال میں ہر باضمیر اور انسانیت کا درد رکھنے والے صلح اور صفائی سے پرخلوص طور پر امن کی
راہیں تلاش کرتے ہیں! ۔ جنگ سوائے تباہی کے کچھ نہیں دیتی! ۔ یہ کوئی بچوں کا کھیل نہیں اور نہ ہی کرکٹ میچ ہے ۔ زیادہ بھڑکیاں مارنے کی کسی کو بھی ضرورت نہیں، ہر میدا ن میں ہر عمل میں ہمیں صرف اور صرف اللہ سے ڈرنے کی ضرورت ہے اور اللہ کو زمین پر کیا کہیں بھی فساد پسند نہیں ۔ ایمان لانے کے بعد بھی جو لوگ اپنے ایمانی تقاضوں کو پورا نہیں کرتے یکجہتی کے حامل نہیں ہوتے تو گویا ایمان کے تقاضے پورے نہیں کرتے۔ اسی لیے تمام جماعتیں مل کر ایک پیج پر اکٹھا ہو کر سلامتی کے کام کریں۔ یہ بہت بڑا مرحلہ ہے، ہر میدان میں پاکستان میں، بین الاقوامی طور پر، خود ہندوستانی مسلمانوں تک اپنے امن کے مؤقف کی بات کریں۔ اپنا اتحاد و اتفاق دکھائیں۔حکومتی طور پر اپنی دفاعی صلاحیت کو منظم کر کے یکجہتی کے ساتھ ساتھ تمام تر اختلافات ختم کریں۔ صرف اپنی بیان بازی سے کام نہ چلائیں بلکہ عملی میدان میں یکسو ہو کر کام کریں۔
دشمنوں کی بد امنی اور جنونیت اور نفرتِ انسانی کی چالوں کوسمجھیں اورظالم جابرحکمران مودی کے موذی عزائم کو مدنظر رکھ کر اپنا کردار نبھائیں!اپنے تعلقات اپنے مسلم بھائیوں سے ہی نہیں بلکہ باضمیر انسانیت کا درد رکھنے والوں کو ساتھ مل کر اپنے کردار کا اپنی دینی اور اخلاقی حمیت کا ثبوت دیں۔ کسی سے نہ ڈریں، صرف اور صرف اللہ سے ڈریں اور اپنے انجام پر اپنے مقصد ِحیات پر ہی نظر رکھیں۔ اپنے لالچی اور خود غرض اور ملک دشمن کردار وں کو پہچانیں اور ان کی منافقانہ کارروائیوں پر نظر رکھیں،انہیں بے نقاب کریں ، اپنی صفوں میں اتحاد ویکجہتی کا مظاہرہ اپنے پرامن اعمال سے کریں ۔ تمام مسائل کو حل کریں۔ قوم اور فوج ایک ہے ۔تاریخ سے سبق سیکھیں ۔اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے تاریخ سے سبق لے کر اپنی سا لمیت قومی وقار اور دفاع کیلئے تمام حقوق ادا کریں ۔ بھارت کی غیر منصفانہ کارروائیوں کی طرف توجہ رکھیں کیونکہ یہ ہماری توجہ فلسطین کی طرف سے ہٹا کر مزید ان پر ظلم کر رہے ہیں۔اگر ہم غزہ کے قبضے کومعمولی نہ لیں،بھارت، اسرائیل اور امریکہ سب ہی ملے ہوئے ہیں اور ان کی چالوں کو اب بھی نہ سمجھیں تو اسرائیل کی طرح بھارت کو بھی جنونیت کا خون لگا ہوا ہے لہٰذا اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اور حکمت عملی سے اپنے وسائل استعمال کرتے ہوئے امن کیلئے کام کریں ۔اتحادو اتفاق کو ہر لیول پر قائم کریں۔افواج پاکستان کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات کریں کہ آل پارٹیز کانفرنس بلا کر حج کے اس احترام والے مہینے کی حرمت کومد نظر رکھتے ہوئے ہر صورت امن کی بات کریں۔جنگ میں سوائے تباہی بربادی کے کچھ کسی کو نہ ملے گا کیونکہ دینی، مذہبی اور اخلاقی طور پر اگر دیکھا جائے تو تمام مسائل کا حل بحث و مباحثے اور گفتگو سے طے کریں کیونکہ یہی انسانیت کی فلاح اور بھلائی کے لیے ضروری ہے۔ ملی یکجہتی اور حکومتی اعتماد ضروری ہے۔ امن کیلئے باتوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات حکومتی سطح پر ہوں تاکہ امن کی صورتحال کو یقینی بنایا جائے۔
بھارت کو جواب دینا بے شک پاکستان کا حق ہے مگرکسی کی بھی سالمیت کودفاعی طورپرروکنے کےلیےجنگ، تصادم قطعی ضروری نہیں بلکہ امن و استحکام ضروری ہے۔ تمام افواج اور نوجوانوں کو، مسلم لیگ نون کو دیگر جماعتوں کو صرف اور صرف پاکستان کی سا لمیت کے لیے کھل کر سامنے آنا چا ہیے اور دفاعی اقدامات پورے ایمانی جذبوں سے ایسے کریں جو تمام ترمفادات سےالگ صرف اور صرف ملکی ملی دفاع کیلئے ہوں۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمارے تمام نوجوان اورہماری افواج اپنے اخلاقی انسانی فلاح کے کام کریں۔
بھارت کے اس نیچ اقدام پر!!دیکھ لیں!فلسطین اور دیگر جگہوں کا حشر!اللہ نہ کرےدنیا کا کوئی اورعلاقہ اس طرح کی صورتحال کا شکار ہو! امن کے لیے کام کریں جو سلامتی نہ چاہیں،جو فساد پر اڑے رہیں ،سمجھو کہ وہی ظالم و جابر اورفاسق ہیں۔سوچیں ہم کیا ہیں؟ اور ہمیں کیا کرنا ہے؟ ظاہر ہے اگر ہم بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہے اوروہ سب کچھ کر جائیں،یہ تو ناممکن ہے ہمیں بھی ہر وقت نہ صرف چوکس رہنا ہے بلکہ دشمن سے مقابلے کے لیے ہر وقت تیاررہنا ہے۔اس وقت سب سے بڑی طاقت ایمانی طاقت ہے جس سے ہمارا نوجوان بچہ بچہ سرشار ہے لیکن یہ اور بات ہے کہ ہم اپنے ہی لوگوں سے الجھ کر مزید رکاوٹیں نہ کریں بلکہ سب متحد اور منظم ہو کر ہندوستان پر بھی حملہ کریں اورحملے کے لیے اپنے نوجوانوں کو تیار رکھیں۔انتظار کر کے مزید انہیں موقع دیں ،انہیں ہر جانب سےللکاریں کہ ہم کشمیر اور پاکستان کیلئے یکساں تیار ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمارے عزائم اور حوصلے بلند رکھ کے اپنی جانب سے ہماری مدد فرمائے اور ہمارے بشری تقاضوں کے برخلاف ہمیں وہ قوت ایمانی اور وہ جذبہ جہاد عطا فرمائے جو ہر طرح کے خوف کو امن میں بدل دے اور اور جلد از جلد امن وسلامتی عطا فرمائے(آمین)۔ ہمیں اپنے محدود وسائل میں بھی قوت ایمانی جرأت،شجاعت اور حوصلے کی ضرورت ہے۔پاک فوج کو بھی منظم رہ کر اتحاد اوریکجہتی کے ساتھ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کو اپنا مقصدِ عین بنانا ہے اور اگر ابھی حوصلہ ہمت نہ دکھائی ، اپنی ایٹمی صلاحیت اور ٹیکنالوجی کو استعمال نہ کیا تو پھر کونسا وقت ہوگا تحفظ کا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لوگوں کی،ہمارے ملک کی اور ہماری سرحدوں کی حفاظت فرمائے اور ہمارے فلسطینی بھائیوں کو بھی امن و سکون عطا فرمائےاوراپنی جانب سے قوت و طاقت عطا فرمائے اور ہر طرح سے سکھ و چین دے۔ آمین





































