
لطیف النساء
خوش نصیب ہیں وہ والدین جنہیں اللہ نےبیٹیوں جیسی نعمتیں بخشی ہیں!! آج کی بیٹیاں کل کی مائیں ہیں اور ایک لڑکی کی تعلیم پورے معاشرے کی تعلیم
ہے،سدھار ہے مگر میرا تو آج بھی یہی والدین کے نام پیغام ہے جو سرعام ہے، ساتھیوں عمل کرنا ہی ہمارا کام ہے، ورنہ سب ناکام ہیں (اللہ نہ کرے)۔صبح ہی صبح کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا لکھوں تو میری دوست نے میرے نام یہ پیغام بھیجا ہے جو سب کیلئے تھا، اسی لیے سوچا یہ پیغام دعا کے ساتھ کہ ہر جگہ پہنچے(آمین)۔میں جان لوں آپ سب والدین بھی جان لیجئے کہ بیٹیاں اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہیں لہٰذا نعمتوں کی حفاظت ضروری ہے۔انہیں بچپن سے شرم و حیا کا زیور پہنا دیجئے جو نہ صرف ان کے بدن کو سجائے بلکہ ان کی معصومیت کی حفاظت کر کے ان کے دل میں حیا اور وقار کے بیج بودے۔ نہ فیشن کی اندھی دوڑ میں دھکیلئے، نہ ایسے انداز زندگی کی عادت ڈالئے کہ جب وہ بڑی ہوں تو بے حیائی ان کا معمول بن جائے۔ بیٹی چاہے ننھی کلی ہو یا کھلتا نکھرتا پھول ہو گلاب کا، آپ کی عزت اور حرمت کا تاج ہے۔ یاد رکھیں لباس رب نےاتاراہےیہ محض ایک کپڑے کا ٹکڑا نہیں ہے،حیا کی چادر، ایمان کی خوشبواور کردار کی روشنی ہے۔
اللہ کے لیے اپنی شہزادیوں کی حفاظت شعوری طور پر کیجئے۔انہیں شعور دیجیے جو زمانے کے فتنےسےان کی ڈھال بنے، انہیں کم لباسی سے بچائیے کیونکہ بے حیائی بے غیرتی کی پہلی سیڑھی ہے!۔ چڑ ھ آپ رہے ہیں!تو جان لیجئے جو بھی کام اللہ اور رسولؐ کو ناراض کرتے ہیں، وہ دنیا و آخرت کی بربادی کا راستہ ہیں۔ حیا کیونکہ ایمان کا حصہ ہے تو جب حیا جاتی ہے تو ایمان و غیرت بھی ساتھ چھوڑ دیتی ہے لہٰذا وہ چلتی پھرتی حیا کی تصویر ہوں کیونکہ آج اگر آپ نے ان کے دامن کو پاک نہ رکھا، حیا اور پاکیزگی سے ان کے دامن کو بھر نہ دیا تو کل یہ کیسے آپ کیلئے مغفرت کی دعا بنیں گی؟ بیٹی تو شرم و حیا کی امانت ہے، چھوٹی ہو یا بڑی، بیٹی تو بیٹی ہے عزت،وقار اورغیرت کا چراغ۔یہ آپ نے جلانا ہے۔ روشنی خود بخود ہوتی جائے گی۔ ان شاء اللہ
مکمل لباس محض جسم کی پردہ پوشی نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی آنکھوں کی حیا اور کردار کی حفاظت ہے۔ اچھی طرح ہم جان جائیں کہ حیاہی ایمان کا زیور ہے۔ اپنی بیٹیوں کے دامنِ عصمت کو ابھی سے آج سے سنوار لیجئے تاکہ کل آپ کی پیشانی فخر سے بلند ہو.آپ کی حیا ہی نمونہ ہو، میرا عمل ہی پاکیزہ ہو، مجھے اپنے رب سے اپنے اعمال سے حیا ہو،میرا تقویٰ ہی میری نجات ہو، پھر میری دعا اور دوا کارگر ہوگی نا؟ جب ہی تو میری اولاد میرے لئے صدقہ جاریہ ہوگی! یہ بہت ہی نازک احساس مگر ضروری عمل ہے۔تربیت کیلئے اللہ نے ہمیں چنا ہے. صاحب اولاد بنا کر! ہم اپنے حصے کا کام جتنا خلوص سے کریں گے۔اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں ضرور سرخرو کرے گا۔واقعی سچ کہا ہے شاعر نے:۔
مجھے اپنی راہ پر ڈال دے
کہ زمانہ میری مثال دے





































