
لطیف النساء
ہر روزایک نئی قیامت، ایک الگ دل دہلانے والا منظر،ایک الگ ہولناک خبربلکہ خبریں، مایوسیاں، اداسیاں، غیر یقینی معلومات اور پھر اس کی بار بار
تکرار، مایوسی تو کفر ہے،امید اور توکل، ڈٹے رہنا گویا بہترین استقامت اور ہر لمحہ حد درجہ کی مزاحمت ہی تو دراصل جہاد ہے جو وہ ادا کر رہے ہیں۔ اللہ پر کامل یقین اتفاق اتحاد ہی وہ ہتھیار ہیں جن کو اگر خلوص کے ساتھ استعمال کیا جائے تو ہی کامیابی یقینی ہے۔ اتنا عزم اتنا حوصلہ!!کہ اپنے ہی خاندان کے شہیدوں کے ڈھیر پر کھڑے ہو کر وہ معصوم بڑی بہن اپنی چھوٹی بہن اور بھائی کو گلے لگا رہی ہے اور بڑے بھائی کو بھی حوصلہ دے رہی ہے کہ حسبی اللہ،اللہ اکبر، اسی کے پاس پناہ ہے، ماں کے لیے کہہ رہی ہے کہ وہ اپنے رب کے پاس محفوظ ہے، ہمیں بھی وہاں ہی جانا ہے، میں بڑی بہن ہوں تمہاری ماں ہوں صبر کرو!! صبر و استقامت دکھاؤ،بزدلی نہ دکھاؤ، رب کی رضا پر راضی ہو! حوصلہ کرو کیسی عظیم مجاہدہ ہے، ہم لوگ کتنے بڑے ظالم ہوئے کہ اب تک صرف تماشا دیکھ کر افسوس کر رہے ہیں!عجیب و غریب کلپ بنا کر اپنی کمزوریوں کا مذاق بھی اڑا رہے ہیں؟خود مان بھی رہیں کہ امریکہ اور اسرائیل سے بڑے ظالم ہم مسلمان ہی ہیں جو صرف تماشا دیکھ رہے ہیں!! اتنی عبرت تو اب آ ہی جانی چاہیے مسلم اقوام کو حکمرانوں کو، کہ اس درد کو غم کو اپنی غلطیوں کو مان کر استغفار اور سچی توبہ کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات کریں۔اب تو عمل ہی درکار ہے کم از کم حق کا ساتھ دیں، سڑکوں پر نکل کر احتجاججیوں کا مکمل ساتھ دیں۔
اسرائیلی مصنوعات کا ہی نہیں بلکہ ان مصنوعات کورکھنےوالوں کابھی کھل کراحتجاج کریں کیونکہ اب بھی اگراتحاد اوریکجہتی نہ دیکھائی، کھل کر خلوص دل اور خلوصِ نیت سے مزاحمت نہ کی توسمجھیں ہم نے عذاب کو دعوت دی اور ہم سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں! افسوس صد افسوس کہ واقعی اپنے مسلمان غزہ کے بھائیوں سے کہاں ہمیں پیار ہے،ہمیں تو اپنی نیند پیاری ہے۔نہیں ساتھیو!! اتنی لاپروائی گناہ ہے! ہوش میں آؤ! دعائیں بھی دوا کے ساتھ اثر رکھتی ہیں، اللہ تعالی کی ڈھیل کو اپنا انعام نہ سمجھو! ۔
محترم مفتی مصباح اللہ صابرصاحب کی بات سےبالکل میں متفق ہوں کہ گمراہی پھیلانے والے ہی مایوسی کی خبریں پھیلاتے ہیں، حوصلے توڑنے نہیں جوڑنے ہیں، ہمت بڑھانی ہے۔ بے بنیاد اور غلط سلط خبریں پھیلا کر مزید نقصان نہ کریں، جھوٹوں سے بڑا کوئی دھوکہ باز نہیں۔ اللہ کا احسان ہے مسلمان اب بھی لاکھوں ہیں اور اپنی اعلیٰ ترین شاندار مزاحمت پیش کر کے اپنی تاریخ دہرا رہے ہیں۔ الحمدللہ! اتنے پراعتماد اورصاحب ایمان!لوگ جو رسول اللہ ﷺ کی بتائی ہوئی نشانیوں پر پورا اتر رہے ہیں! ۔
واقعی وہ عظیم لوگ! اللہ اکبر!اللہ ان کے مشن کو کبھی ضائع نہ کرے گا۔اس وقت تو ہمیں امید کا دامن تھامے،نا امیدی کو جنم دینے کے بجائے ایک عزم جوان! ایک نئے حوصلے نئی امید اور مضبوط قوت ارادی کے ساتھ ان کا حیات کے آخری لمحات تک بھرپور ساتھ دینے کا وقت ہے، ساتھ ساتھ دعا بھی کرنی ہے کہ اے رب! ہماری غلطیوں کمیوں کوتاہیوں کو دور کر دے اور ہمیں وہ حوصلہ،ہمت اور جذبہ ایمانی دے کہ ہم ظالموں پر چھا جائیں (آمین)۔ہم واقعی سچے دل سے اپنی مقدس سرزمین اور اس پر رہنے والوں بلکہ جہاں جہاں ظلم ہو رہا ہے ہم مظلوموں کا تحفظ کرنے والے بن جائیں،تیری پناہ چاہتے ہوئے ہمیں اسی جہد مسلسل میں کامیاب فرما دے کہ تو قادر ہے ناممکن کو ممکن بنانے والا۔
اے اللہ! ہم مانتے ہیں "مایوسی کفرہے "ہم شرمندہ ہیں کہ اپنے گھٹتے بڑھتے ایمان سے ڈگمگا جاتے ہیں ہمیں تھام لے۔ خود ہمارےاپنےہی پاکستانی مسلمانوں،دیگر عربوں اور دنیا کے تمام مسلمانوں کو یا رب! ایمان اورہدایت دے کہ اپنے فرائض اور اپنی آخرت اور تیری جواب دہی سے غافل نہ ہوں، فرائض منصبی کا ادا کرنا ہی ہمارا مقصد حیات ہو۔
تیرا جتنا شکر کیا جائے کم ہے جو تو نے ہمیں نوازا ہے۔اے اللہ! ہمیں زوالِ نعمت سےبچا،تیری نعمتیں لا تعداد لازوال ہیں، مالک ہمیں بھٹکنے سے بچا، شکر گزار بنا اور غزہ کے مسلمانوں سے لے کر ساری دنیا میں ہماری ساکھ اور عزت بحال کر دے مالک!ہمیں دونوں جہانوں میں سرخرو کر دے اور میرے غزہ کے مسلمانوں کو جو تکالیف ہیں ان کو کامیابی اور سکینت عطا فرما کہ ہم تجھ سے مانگ کر کبھی شرمندہ نہ ہوں۔ آمین یا رب العالمین





































