
لطیف النساء
نہ بھائی نہ، میں تو جانے کے حق میں نہیں ہوں، خود دیکھ لو کتنا دور ہے، کیسے جائیں گے، کتنا ٹریفک ہے، کس
طرح جائیں گے؟سب رشتہ داروں سے ملاقات ہو جائے گی دیکھیں گے، بڑی مشکل سے پھرجانا ملا،تحفے کا انتظام ریپر اتنے مہنگے کہ اتنے تو تحفے کے پیسے دیئے جاتے تھے۔ شکر اللہ کا جانے کا انتظام ہو گیا۔ رشتے داری نبھ گئی۔ اللہ کا شکر ورنہ تو وہ بھی ایک مرحلہ ہوتا ہے۔
اف شادی کیا تھی اتنی سجاوٹ اتنی دور ،اتنے سارے مہمان ،سبحان اللہ ماشاء اللہ! لیکن کوئی بھی نہیں آیا ساری کرسیاں خالی اتنے کم لوگ! نہیں فوٹو سیشن ہو رہا ہے، لوگ تو بہت دیر سے آتے ہیں پھرسب آہستہ آہستہ ہی آتے ہیں نا!فوٹو سیشن ہو رہا تھا۔ دلہا دلہن پورے ہال میں کبھی کہیں کوئی پوز کہیں کوئی فلم ہو موقع ہی کیوں دیا جائے۔ اب تو سب کچھ دکھتا ہے والی بات ہے کی پوز ز، منی فلم جو کہ سینسرز مانگنے کے مستحق ہوں، حیا کا لفظ شرمندہ ہو گیا! جو کبھی فلموں میں نہیں ہوتا تھا وہ اب شادیوں میں ہونے لگ گیا ہے۔
دو چار شادیوں میں جا کر ہم خود کو شرمندہ کر دیتے ہیں، کیسی تیاریاں ہوتی ہیں،کیامیک اپ کیا پہننا اوڑھنا اور کیسے اس میں شرکت کرنا اور پھر دلہا دلہن کا اور پھر کیمرہ مین کا ایک لشکر جو ہر طرف سے ہر اینگل سے اور بعض جگہ پہ تو ڈرون بھی۔۔۔۔ اللہ اکبر۔ا ہر اینگل سے تصویریں بنائی جا رہی ہیں اور اتنے فرمانبردار، اُن کیمرہ مینوں کے اشاروں پہ کہ بس اللہ کی پناہ!۔ ** سب لوگ جدھر ہیں۔ ''وہ'' ادھر دیکھ رہے ہیں۔ ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں، ایک دنیا انہیں دیکھ رہی ہے، تاک رہی ہے، بلکہ ششدر ہے، شور شرابا اتنا کہ بات کرنادشوار ایہ تہذیب نہیں، کچھ سنائی نہ دے اوپر دیکھو لائٹیں ہی لائٹیں ،سجاوٹ، بڑے بڑے جھومر، گلدستے، لا تعداد رکھے ہوئے ہیں پھر وقت کی بھی کوئی قدر ہی نہیں ہے اور اس کے بعد ایپیٹائزر اس کے بعد پھر کھانا یعنی طعام اور ہماری عوام نہیں تھی کبھی بھی ہماری پہچان؟ہر چیز کھانے میں ہے اور لوگ تمیز تہذیب کی دائرے سے باہر لوگ، جب کھانا لگا ہوا ہے تو الگ الگ سے پلیٹوں میں بھر بھر کے لانے کی کیا ضرورت ہے جتنا کھانا ہے اتنا لیں۔
فلسطین کا حال دیکھنے کے بعد ایک دانہ ضائع کرنا گناہ سے کم نہیں! اللہ ہی کی پناہ!چلیں بلانے والوں کو اللہ بہت عزت دے اور ان کی خوشیوں کو سلامت رکھے لیکن مہمانوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ وقت کا خیال رکھیں ۔ بقول ہمارے سسر مرحوم،عداوت نہ بنائیں کہ لوگ تکلیف میں آجائیں۔ اسی طرح کھانے میں ایک دوڈیشزکافی ہیں۔ اتنے آئٹمز! کہ سب چیک تک نہ کر سکو، کتنوں کو تو دیکھا تک نہیں جاتا، پھر ہم کہتے ہیں مہنگائی بہت ہو گئی ہے ۔یہ اسراف! تضاد قوتیں کیسے کام کریں گی؟ کیسے کام چلے گا؟جن چیزوں کو ہم نے آگے بڑھانا ہے وہ انتہائی پیچھے چلی گئیں۔اخلاقیات، وقت کی پابندی، تہذیب تمیز، وقت کی قدر، بے پردگی ناج گانے وہ بھی مخلو ط، پھر مزید انتظار رسمیں! مزید دیر واپسی کا مسئلہ جن کے پاس گاڑی نہ ہو ان کی خواری، پانچ گھنٹے کہیں نہیں گئے! ہم اپنی تمام حدود و قیود کو توڑ کر گناہ میں ملوث ہوتے ہیں۔
اس میں سارے ہم سب شامل ہیں،تو میں سوچنے لگی کہ ہم نے کیا کھو یا کیا پایا؟ جب اتنی رات کو آکے سوتے ہیں تو یقین مانیں کہ صبح آنکھ بھی نہیں کھلتی اور فجر ضائع ہو جاتی ہے اور اس پر بھی پشیمانی ہوتی ہے کہ یا اللہ ہم نے کیا گناہ کیا؟ خوشی پر بھی اپنے سے باہر ہوگئے؟ اللہ ہمارے خطاؤں کو معاف کرے ہمیں خود سنبھال لے۔ اللہ پاک! ہم تجھ سے ان تمام برائیوں سے بچنے کی توفیق مانگتے ہیں۔اللہ ہم سب کو نیک ہدایت دے، اخلاق دے، کردار دے،ہمارا تو دین ہی سراسر اخلاق ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ اللہ ہم سے راضی ہو جائے اور ہمیں تمام گندگیاں تمام غلاظتوں سے دور فرما ہمیں خالص بنا دے اپنی تعلیمات پر چلنے والا ہمیں بنا دے۔(آمین یا رب العالمین)۔اس لئے اسلامی نظام کا نفاز کا شعور جگا دے، اجتماع عام میں آئیں اور مقصد پائیں، صالح قیادت، محنت محبت،بر وقت متحد ہوں، عوام منظم ہو! یا رب! آپ ہوں ہمیشہ مہربان۔آمین





































