
لطیف النساء
پاکستان کے حالات کو بدلنے کے لیے ہمیں شریعت رسولؐ کی پوری طرح پاسداری کرنی ہوگی، واقعی رسول اللہ ﷺ کا
کتنا بڑا معجزہ ہے کہ محض 23 سال کی مدت میں کسی ایک محلے،خاندان، گاؤں، شہر تو کیا پورے جزیرہ عرب کی کایا کیسے پلٹی کہ ایک بدوی انسان کے اندر سے ایک نیا عظیم الشان کردار سامنے آیا گویا کیسےکفر و شرک میں لدے ہوئے لوگ انقلابی صورت میں ایک بالکل نئی اور معزز تہذیب و تمدن کی مثالی معمار بننے لگے کیونکہ آپ نے جو کچھ کہا خود اس پر عمل کر کے دکھایا، آپ ؐکی تبلیغ عملی تھی، مثالی اور اپنی ذات سے وابستہ تھی کیونکہ آپ لوگوں کو عملی محبت کا ثبوت تک فراہم کر دیتے تھے، محبت کا تعلق تو عمل سے ہی ہے قلبی محبت ہی وہ پاکیزہ جذبہ ہے جو اطاعت پر مبنی ہو یا اطاعت شخصی ہو یا اجتماعی لیکن رب کی اطاعت، رسول ؐکی اطاعت ہمارے ایمان کا اولین جز ہے جسے نظر انداز نہیں کر سکتے کبھی بھی نہیں!
ہمارا تو اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی صرف زبانی کلامی نہیں ہے بلکہ دستور مملکت اعلانیہ تھی کہ شریعت بالادست ہے!اب سوچیں اسلامی تعلیمات کوملک میں اب تک نافذ نہ کرنا کیا دستور پاکستان کی خلاف ورزی نہیں سمجھی جائے گی؟ آپ ؐکا قانون شریعت ایک نظام تھا یہ محض چند اخلاقی اصول نہ تھے یعنی آپ ؐنے تو عبادات اور زندگی کے تمام ہی معاملات میں رہنمائی عطا کی۔قرآن کی تلاوت کے ساتھ ساتھ شریعت کے تمام اسرار و رموز واضح کیے اس لیے تو امت محمدیؐ رحمت باری تعالیٰ کی حقدار ہوئی گویا آپؐ کا طرز عمل بتاتا ہے کہ آ پ دنیا کو کو کیسے برتتے تھے؟ پوری انسانیت کے لیے اسو ہ و نمونہ آج بھی شفاف چشمے سے سیرابی کے لیے حاصل ہے سبحان اللہ! قران و سنت کی اس ابدی عالمی سچائی کا قرآن میں بتا دیا گیا ہے ۔
بے شک اللہ ہی قوی اور بڑا زبردست ہے،اس لیے سورۃ المجادلہ میں سمجھا دیا گیا ہے کہ بے شک اللہ اور اس کے رسول ؐہی غالب رہیں گے۔جب امت کی خواتین تعلیم و تربیت کے لیے عملی نمونہ پیش کریں گی،تعلیم و تربیت اور کردار کو نکھاریں گی تو معاشرے خود بخود سدھر جائیں گے انشاء اللہ!اسلام مجرم سے تک نفرت نہیں کرتامگر جرم سے نفرت کرتا ہے ۔تو بہ بھی سچی ،پر خلوص قابل قبول ہے۔
رجوع الی اللہ کی جانب راغب کرنے والی شرمساری کتنی بہتر ہے۔ اس گناہ سے جو نیکیاں کر کے کیا جاتا ہے گویا بڑائی دکھانا یا اکڑنا غرور و تکبر جتانا۔ یہ معاشرتی برائیاں ہمیں دوبارہ توبہ پر اگر اکسائیں ،تو گویا استغفار کرنا تسبیح پڑھنا بنا یہ محسوس کیے کہ ذات باری تعالی کی عظمت جو عظیم ہے محسوس نہ کر کے نافرمانی کیسے ہو گئی؟ ندامت اور توبہ دراصل اس ذات کی عظمت، کبریائی، رحیم اور عزیز ہونے کا احساس ہی تو ہے جس کی نافرمانی کی۔ اللہ ہمیں سچی توبہ کرنے اور اپنے کریم رب کو راضی رکھنے کی توفیق دے۔ ہمارے اجتماع عام کا یہی پیغام ہے، انفرادی اجتماعی سطح پر دین کا عملی نفاذ ہے۔
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































