
لطیف النساء
کہنے کو یہ ایک دن ہے جسے یوم انسانی حقوق کہا جا رہا ہے.بے حسوں کیلئے چلیں یہ ایک دن ہی سہی مگر میری نظر میں تو ہر
لمحہ انسانی حقوق سے مشروط ہونا چاہیے ورنہ تو انسانیت کا جنازہ ہی نکلتا رہے گا ہر لمحہ کوئی نئی خبر لمحے دولمحے کی کوتاہی نسلوں کو بھگتنا پڑتی ہے تو انسانی حقوق کا دن کس لیے؟ ہر لمحہ انسانیت کا ہو انسانیت کیلے ہو! کیا چیز ہے انسانیت؟ کتنی لاجواب مؤ ثر اور ہمدردی کا احساس ہے جو دل کو سکون اور اعضاء کی تھکان اتار کر بندے کی روح خوش کر دیتا ہے مگر کرنے والا دل احساس رکھنے والا ضمیر اور فوری برملا درست فیصلہ کرنے والا انسان ہی ہوتا ہے جسے ہم تو فرشتے سے ملا دیتے ہیں۔ انڈین فلم تھی" تارے زمین پر" لیکن سبق سب کے لیے تھا, انسانیت چھپی تھی. پچھلے دنوں وہ کراچی کا ایک معصوم تین سالہ بچہ کیسے گٹر میں گر گیا اور انسانیت کا درد رکھنے والا ایک دوسرا بچہ جس نے اسے کیسے تڑپ کر نکالا؟ اگرچہ وہ مرا ہوا تھا مگر یہی انسانیت ہے۔
اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا
بچپن سے سن رہے ہیں اس گانے کواور اس کے مقصد کو پورا کرنے کا شوق دل میں لیے کوششیں کرتے رہتے ہیں لیکن راہ کے پتھر بہت ہی زیادہ ہوتے جا رہے ہیں بس چنتے رہیں تاکہ آنے والا زخمی نہ ہو اور آپ سرخرو رہیں، انسانیت زندہ رہے، اللہ کی ہزار نعمتیں ہیں جنہیں ہم دیکھتے ہیں اور بعض تو دیکھنے سے بھی قاصر ہیں لیکن پھر سب اپنا اپنا کام رب کی اطاعت کیلئے مسلسل کر رہے ہیں لیکن کہیں فساد نہیں کرتے مگر یہ انسان ہے جسے تھوڑا سا اختیار کیا مل گیا وہ تو نراجانوروں سے بھی بدتر بن بیٹھا، درندگی کی ایک مثال ہو تو کہوں! یہاں تو ہزار طرح کے مظالم، زہریلے میزائل،آلات،ٹیکنالوجی،میڈیا،بھوک پیاس، بے بسی، بے کسی سے قتل وغارت گری،دادا گیری ،بے حیائی، منشیات فروشی ہر طرح کے ظلم ہو رہے ہیں۔
میڈیا کی اپنی ایک نہ ختم ہونے والی جنگ، تباہ کن جنگ، گھر گھر فساد پھیلائے ہوئے،بچوں بڑوں کو، ان کے وقت کو، زندگیوں کو، ان کے سالوں کو مسلسل زوال دے رہی ہے، والدین بے پرواہ بھی ہیں اور ٹریپ بھی ہو چکے ہیں کیونکہ وہ میڈیا اور اس ٹیکنالوجی کے ہاتھوں مجبور ہے، منشیات کا پورا مافیا چل رہا ہے،غیر منصف عدلیہ اور حکمرانوں کی حکمرانیاں سب ایک بڑا مشن ہے، سب یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ مجبور ہیں اف اللہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتے،ایسا ہی ہے بچے تو بچے نا سمجھ مگر بڑوں کے باپ بنتے جا رہے ہیں تو بڑے بھی انہی اسکرینوں میں جتے ہوئے ہیں۔ کوئی گیمز کھیل رہا ہے تو کوئی فلمیں تو کوئی مختلف طرح کی ریلز، کوئی خرافاتی کام اور کوئی جوا،اللہ کی پناہ!مقصد حیات بھول بیٹھاہے۔ اچانک خبر آئی کہ بنارس میں چوروں کی عید ہو گئی،دو گھنٹے کی ٹریفک جام میں پھنسا بندہ کہہ رہا تھا کہ ہر دوسرا بندہ کہتا ہوا گزر رہا ہے کہ میں لٹ گیا،موبائل چھیننے والے چور، ڈکیت 80 سے زیادہ موبائل چھین چکے یہ ریل بنانے والے بندے کا موبائل اتفاقیہ بج گیا جس کی پاکٹ کٹ چکی تھی تو اس نے یہ بتایا،پھر حکمرانوں کو بدوعا دینے لگا کہاں گئی انسانیت؟!اسی طرح چور بازاری کا بازار دو گھنٹے تک رہا بس اللہ ہی ہمارا بھرم رکھتا ہے پھر بہاولپور کا واقعہ کہ دائیں ہاتھ میں چرس لیے بندے کو گرفتار کیا گیا جو 19 ماہ کی سزا بھگت چکا لیکن ایک وکیل نے بالآخر فیصلہ کروایا،بے گناہ ثابت کروایا کیونکہ اس کا دایاں ہاتھ ہی نہ تھا تو ثابت ہوا کہ اس نے کوئی افیون یا چرس چوری نہیں کی تو کہاں گئی؟ اس کا انصاف،کہاں گیا اس کے 19 ماہ جو اس کی بیوی بچوں اور فیملی نے اور خود اس نے کتنے کرب اور تکلیف میں گزارے ہوں گے، اس کو انصاف کون دے گا؟اللہ نے قیامت اسی لیے تو بنائی ہوئی ہے پھر ایک اور خبر کے اب تو بچوں کو بھی چور بنا دیا گیا کہ بزرگ خریداری کر رہے ہیں دو بچے آئے 12 سال کا ہوگا،دوسرا کوئی بمشکل نودس سال کا ہوگا، 12 سال کا بچہ اپنی مصروف نظریں رکھا ہوا مستقل اپنے مشن پہ تیار جبکہ دوسرا بچہ کبھی آگے کبھی پیچھے،ان بزرگ کے پیچھے چپکے سے جیب کو اوپر کیا اور دوسرے ہاتھ سے موبائل صفائی سے نکال کر پلٹ کر یہ جا وہ جا، دوسرا ساتھی نگہبان کچھ دیر بعدچلا گیا، بزرگ بھی آرام سے نکل کر گھر جا کرسر پیٹ رہے ہونگے،قیامت گزری ہوگی، سب کچھ ہو رہا ہے مگر انسانیت مر چکی ہے۔
جب انسانی حقوق کے عالمی دن بنائیں تو کم از کم اتنا سوچیں کیوں دوسروں کو لوٹ کر سکھ پاتے ہو؟ لٹ جاؤ گے ایک دن اور نہ بھی لٹے تو کیا ہوا،ذرا دیر کے بعد اندھیرا ہے، ہرگز کوئی نہ بچ پائے گا کیونکہ آخرت کا ایک دن ہے لہٰذا انسانی حقوق کو اولین ترجیح دیجیے،اپنا انسان ہونے کا رول ادا کیجئے،عورتوں کا استحصال کہیں مردوں کا استحصال! کس طرح کے مرد ہیں یہ؟کہ جو قوام ہی نہیں بدنام ہیں۔ اس عورت کو جو شادی کے تین سال تک ماں نہ بن سکی اور کینسر میں مبتلا ہو گئی تو اس کو گھر بٹھا دیا گیا بڑی مشکل سے صلح صفائی کے بعد واپس علاج کر کے ماں باپ نے بھیجا، دو چار سال رہے اور اس کے بعد دوبارہ ساری چیزیں ضبط کر کے خالی خولی اس 28 سالہ لڑکی کو واپس گھر طلاق دے کر بھجوا دیا،یہ کیسی انسانیت ہے؟یہ کیسا رویہ ہے، انسانیت مر چکی ہے لیکن بہت سی جگہوں پر انسانیت باقی ہے شاید اسی کی وجہ سے دنیا بھی باقی ہے۔ ا
للہ نے ہمارے ہی لیے دنیا سجائی ہے، دنیا کا امن ہم سے وابستہ ہے،اس کی قدر کرو، انسانیت کو ایسا پیغام دو جو علم کا ظہور اور اللہ تک رسائی کا واحد ذریعہ ہے، آدمی کاکام بولتا ہے،بنو قابل بنو عالم معلم بنو اللہ کے بندے یعنی غلام، کرو اچھے کام تاکہ اداکریں حقوق انسان، کیا واقعی ہم انسان ہیں؟ اگر انسان ہیں تو یقینا انسانی حقوق کا عالمی دن نہیں ہر لمحہ انسان کی تقدس کا عزت واحترام کا ہمدردی کا ہونا چاہیے، عزت اور احترام کا درس لے کرجس تہذیب واخلاق کو سیکھ کر عمل کر کے آپ دونوں جہاں میں سرخروہوں گے اور یہ دنیا امن کا گہوارہ ہوگی۔ فلسطین اور غزہ، سوڈان بوسینیا،کشمیر جیسا حشرکبھی نہ ہوتا!کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اس دنیا میں فساد پسند نہیں ہے۔ہمیں سوچناہوگا، عمل بدلنا ہوگا، مسلم ہی نہیں غیر مسلم بھی انسانیت سمجھتے ہیں تو تضاد روئیے کیسے؟اے اللہ! ہم سب سے راضی ہو اور انسانی حق کا عالمی دن یا یوم پر صحیح معنوں میں انسان کو انسان بننے کا رتبہ دے اور انسان کو انسانیت پر عمل کرنے کی توفیق دے تو ہی اس کا مقصد ادا ہوگا ورنہ ایسے دن بنانے کا کوئی مقصد نہیں ہے بلکہ دو تضاد کام ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو اور ہم میں انسانیت پیدا کرے اور ہمارے ضمیر کو زندہ رکھے۔ آمین یا رب العالمین





































