
لطیف النساء
کسی ٹاؤن میں جو بڑا پرسکون تھا لوگ اطمینان سے کام کرتے تھے، مصروف زندگی
تھی،روزانہ صبح اخبار والے اور چائے کی خوشبو مطلب بیکریاں سب معمول کے مطابق چل رہا تھا کہ ایک دن ایک اخبار میں اشتہار آیا کہ "والدین برائے فروخت" اشتہار میں آگے لکھا ہوا تھا کہ میرا باپ 93 سال کا ہے اور بھولنے کی بیماری ہے،میری ماں 87 سال کی ہیں، سہارے کے بغیر نہیں چل سکتیں، 10 ہزار ڈالر ان کی قیمت ہے، برائے فروخت ہیں۔
سب لوگ حیران ہو گئے!اشتہار پڑھ کر کہ یہ ذہنی بیمار اور ایسی بیمار ماں کوکون خریدے گا؟ اور یہ تو بہت عجیب بات ہے کسی نے کہا یہ تو گناہ ہے،کسی نے کہا یہ کتنی بری بات ہے ،یہ تو اچھی بات نہیں، کسی نے کہا کہ کون اتنے سارے پیسے دے کرخود کومصیبت میں ڈالے؟غرض جتنے منہ اتنی باتیں،کچھ پریشان ہوئے اور کچھ حیران! ان ہی میں سے ایک نوجوان جوڑا آگے آیا اور اس نے کہا کہ'' ہم انہیں لینے کوتیار ہیں، بہرحال وہ گئے، انہوں نے پیسے بینک میں ادا کئے اور وہ مطلوبہ ایڈریس پر پہنچ گئے تو دیکھا کہ بہت اچھا گھر تھا اور دروازہ کھلا اور بہت اچھے سے ان کا استقبال کیا گیا اور ایک معزز آدمی نے کہا اندر آئیے جب وہ اندر آئے تو انہوں نے کہا تشریف رکھئے تو انہوں نے اس معزز شخص سے کہاجو بہت بڑی عمر کے تھے کہ ہم نے پیسے ادا کر دیئے ہیں اور ہم والدین کو لینے آئے ہیں۔
ہماراخیال یہ تھا کہ کوئی بہت غریب اور ضرورت مند جوڑا ہوگا؟ جن کو ہم لینا چاہتے ہیں لیکن آپ تو ایسے نہیں لگتے؟تو ان محترم نے کہاآپ تشریف رکھئے اور آپ پہلے مجھے یہ بتائیے کہ آپ کیوں ان دو ضعیف لوگوں کو خریدنا چاہتے ہیں، وہ بھی اتنی بڑی رقم کے ساتھ تو اس میں آپ کا کیا بھلا ہے؟ جب کہ دونوں مجبوریاں ہیں! تو انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور کہا کہ اصل میں ہم بہت عرصے پہلے اپنے ماں باپ کو کھو چکے ہیں اور ہمارے دو چھوٹے بچے ہیں ،ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے اپنے گرینڈ فادر گرینڈ مدر مطلب اپنی نانا نانی دادا دادی کے روپ میں ان کی گودوں پر رانوں پر آرام کریں، ان کی گودوں میں رہیں، کھیلیں، ان سے تہذیب تمیز سیکھیں، ان سے کہانیاں سنیں مستیاں کریں اور ان کے ساتھ خوش رہیں،پیار کر یں اور گھر میں سب خوش رہیں۔
بچے اور ہم بھی ایسا ہی چاہتے ہیں, اس لیے ہم نے سوچا کہ ہم ان کو اپنے گھر لے جائیں گے اور ان کی خدمت کریں گے اور انسانیت کا حق ادا کریں گے تو اتنے میں محترم بزرگ شخص نے اپنی بیگم کو آواز دی جو لاٹھی ٹیکتی ہوئی آئیں اور بیٹھ گئیں اور بہت خوشی سے ،انہوں نے کہا کہ '' ہم بھی بہت اچھے تھے، ہم نے محنت کی بہت کام کرکے کمایا، ہم نے مزدوری کی اور ہم نے یہ گھر بنایا لیکن ہماری قسمت میں اولاد نہیں تھی اس لیے ہم اکیلے رہ گئے اور ہم نے سوچا کہ ہم کسی بہت ہی ضرورت مند کو یہ دولت اور یہ گھر دے دیں تاکہ وہ بھی خوش رہیں اور ہم بھی صحیح جگہ پر اپنے پیسے کو لگائیں۔
ہم نے خود یہ اشتہاراخبار میں لگایا تاکہ مخلص لوگ ملیں اور سب سکھی ہو ں۔ ہم خوش ہیں کہ آپ لوگ ہمیں مل گئے واقعی اصلی محبت کردار میں ہوتی ہے، کسی دولت یا عہدے میں نہیں بلکہ خلوص ہمدردی چاہت پیار میں ہوتی ہے جو وہ اپنے بچوں کے لیے اپنی زندگی کے تجربات لئے ہوئے ادا کرتے ہیں۔ ان کو کہانیاں سنا کر ان کی کردار سازی کرتے ہیں.اپنی زندگی کے تجربات سے ان کوہیرے کی طرح تراشتے ہیں، منظم اور مہذب مفید شہری بناتے ہیں ,اپنا فرض سمجھ کر اور خوشی خوشی ماں باپ پر بھی نہال اور ضعیفوں کے اعمال! اور کیاچاہیے؟ جو کوئی کتابیں اسکول کالج نہیں دے سکتے اور اس طرح مضبوط اور مستحکم معاشرے کی بنیاد میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے والدین کبھی بوجھ نہیں ہوتے بلکہ رحمت ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہمارے اسلام میں بھی یہ ہے کہ انہیں اُف تک نہ کہو،اس کا مطلب ہے کہ عزت دو گے تو عزت برکت سب ملے گی اور معاشرہ بھی معزز اور مستحکم ہو گاجو دراصل اس دنیا کا حسن ہے اور یہی حسن مسلمانوں کی پہچان ہے، جسے ہم شاید بھولتے جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے اور والدین کوعزت سے رکھنا اور عزت سے رہنا نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین





































