
لطیف النساء
قائد اعظمؒ محمد علی جناح کی کاوشوں اور ان کی رات دن کی مسلسل محنت پر جو انہوں نے پاکستان کے حصول کیلئے کیں، ان کی
ذاتی صفات،ان کا ایمان،نظم وضبط، ملک کے اتحاد، تنظیم اور یقین،ان کا خاص طریقہ تھا کہ واقعی اتحاد ہی ہے جو ایک طاقت ہے اور منظم ہو تو تنظیم کے ساتھ کیا ہوا کام ہی انعام ہے۔ انہوں نے اتنی بیماری کے باوجود بھی ذمہ دارانہ کردار نبھایا۔حکومت کا پیسہ کسی صورت بھی ضائع نہ ہو، ملک بن جائے۔ سبحان اللہ!وہ چاہتے تھے کہ وہ اپنی زندگی میں اس کی بہاریں دیکھیں سبحان اللہ! آخرکار انھیں یہ کامیابی مل گئی شکر الحمدللہ! واقعی "
یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
اے قائداعظم تیرا احسان ہے تیرااحسان
وقت کی پابندی کا،منظم زندگی کا درس انہوں نے دیا،اپنی ہی زندگی کے کردار سے انہوں نے لوگوں کے اندر وفاداری، صفائی، وقت کی قدر کرنا اور حکومتی پیسوں کو دردمندی سے خرچ کرنا سکھایا۔ ایسی قائدانہ صلاحیتیں تھیں جن کے ہم بہت شکر گزار ہیں۔ یہ انہی کی قربانیاں تھیں کہ ہمیں ایک آزاد ملک ملا۔ ہم اذان سنتے ہیں، اپنی عبادت گاہوں میں آسانی سے عبادت کرتے ہیں، ہمیں اپنے ملک میں جو آزادی اور جو سکون ہے وہ کہیں اور ہمیں مل ہی نہیں سکتا حالانکہ اس دن کرسمس منایا جاتا ہے اور لوگ کرسمس مناتے ہیں، ٹھیک ہے اقلیتوں کا عیسائی برادری کا تہوار ہے، ان کی بھی چھٹی ہوتی ہے لیکن ہم قائد اعظم کا یوم پیدائش مناتے ہیں، مسلمانوں کیلئے بڑی بات ہے۔ ہماری آزادی، ہمارا پاکستان، ہماراملک اور اس کا مقصد ہمیں یاد رکھنا چاہیے کیونکہ عظیم لیڈر کا عظیم کام اور ان کی قربانیاں رنگ لائی ہیں اور یہ انہی کا ثمر ہے جو ہمیں اللہ نے دیا ہے۔
ان کی سادگی کو اپنائیں کہ انہوں نے کیسے کہا تھا کہ میٹنگ کے دوران جب لوگ لیٹ آئے تو انہوں نے کہا کہ یہ کرسیاں زیادہ کیوں ہیں تو کرسیاں ہٹوا دیں، ایک جگہ انہوں نے کہا کہ یہ ناشتہ کیوں رکھا گیا ہے تو یہ چائے پانی کا انتظام کیوں کیا؟لوگ گھر سے چائے پی کر نہیں آتے؟گورنمنٹ کے پیسے پہ لوگوں کا زیادہ حق نہیں ہے،پھر اسی طرح الحمدللہ!انہوں نے اپنے کام کا صلہ پایا اور جب پاکستان بن گیا تو وہ کوئٹہ سے کراچی آئے،بیماری میں بھی انہوں نے کتنی کفایت شعاری کا ثبوت دیا کہ کمرے سے اترتے وقت کمرے کی لائٹ بند کر کے آتے تھے اور لائٹیں بند رکھنے کا حکم دیتے تھے اور اپنے سرکاری کُک سے بھی بیماری کے دوران بنا کر پکائے گئے کھانے کو کھایا لیکن اس کو اس کے پیسے اور اس کی قدردانی کی اور اپنی بہن کا ساتھ دیا ان کے ساتھ کتنا اچھا سلوک،یہ سب کیا ہم بھول جائیں؟ یہ وہ ہمارے قائد ہیں جنہوں نے ہمیں جس مقصد کے لیے پاکستان بنا کے دیا تھا کہ اسلام کا نفاذ کریں گے،عدل کا نظام نافذ کریں گے اور اس پر ہمیں زور دینا چاہیے، اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی ہم ابھی تک چوری چکاری، بے انصافی،کاہلی، تیری میری میں لگے ہوئے ہیں!چیزوں میں سب ناانصافی،عدل کا نظام نہیں ہے۔
آج تک ہم کوئی ایسا انتظام نہیں کر سکے، اسلام کا نفاذ نہیں کر سکے، جس مقصد کے لیے ہم نے پاکستان لیا تھا اس مقصد کو ادا نہیں کر سکے، اسی لیے تو اب نوجوان نسل اٹھ رہی ہے،اب عوام اٹھی ہے جاگیں اور جگائیں شکر الحمدللہ!کہ اللہ تعالی ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے قائد کی قائدانہ صلاحیتوں کو ان کے مشن کو جان سکیں اور اپنے ملک میں اسلام کا نفاذ کر کے قائد اعظم کی روح کو سکون دیں اور ان کی دی ہوئی قربانیوں کا حق اس طرح ادا کریں جس مقصد کے لیے پاکستان حاصل کیا گیا تھا، اس کوکبھی فراموش نہ کر کے اپنے اندر اتحاد، تنظیم اور یقین بڑھائیں۔
محنت صبح شام کریں ہم
روشن ملک کا نام کریں ہم
ہردم رب کا شکر کریں، اپنے قائد کا بھی حق ادا کریں۔ اللہ ہماری مدد فرمائے۔آمین





































