
لطیف النساء
تھکن کا نام بھی نہ لو چلو بڑھے چلو، کبھی سنا تھا تو آج ذہن میں آگیا سوچا کہ کیوں نہ اس اجتماع عام کی تیاری بتاؤں کہ کس طرح
ٹرینوں میں لوگ جا رہے ہیں کہ کسئ کی ٹرین تین گھنٹے لیٹ ہے ،کسی کی ڈھائی گھنٹے لیٹ ہے اور پھر بھی لوگ جا رہے ہیں۔ جمعہ کا دن نماز ہوئی خطبہ دعا پھرخطاب ترانہ سبحان اللہ !جگہ کم پڑ گئی۔ لوگوں نے پہلے سے ہوٹل بک کروا ئے تھے۔ کئی تکالیف ہوں گئی کیونکہ یہ اللہ کے لیے نکلے ہیں تو اللہ ہی اس کا اجر دے گا ہر طرح کی تکلیف اور خوشی سہہ کر ہی مقصد حاصل کرنا ہے۔ مقامی لوگوں کو گھروں ہی میں رہنےکو بہتر سمجھا، پھر لوگوں میں جوش اور جذبہ پایا گیا بہت سے لوگوں کا مجھ سمیت جو نہ جا سکے ،کمی محسوس کر رہے ہیں کہ جانے سے جو ان کو تقویت ہوتی ، غزوہ تبوک والی بات تھی جو لوگ نہیں جا سکے تھے تو وہ کافی محروم تھے لیکن اللہ تعالیٰ دلوں کے حالت کو جانتا ہے۔
ہوا ہو بارش ہر مشکل میں صبر اور شکر کے دامن کو ہاتھ سے نہ چھوڑیں کیونکہ وہاں پر مختلف شعبے کے لیے الگ الگ طرح کے سیشنز بنائے گئے ہیں، یہاں تک کہ عبائے خواتین میں کلراسکارف کے ذریعے نمایاں پہچان رکھی گئی تاکہ پہچاننے میں آسانی ہو جو بھی ہو جیسا بھی ہو مقصد حاصل کرنا ا ہم بات ہے تو گہرا نیلا رنگ نظم و ضبط کے لیے جو کچھ وہ کر سکتے تھے انہوں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر کیا ہے کہ ظاہربات ہے جب پبلک زیادہ ہو جائے تو اس کو سنبھالنا اہم ہوتا ہے،لیکن جب لوگ اچھی طرح سے منظم ہونے کی بات کرتے ہیں ایسے ہی مشکل حالات میں غیر یقینی کیفیات میں ہی لوگوں کو منظم اور متحد ہونا سیکھنا پڑتا ہے۔
ایک دوسرے کی مدد کرناپڑتی ہے، مسلمان چاہے کہیں بھی ہو ان کے جذبے نیک، ہمت جواں ہو تو وہ کام ہی رنگ لاتا ہے، جیسے بارشوں میں کراچی میں لوگوں نے اپنے دروازے کھول دیے تھے ۔ان لوگوں کے لیے، ان کی حفاظت کی، کس طرح ایک دوسرے کی مدد کی تو یہاں پر بھی یہ جم غفیر ہے اور اجتماع بڑا ہے قوم متحد ہے منظم ہے یہی ہونا چاہے اور وہ ایک اعلیٰ مقصد کے لیے اعلیٰ قیادت اور صالح قیادت کے لیے نکلی ہے تاکہ جتنی بھی پریشانیاں تعلیم کے شعبے میں صحت کے شعبے میں ٹیکنالوجی سیاسی انتظامی دفاعی شعبے میں جو بھی کمی بیشی ہے اس کو ختم کیا جائے ،اس کو درست کیا جائے، نظام بدلا جائے کیونکہ تعلیمی حالت ٹھیک ہوگی تو ہر چیز صحیح ہوگی۔
صحت ٹھیک ہوگی تو بہتر طور پر کام ہو گا اور ملک ترقی کرے گا تو اس طرح مختلف معزز شخصیات سے تقاریر کے لیے کہا گیا تو جیسے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ وہ کئی ممالک میں گئے ہوئے ہیں اور صحت سے متعلق پاکستان کا نظام بالکل منفرد ہے کیونکہ قومی آمدن کا ایک اعشاریہ دو فیصد ہے، وہ صحت پر خرچ ہوتا ہے جو بہت کم ہے کیونکہ پاکستان میں ہر وقت بیماریاں سر اٹھائے ہیں۔ وسائل کی کمی کے باوجود پاکستان میں بہترین لوگ موجود ہیں جو اس کو لے کر چل رہے ہیں۔ بڑے بڑے اداروں میں پاکستان اپنا لوہا منوا چکا ہے۔ یورپ جانے کے لیے 8 ہزار سے زیادہ درخواستیں دی ہوئی ہیں تو خود ہمارے ہاں ملازمتیں تدریسی ہاسپٹل ہونے چاہئیں۔ اکثر ڈاکٹرز ادویات کی کمی بد انتظامی، مددگار عملے کی کمی کا شکار ہیں۔
پاکستان میں شوگر کی بیماریاں، دل کی بیماریاں، آنکھوں کی بیماریاں ہر روز ان میں اضافہ ہو رہا ہے اس سے پریشان ہیں جس کے لیے ہمیں اقدامات کرنے ہیں اور اس میں نظام خراب ہونے کی وجہ سے ریگولیشن اچھا ہو نظام اچھا ہو تو پھر ساری چیزوں میں بہتری ا اگر ہم اچھی اعلیٰ قیادت کو لائیں گے نظام کو درست کریں گے اور ایسے بجٹ بنائیں، اپنے محدود وسائل میں ایمانداری سے کام کریں گے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم کسی بھی شعبے میں کسی سے کم ہوں کیونکہ سب سے اہم چیز جو ہے وہ صحت ہے اور اس کے بعد تعلیم تعلیم وہ ہتھیار ہے جس کے بعد ہم آگے بڑھ سکتے ہیں بشرطیکہ ہمارے تنظیمی معاملات بدنظمی اور کرپشن کا شکار نہ ہوں کیونکہ ہر طرح کی تعلیمی اور تدریسی عمل مخلص ہو کر صالح لوگوں کے ہاتھوں میں ہو نیک نیتی سے ہو تو ضرور وہ رنگ لاتا ہے تو اس طرح کی تعلیم کو عام کرنے کے لیے حکومت کو نظام بدلنے کی ضرورت ہے اور اسی لیے یہ اجتماع ظہور پذیر ہوا ہے کہ اجتماع عام بدل دو نظام۔
شعوری طور پر نوجوان سامنے آئیں نوجوان ہی سے خطاب ہے کہ یہ آنے والے مستقبل کے معمار ہیں اور انہیں اگر صحت اور تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے اور منظم اور متحد ہونے اور دین کی تمام ضابطوں کو سامنے رکھتے ہوئے ان کو عملی طور پر سامنے رکھ کر ایمانداری کے ساتھ ہر شعبے میں کام کیا جائے تو ان شاء اللہ ضرور ہمارا ملک ترقی کر سکتا ہے اور ہم ضرور وسائل کی کمی کے باوجود تمام معاملات میں بہتری پا کر ملک کو آگےلے جا سکتے ہیں جیسے بنو قابل کا وژن ہے کہ نوکریاں نہیں ہیں تو کوئی بات نہیں انسان جدید تعلیم حاصل کریں اورآن لائن کام کر کے اور کئی جگہوں پر اپنے تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے ہنر کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر نوکریوں کے معاملے میں بھی خود کفیل ہوں۔ نظام کی تبدیلی اور کامیابی کے ساتھ اور سب خیر سے واپس لوٹیں، سکھ جین کے ساتھ ۔ آمین





































