
لطیف النساء
کتنی سادہ اور آسان انداز بیاں اور کسی ایک کے لیے نہیں بلکہ ہر شخص کے لیے ہر دور
کے لیے اتنا آسان کہ فوراً یاد ہو گیا اور خود بخود اپنی تفسیر سمجھاتا جا رہا ہے،آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے وہ کونسا شعر ہے شاعر مشرق علامہ اقبال کا؟ جی ہاں!
کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!
بیداری کا کیسا سبق! وقت کی کیسی قدر و قیمت، کیسے نظارے، رب کائنات کے اشارے، تحقیق کا سبق، تذکیر کا درس، معرفت کا ذریعہ، مظاہر قدرت کی رنگینیاں،گویا قدرت کے انمول اور بے کراں خزانے!بس انہی پر غور و فکر کریں، تدبر کریں، ان کے خالق کو جاننے کی کوشش کریں تو خود بخود آپ کے اندر رب کی کبریائی اور اس کی اپنے عظیم شاہکار اور نائب ارض یعنی اس بندے(شاعر مشرق علامہ اقبال میں آپ اور کوئی بھی) معرفت الٰہی حاصل کر ہی لیں گے۔ مجھے بچپن ہی سے علامہ اقبالؒ کی شاعری اچھی لگتی تھی۔ دوسری تیسری کلاس کے بچوں کی نظمیں آج تک زبانی یاد ہیں۔
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
جیسے پہاڑ اور گلہری، جگنو وغیرہ کتنے پر معنی اشعار اور کتنی سادہ زبان اور کتنے اہم پیغامات" ہمدردی" شاید اس میں ہی بلبل کی فریاد تھی جو کتنا پیارا پیغام ہے،بچپن سے ہی دل میں دوسروں کے لیے کبھی ہمدردی کا جذبہ رکھنا اخلاقی پیغام۔
سبحان اللہ!خالصتا ًبچوں کی نفسیات،عمر اور ذہنی سطح کے لحاظ سے بھرپور بے شمار نظمیں واقعی کمال کی رغبت لیے ہوئے۔ آج کل کتنی فالتوجھوٹی،بے پیر کی چیزیں، کارٹون، ان کی زبان، کردار سب چھوٹے، مار دھاڑ پر مبنی کردار عجیب و غریب، انوکھی بے تکی اشکال،شاعری نہیں،فلمیں، گیمز، ایموجیز یہ سب گیمز جس میں بچے لگے پڑے رہتے ہیں، گھنٹوں بجلی وقت اور اپنا آپ لٹا رہے ہوتے ہیں، ماحول سے،ماں باپ، رشتہ داروں سے بے پرواہ، اس چھوٹی سی مشین کے غلام ہو کر رہ جاتے ہیں جبکہ بسا اوقات والدین کو بھی ملوث کر لیتے ہیں۔ گھنٹوں بعد ہار جیت پر آکر بات ختم ہو جاتی ہے نہ دل سکون پاتا ہے نہ کوئی کردار شعور دلاتا ہے بلکہ ایک مایوسی یا قتل و غارت پر خوشی جیت کے چند لمحوں کے لیے ہوتی ہے پھر وقت کے ضائع ہونے کا اور ڈھیروں دیگر کاموں کے نامکمل ہونے کا افسوس اور ایک چڑ ہو جاتی ہے۔ اس ماحول کو دیکھتی ہوں تو خیال آتا ہے ہم کیسے علامہ اقبال ؒکی شاعری کئی کئی بار بہن بھائیوں، ماں باپ،چچا تایا یا دادا کو سناتے اور خوش ہوتے تھے، ایک دوسرے کو بھی بلند آواز میں سنا کر کتنا خوش ہوتے تھے اور آج بھی بس اسی لیے مجھے علامہ اقبالؒ کی شاعری حقیقی سچی اور ہمیشہ نئی اور دل کو لگتی ہے۔ اس لیے تو شاعر مشرق زندہ باد اور ان کی شاعری پائندہ باد۔





































