
لطیف النساء
ہم نے سنا ہی تھا کبھی گئے نہیں کہ جماعت اسلامی کا اجتماع پانچ سال میں ایک مرتبہ ہوتا ہے بہت بڑا اجتماع ہوتا ہے کہ سمجھو
کسی حد تک حج یا عمرے کی طرح لگتا ہے لیکن اس وقت تو 10 یا 11 سال کے بعد ہو رہا ہے الحمدللہ کتنی ہی کوششیں کریں کتنی خدمات اور خدشات کے بعد آخر کار اجتماع عام مینار پاکستان پر 21،22 اور 23 اکتوبر کو منعقد کیا گیا ہے۔
پاکستان وہ خوش قسمت ملک ہے جہاں 65 فیصد نوجوان طبقہ جو ہمارے مستقبل کا سرمایہ ہے اور ایک عرصے سے سیاسی جماعتوں کا حدف بن کر ضائع ہو رہا ہے, اب شعور پا چکا ہے کہ اسے اپنے رب کو جواب دینا ہے کہ جوانی کہاں گزار دی اس لیے جماعت اسلامی کی قیادت میں بنو قابل پروگراموں کی کامیابی اور دین کی سمجھ اور جماعتی رہنمائی میں وہ اپنے مقصد حیات کو الحمدللہ جانے لگے ہیں لہٰذا وہ اپنی زندگی اصل مقصد کے ساتھ اپنے دین اپنے فیملی اپنے ملک کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں اور خود کو تیار کرنا چاہتے یں۔جماعت اسلامی بھی انہی پاکستانی نوجوانوں کو ذمہ دار مسلمان ذمہ دار شہری غرض غیرت مند پاکستانی بنانا چاہتی ہے اس لیے مؤثر رہنمائی دے رہی ہے۔
اس سلسلے میں کئی پروگرامز ترتیب دے کر انہی کے ذریعے ملک کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار عطا کرنے کی طرف راغب ہے اس لیے انشاء اللہ ایک عظیم اجتماعیت کا بھرپور مظاہرہ ہوگا حکمران کے انتخاب سے لے کر نوجوانوں کو جمہوری آزادیاں تعلیم روزگار دینا اور اپنے حقوق کے لیے مٹھی بھر حکمران نے حکمران اشرافیہ سے نمٹنا ہی ان کا مقصد ہے اور عوام جو اب متحرک ہو چکی ہے، گویا اجتماع عام متحرک عوام اللہ نے چاہا تو ضرور انقلابی تبدیلیوں کی جانب گامزن ہوں گے، ہم سب نے سنا ہے کہ ایک فرد تبدیلی لا سکتا ہے فرق دیکھا جا سکتا ہے تو یہ جماعت اسلامی اللہ کی مدد سے بڑی کامیاب ہو سکتی ہے کیونکہ ہمارا مقصد سیاست میں اعلیٰ عہدہ مقبولیت یا اچھے نیک صالح قیاد ت ہے،ا چھے نیک صالح اعمال اپنا درجہ رکھتے ہیں،اکثربہت کچھ کر گزرنے کے باوجود کامیابی ہی نہیں ملتی تو ہمیں فوری کامیابی یا نتیجہ چاہنے کے لیے بھی صبر کرنا ہوگا ہم تو جانتے ہی ہیں کہ ہمیں تو بس صحیح کے لیے درستگی کے لیے جدوجہد کرنی ہے اور برائی کے خلاف ہونا ہے بھلائی کے لیے ہر ممکنہ جدوجہد جاری رکھنی ہے نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینا ہے یہی تو قومی صوبائی الیکشنوں میں بھی ہمارا وطیرہ رہا ہے کہ ہم ہمیشہ ہار جیت سے بالاتر ہو کر بس کام کرتے رہیں اور رکے نہیں:
کس قدر ٹوٹ کے بکھراہوں یہ دیکھا تم نے؟
کس قدر حوصلہ ہارے ہوئے انسان میں ہے
اللہ تعالی نے قران میں بیان فرمایا ہے کہ جنگ احد میں مسلمان ہار گئے تھے مگر اللہ تعالی مومنوں کے دل دیکھتا ہے ان کی نیتیں دیکھتا ہے، نیتوں پر ہی تو اٹھایا جائے گا کیونکہ تم سے بڑی چوٹ تو کفار کو بھی لگی تھی،ہر مومن کا کام یہ ہے کہ بس خلوص نیت سے اپنے حصے کا کام کرتے جائیں، انعام دینا اللہ کا کام ہے۔ ان شاء اللہ





































