
لطیف النساء
پریشان حال بندے کو پارک میں بینچ پر بیٹھا دیکھ کرعادت کےمطابق اس کے پاس جا بیٹھا۔میں معمولی پشتون تھا اوراکثراپنےآپ بڑبڑاتارہتا
تھا لہٰذا اس پریشان بیٹھےشخص کوکسی نہ کسی طرح باتیں کرنےاس کوسننےپرمجبورکرنےکےلیےکچھ نہ کچھ بات کرنے لگا۔ کرائے بہت زیادہ ہیں۔ مہنگائی بہت ہو گئی ہے، تو کبھی ٹرانسپورٹ یا لوگوں کے غیراسلامی لباس پر تبصرہ کرتا رہا تھوڑی دیر تو پریشان بندہ جس کا نام ناصر تھا میری باتیں سنتا رہا ،پھر جب اس کی کوفت بڑھنےلگی تو اس نےمجھ سے چھٹکارا پانے کے لیے جیب سے کچھ پیسے نکال کر میرے ہاتھ پر رکھ دیئے۔
میں نے حیرت سے نوٹوں کو دیکھا اورپھرمسکراتے ہوئے ناصر صاحب کو ہی پیسے واپس دیئےکیونکہ انہوں نےاپنا نام بھی بتا دیا تھا کہ میرے کئی گھر ہیں مگر میں نے کہا آپ دوسروں کو بھکاری سمجھتےہیں؟ آپ کا خیال ہوتا ہے کہ اگر کوئی غریب بندہ چند لمحے آپ کے ساتھ بیٹھ کر کچھ باتیں کر لے تو اس کا مقصد مدد لینا ہی ہوگا!نہیں صاحب ایسا نہیں ہے،وہ مؤدبانہ انداز سے کہنے لگا کہ بابو صاحب مجھ پر تو اللہ کا بڑا کرم ہے ،یہ پیسے آپ واپس رکھ لیں، روٹی پانی تو مالک دے دیتا ہے میں چوکیدار ہوں۔
میں تو اپنے مرحوم والد کی نصیحت پوری کر رہا تھا کہ اگرکسی پریشان آدمی کوملوتواس کوحوصلہ دینا یہ بڑی نیکی ہے۔ اسی غرض سے آپ کے پاس آ بیٹھا اور آپ مجھے بھکاری سمجھے۔اس نے معذرت چاہی پھر وہ پشتون نیم خاندہ یعنی کم لکھا پڑھا شخص اپنی داڑھی کھجاتے ہوئے پوچھنے لگا کیا تمہارے پاس گاڑی ہے، پیٹرول کی قیمت معلوم ہے بابو صاحب؟میں نے کہا گاڑیاں چار ہیں،ناصر میرا نام ہے پیٹرول ڈرائیور بھرواتا ہے اس لیے قیمت مجھے نہیں معلوم! وہ ہنسا اور کہا پھر تم اتنے پریشان کیوں ہو، بیوی بچے،گھر،دکان سب ٹھیک ہے،صحت مند ہیں۔ اس نے کہا سب خیر ہے بچے بڑے ہیں سب کے کاروبار ہیں بیوی اور بیٹیاں سب خیر میں ہیں۔میں نے پوچھا پھر بھی تم پریشان ہو؟ پھر اس نے پوچھا بابو صاحب خرچہ تو پورا ہو جاتا ہے نا؟ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا الحمدللہ خرچے میں کبھی تنگی نہ ہوئی پھر تو وہ اور زور سے ہنسا اور اپنے کھردرے ہاتھ سے میرا بازو پکڑ کر بولا بابو صاحب اس کے باوجود آپ پریشان ہیں اور منہ بنایا ہوا ہے آپ کو معلوم ہے کہ ٓاپ اسرائیلی ہو چکے ہیں۔
میں نے نادانستہ مسکرا کر کہا وہ کیسے؟ وہ سنجیدگی سےبولا آپ اگر قران مجیدپڑھیں تو اللہ پاک بار بار بنی اسرائیل سے کہتا ہے میں نے تمہیں یہ بھی دیا وہ بھی دیا ملک بھی دیا کھیت کھلیان دیئے، دشمنوں سے بچایا، من و سلوٰی تک دیا، عورتیں غلام کنیزیں بچے سب کچھ دیا اس کے باوجود تم ناشکرے ہو گئے اور میرا احسان کبھی نہ مانا۔ ہمارے مولوی صاحب کہتے ہیں ساری نعمتوں کے بعد بھی جب کوئی شخص ناشکری کرتا ہے اور اس کے احسان کو نہیں یاد کرتا ہو بنی اسرائیل ہو جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے بنی اسرائیل کی طرح ذلیل کرتا ہے اور سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ امن و سکون سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے مجھے آپ بنی اسرائیل لگ رہے ہو،سب کچھ ہونے کے باوجود یہاں بینچ پر پریشان بیٹھے ہو مجھے تو آپ پر ترس آ رہا ہے، مجھےجھٹکا سا لگا، میں شرمندگی اور خوف سے اس کی طرف دیکھنے لگا، میں لکھا پڑھا تجربہ کار بچپن سے اسلامی کتابیں پڑھتا، علماء کی صحبت میں بھی رہا لیکن یقین جانئے اسرائیل والی یہ بات دل کو لگی جو سمجھتا تھا کہ اللہ تعالی صرف یہودیوں سے کہہ رہے ہیں جبکہ اللہ کی نظر میں ہر احسان فراموش بنی اسرائیل ہی تو ہے لہٰذا قدرت اس کے ساتھ وہی سلوک کرتی ہے جو بنی اسرائیل کے ساتھ وادی سینا اور اسرائیل میں کیا تھا۔
آج فلسطین اورغزہ کےتناظر میں رکھ کر جب میں اپنےپاکستانی اوردیگراسلامی ممالک کےروئیے،خاموشی،غیرجانبداری کودیکھتی ہوں،تباہ حال مسلمانوں کی بے بسی اور بے کسی دیکھتی ہوں اپنے ملک کے حکمرانوں، افواج، لیڈروں اور تمام مسلمانوں کو دیکھتی ہوں تو میں خود تو کیا مجھ سمیت مجھے سارے لوگ ہی بنی اسرائیل لگتے ہیں جو ناشکری کا رونا روتے ہیں بہانےبناتےہیں اورامربالمعروف اورنہی عن المنکر سے انکاری ہیں۔ بس اللہ ہماری آنکھیں کھولے، شکر گزاری دے، احساس انسانیت دے، ایمان دے اورہمیں معاف فرمائے، ہم سب پر رحم فرمائے۔ اے رب تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند فرماتا ہے پس ہمیں معاف فرما اورمسلمانوں کی عزت بحال کردے، فلسطین غزہ اور دیگر تمام مسلمانوں پر رحم فرما کر ہدایت، شکر گزاری اور عافیت دے۔ آمین





































