
لطیف النساء
شکر الحمدللہ! قفل ٹوٹا خدا خدا کر کے۔اللہ واقعی تیرا رحم اورکرم اپنے بندوں پر،شکر ہے ۔پاک پروردگار انہیں من وسلویٰ کھلا، انہیں حضرت
سلیمان علیہ السلام جیسی صلاحیتیں عطا فرما کہ لمحوں میں دوبارہ اس اجڑے ہوئےشہروں کو ایسا پرسکون،پرامن، پرفضا اور خوشنما بنا دیں کہ دنیا دیکھے۔آمین اور آئندہ کبھی کہیں دوبارہ کوئی جنگ نہ ہو ۔
کبھی نہ ہو! لوگوں کو سمجھ آ جائےکہ اس دنیا میں امن ہی سلامت رکھنا تمام نوعِ آدم کی ذمہ داری ہے۔ایک صاحب امیراسماعیل نےاپنا ہلکا سا تعارف کروایا اور اپنے گھر کے بارے میں دکھ بھری خوشی بتا رہے ہیں کہ دو سال بعد کم از کم اس سُکھ کے ساتھ کہ اب کوئی بمباری نہ ہو ۔انہوں نے ٹوٹی پھوٹی جگہوں پر فلسطین کا جھنڈا لگایا ہوا ہے کہ کئی دفعہ ہمیں یہاں سے نکالا گیا۔ سردیاں آنے والی ہیں مگر بڑی مشکل سے جیسے تیسے مہنگی ترین بیکار ٹوٹی پھوٹی چیزوں سے کچھ نہ کچھ پکانےکے لیے آگ جلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
گھر کا دروازہ جو ٹوٹا ہوا تھا ،اس کو بیڈ بنایا کسی نہ کسی طرح،دو سالہ نسل کشی کے بعد ایک ملین لوگ جنہیں گھر کو چھوڑنا پڑا تھا اب مشکل سے دوبارہ گھر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور پر امید ہیں کہ کچھ نہ کچھ کر ہی لیں گے۔ ایک صاحب نے کہا یہ میرا ٹینٹ ہے میں نے کیسے کھانا پکانے کے برتن اور لکڑیاں جلا کر دھواں دھواں کیا اور کچھ بنانےکی کوشش کر رہا ہوں۔
امیر اسماعیل کہتے ہیں کہ میرے پیچھے دیکھیں! کیسے چھوٹےچھوٹےٹینٹ لگے ہیں وہ بھی اس طرح کھانے بنا رہے ہیں، کس طرح اس مختصر سفر میں یہ اتنے چھوٹے ٹینٹ میں سردی میں گرمی میں رہ رہے ہیں اس امید کے ساتھ کہ کبھی نہ کبھی ہم دوبارہ سنبھل جائیں گے! سورج کی توانائی سے کسی نہ کسی طرح فون چارج کر رہے ہیں۔ گھروں کو چھوڑ کر یہ لوگ کس طرح جنگلوں کے بجائے اور اب اتنے چھوٹے ٹینٹوں میں بھوک پیاس اور ضروریات زندگی کے باوجود زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں سے کتنوں کے پاس ٹینٹ تک نہیں ہیں ۔ یہ درختوں کے نیچے سوتے رہتے ہیں، جاگتے ہیں مگر اب بھی ہم پر امید ہیں کہ ہم سنبھل جائیں گے اور ہمیں دوبارہ آباد کاری کا موقع ملے گا۔ آزادی کے یہ لمحے ان کے لیے بڑی قوت ہیں۔ سورج کی طرح توانائی ان میں آگئی ہے اور وہ گیس کے بجائے چند لکڑیاں استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گیس نام کی کوئی چیز نہیں،لکڑیاں ملنا بھی ناممکن ہے۔
میں نے اتنی گرمی میں اپنے گھر کا دروازہ اپنا بیڈ بنایا اور کچھ لکڑیاں نکال کر جلائیں تقریبا ًہر جگہ کہ لوگ ایسا ہی کر رہے ہیں۔ امن میں میرا چھوٹا سا سفرہے۔ میرے اپنے ٹینٹ کا یہ خوبصورت منظر ہے مگر بہت دکھ دینے والا اور عجیب حالت ہے کہ تجربات بھی بہت تکلیف دہ اور انوکھے ہیں یہ کوئی میری ہی جرنی نہیں۔ بلکہ ہزاروں لوگوں کی کہانی ہے کیونکہ میں غزہ میں اپنے سب ساتھیوں کی طرف سے اپنی یہ جرنی یہ سفر پیش کر رہا ہوں۔مطمئن دل اور پرسکون چہرہ پر امید اور فاتح چہرہ اللہ اس چہرے کی چمک دمک اور خوشی کو چار چاند لگا دے۔آمین





































