
لطیف النساء
سبحان اللہ!میں نے تفسیرمیں پڑھا تھا کہ کیسے اذان کےالفاظ بنے؟ مجھےبڑی خوشی اورحیرت ہوئی اورمیں چاہتی تھی کہ سب کو بتاؤں اور
لوگ اذان کی اہمیت سمجھیں، کیوں مؤذن کا مقام ومرتبہ اتنابلند ہوگا؟ کہ چمکتے چہرے کے ساتھ آئیں گے،لوگ پوچھیں گےکہ یہ کون ہےتوآپ ﷺ نے فرمایا" یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں مؤذن تھے اور اذان دیا کرتے تھے "۔علامہ اقبالؒ نے فرمایا کہ اذان کی اہمیت کو جانو کہ یہ:
اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
نماز اس کے نظارے کا اک بہانہ بنی
سبحان اللہ!جب مسجدنبویؐ کی تعمیر کے بعد لوگ نمازکےلیےآتے تھےاندازےسےتوتجویزرکھی گئی کہ کوئی طریقہ جس سے لوگوں کو نماز کے وقت بلایا جا سکے؟ اذان کےالفاظ یعنی کلمات کیسے بنے؟چند دن بعد حضرت عبداللہ بن زید انصاریؓ مسجد نبویؐ میں تیزی سے جا رہے تھے نماز کے لیے! ان کے پیچھے پیچھےحضرت عمرفاروق اور دیگرلوگ تھےحضرت عبداللہ بن زیدؓ نے رسول اللہ ﷺسے ملاقات کے بعد فرمایا کہ یا رسول اللہ ﷺآج میں سویا جاگا سا تھاآج عجیب خواب دیکھا! کہ ایک شخص ایک ناقد بجنےوالا آلہ بیچ رہا ہے جو اچھا بج رہا تھا، میں نے کہا یہ ناقد یعنی بجنے والاآلہ مجھے دے دومیں لوگوں کو نماز کے لیے بلانے کے لیے استعمال کروں گا" اس شخص نے کہا نہیں یہ میں نہیں بیچوں گا بلکہ تمہیں وہ اچھے کلمات بتا دیتا ہوں(اذان)جو بلند آواز میں پڑھنا لوگ چلے آئیں گے۔
اسی وقت حضرت عمر فاروقؓ ایک قدم آگےبڑھےاورفرمایا یارسول اللہ ﷺ میں نے یہ بھی یہی خواب دیکھا ہے!وہی کلمات اللہ اکبر سے لا الہ الا اللہ تک سنا دیئےپورے الفاظ! گویا یہ اذان کے الفاظ پہلےدو افراد کو خواب میں سنائےگئے،دوسرے دن جبرائیل علیہ السلام یہ اذان کے کلمات لے کر آئے اور آپ ﷺ کو سنائے یعنی دہرائے اس موقع پر آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن زیدانصاریؓ سے کہا کہ یہ الفاظ بلال حبشی ؓ کو یہ کلمات اذان سکھا دو یہ بلند آواز رکھتے ہیں اور یہ منبر پر چڑھ کر بلند آواز میں اذان دیں گے۔ اس طرح یہ سعادت حضرت بلال حبشیؓ کو ملی۔اذان کی بڑی فضیلت ہے اتنی زیادہ ہے کہ ایک وقت آئےگا لوگ لاٹری ڈال کر لڑیں گے اذان دینے کےلیے! لوگوں نے کہا یا رسول اللہﷺ ہم اس سعادت سے محروم رہ جائیں گے جو مؤ ذن کو ملی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں میری امت کا ہر بندہ جو اذان کے الفاظ کو دہرائے گا اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا۔ پھر عورتوں نے کہا ہم تو نہ مسجد آسانی سےجاسکتے ہیں تو ہم اس ثواب سےمحروم رہ گئے۔ آپﷺ نے فرمایا گھروں میں خواتین اس اذان کہ کلمات کو دہرا کر مردوں کے مقابلےدوگنااجر پائیں گی۔ سبحان اللہ! اللہ اکبر!اللہ اکبر بے ساختہ منہ سے نکلتا ہے تو ساتھیوں ہم اذان سے کتنا غافل ہیں بہت معمولی بات سمجھتے ہیں بس سمجھتے ہیں نماز کا وقت ہو گیا، اب فجر، اب ظہر،اسی طرح پانچوں مرتبہ! نہیں یہ تو اللہ کا اعلان ہے، دوڑو نماز کی طرف،دوڑو بھلائی کی طرف۔.
اس کے یعنی اذان کے غور سے سننے اور جواب دینے کی اہمیت جب اتنی زیادہ ہے تو سوچیں نمازتو رب سے ملاقات ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا نماز ایسے پڑھو جیسے تم اللہ تعالی کو دیکھ رہے ہو! غفلت طاری ہے احساس نہیں رکھتے تو سمجھو کہ اللہ تعالی تمہیں نماز میں دیکھ رہے ہیں اللہ اکبر! کوئی دوسرا بندہ بھی ہمیں نماز پڑھتا دیکھتا ہے تو ہم مزید بہتر کر دیتے ہیں کچھ سنبھل جاتے ہیں، نماز کو تو جب میرا رب ہمیں پانچ وقت دیکھ رہا ہو تو ہمیں کتنا ہی محتاط، متوجہ تڑپ اور لگن کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے؟تو سمجھو ہم نے اذان سنی جو میرے عشق کا ترانہ ہے اور نماز اسی عشق کا اظہار ہے جو دنیاوی عشق سے رہتی دنیا تک افضل اعلیٰ برتر ہے یا بہترین ہونا چاہیے اور کتنے پیارے الفاظ ہیں یعنی کلمات ہیں اذان کے کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور اس کا کوئی شریک بھی نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں،
نماز کی طرف آئیں،بھلائی کی طرف آئیں کیوں؟ کیونکہ اللہ بڑا ہے، خالق،مالک،رازق!ہر نعمت زندگی کے ساتھ اس چیز سے وابستہ ہے،ان نعمتوں کا ہی تو امتحان، اس پرکشش دنیا میں ہر لمحے کا حساب دینا ہےلہٰذا اس دنیا کی محبت میں غافل ہو کر رب کی محبت اور آپ ﷺکی سنت کو نہ بھلاؤ! یہ پیغام دن میں پانچ مرتبہ تکرار کے ساتھ اسی خالق کےابدی گھرکوجانے اور انجام پانے کی ہی توتیاری ہے۔
اگر اب بھی نہ سمجھا، غلطیوں کو نہ سدھارا،نیکیوں کی طرف نہ دوڑے توسمجھو خسارہ! اللہ نہ کرے۔اللہ ہم سب کو نمازجوکہ ایک نظام ہےاپنی زندگیوں میں نافذ کرنے اور اذان کوغوراورتوجہ سےسننےکی توفیق عطا فرمائے۔ یہ صرف عادت نہ ہو بلکہ صحیح معنوں میں عبادت ہو ورنہ ہم بندے تو نہ ہوئے اس کریم رب کے۔





































