
لطیف النساء
ہماری سوچ ایسی کیوں ہے کہ ہم تو بخشے بخشائے ہیں،یہ غلط فہمی ہمیں لے ڈوبے گی۔ ہم نے رسول اللہﷺ کی امت ہونے کا غلط مطلب نکال رکھا ہے، بے
شک وہ شفاعت کریں گے مگر کن کی؟ کیا ہمارے جیسے لوگوں کی جنہیں سست، بےعمل، شکوہ شکایت کرنےوالوں کی جو حق کو حق کہتے ہوئے بھی گھبرائیں، حق کا ساتھ نہ دیں، وقت کے فرعون سے ڈریں، آخرت کی فکر نہ ہو، اللہ کا سامنا کرنے کا ڈر نہ ہو بلکہ یا شیخ اپنی دیکھ کی روش رکھیں، اتنے لاپرواہ،غافل،بے صبر ے ہم،وسائل پر قناعت ہمیں نہیں، احساس ہمدردی ہم میں نہیں، مغربی دنیا اور میڈیا کے مارے لوگ، اسکرین کے دلدادا اور اپنی ہی دنیا میں مست،کیا ہے ہمارا حق اور کیا ہے ۔
ہماری پہچان، جان لے بندہ جان لے، یہ ہماری خواہشات کی پیروی ہماری غفلت ہے، اس غفلت کی وجہ سے ہم لوگ رسول اللہ ﷺ اورآخرت کو ماننے کے باوجود اتنے بے عمل اور لاتعلق رہے اپنے اعمال صالح سے، اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ ضرور کسی وجہ سے ڈوب رہے ہیں؟ہم دھوکے میں آ گئے دنیا وی زندگی اور اس کی خواہشات کے لہٰذا اب ہمیں اللہ کے فیصلے موت کے اچانک آجانے سے ڈرہے! زلزلے، آندھی، طوفان اور بارشیں ہمیں الرٹ کرنے آ رہی ہیں، چونکانے آرہی ہیں مگر ہم پھر بھی نہیں سدھر رہے، ارد گرد سے عذاب کا نظر آنا ہمارے لئے تنبیہہ نہیں ہے تو اور کیا ہے، سمجھنے کا موقع نہیں تو کیا ہے؟ کتنا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اتنی اموات کے باوجود ہم زندہ اورصحت مند ہیں۔ دیکھیں خیبر پختونخوامیں، دیر میں، بونیر میں کیسے لوگ تباہ ہوئے اور کیسے امداد کیلئے ترسے؟ دوڑو نیکیوں کی طرف یہ کس سے کس نے کہا ہے؟ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا چاہیے! کیا ہم اتنے بھی با ادب نہیں کہ ڈوبتے کو سہارا دیں، کسی کی فوری مدد کریں زندگیاں بچائیں چاہے اپنی جان ہی جائے کیونکہ محبت کا حق ادا کرنا نہ سیکھا، جو دوسروں کو بچانے کی فکر نہ کریگا تو کل کوئی اسے نہ بچا پائے گا! نیکیوں کے مواقع کو ضائع کرنا کہاں کی انسانیت ہے۔
فلسطینی غزہ کے بچے بھوک پیاس کا عذاب سہتے ہوئے مرتے جا رہے ہیں تو ادھر کے لوگ بے گھر ہیں اور سینکڑوں زخمی مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ بعض کو بعض سے آزماتا ہے فوقیت دیکر، نعمتیں دیکر اور نعمتیں چھین کر پھر صاف کہا ہے کہ یہ زندگی مستار ہے، میعاد تک مقرر نہیں! سب کچھ اسی نے تو دیا ہے پھر تمہارا اکڑنا کیسا؟ تکبر کس بات کا؟ تم کیا تھے کیا ہو؟ شکر کرو ہزاروں سے بہتر تندرست توانا، کمانے کے لائق، محنت کرنے کے لائق، لوگوں کے حقوق ادا کرنے اور اللہ کے دین کوغالب کرنے کے لائق،خود بھی سست کاہل ڈھیٹ بن کر لاپرواہ بیٹھے رہے تو کیا کیا؟ وقت تھوڑی نہ رکنے والا! آپ تو ہر دم آن لائن ہو!آئینہ نہیں دیکھا؟برا کیوں مانتے ہو؟ آئینے کو آئینہ بنانے کے لیے واقعی شیشے کی پلیٹ کو پیچھے سے یعنی نیچے سے پارے سے ملمع کیا جاتا ہے جو ایک مائع دھات ہے اور یہی آئینہ تو ہمیں ہر وقت دیکھنے کی ضرورت ہے! میک اپ کرنے کیلئے نہیں، کرتوت دیکھانے کیلئے۔ تبھی تو آئینہ دیکھتے ہی پارہ چڑھ جاتا ہے! اس کو بھی غنیمت جان کر غلطی کا ازالہ کر لو، پھر موقع نہ آئے گا وقت بدلنے کا اور اگر وقت نہ بدلا تم نے تو یقین جانو یہ تمہاری اوقات ہی بدل دے گا





































