
لطیف النساء
یہ کوئی آج کی ڈیمانڈ نہیں بلکہ تو اسلام کے اولین شرط ہے کہ حیا اور حجاب ہی معاشرتی زندگی
کی حسین زندگی ہے۔ تاریخ حال مستقبل سب کے لیے یکساں ہیں۔ ماڈرن کا لفظ اس حیا اور حجاب کو تار تار کبھی نہیں کر سکتا ،یہ تو زینت ہے،وقار ہے، عزت ہے،حصار ہے اور نسوانیت کا حسن اور مرد کا وقار ہے۔
حجاب مسلم عورت کی پہچان اور دین اسلام کی علامت ہے، ایسا تحفظ ایسا احساس جو روح تک چلا جائے،اس دنیا میں عزت و توقیر کے ساتھ آخرت میں یہی کامیابی ہے ہم کنار کرے اور نسلوں کی آبیاری کریں۔کھلی ہوئی کوئی بھی چیز ہزاروں بیماریوں کی زد میں ہوتی ہے یا پھر چوری ہوتی ہے۔ مٹھائی،پھل،پیسے اور غیر جاندار مگر قیمتی اشیاء کو بھی کھلا نہیں رکھا جا سکتا .بھلا کیوں؟ تو ایک عورت جو کسی خاندان کی اکائی ہے ،نسلوں کی عزتوں اور وقار کی امین ہے۔ کیسے بے حجاب ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالی نے انسان کے لیے لباس اتارا اس کے تقاضے رکھے۔ اللہ کے ہر کام میں حکمت ہے،رہنمائی ہے، تحفظ ہے۔
عورت کو مرد کا لباس بھی دراصل اس کی عزت و ناموس کی حفاظت اور بقائے نسلی کے لیے کامیابی قرار دیا۔ اس کے لیے من کا سچا ہونا ضروری ہے۔ تقویٰ اور پرہیزگاری ضروری ہے۔ یہ وہ حدو حصار ہیں جس سے ہٹنا یا خلاف جانا ہی فتنے کی ایسی بیماری ہے جس کا علاج ناممکن ہے تباہی ہی تباہی! حیات تو سراسر اخلاق ہے،تقویٰ ہے، گناہوں سے بچنے کے لیے مضبوط قلعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر قیمتی چیز کو پہلے سے ہی چھپا کر رکھا ہوا ہے۔ساری زمین ہزارہا معدنیات تیل گیس لوہے سونے سے بھرے ہیں مگر تمہیں ہمیں آزادی دی ہے، محنت کرو اور پالو۔اس طرح تمام پھل فروٹ، میوہ جات اپنے اندر بیج رکھتے ہیں جو آپ کا اصل ہیں، اختیار آپ کا ہے آپ انہیں کیسے استعمال کرتے ہیں اور کیسے ان کا تحفظ کے ساتھ استعمال کر کے کار آمد بناتے ہیں بالکل بادام، پستہ،اخروٹ، چلغوزے کتنی خوبصورتی سے سخت خول میں محفوظ ہو کر ہمیں مستورات جنہیں خود ہی چھپے رہنے کا حکم دیا گیا ہے سمجھا دیا گیا ہے، سبق سکھایا جا رہا ہے۔ دلیل کے ساتھ مگر اختیار کے ساتھ تاکہ اپنایا بھی جا سکے کہ کون حیا کے ساتھ نیک عمل کرے ۔اس دنیا سے آخرت کے لیے کیا لایا ہے؟ حیا کا سودا سمجھ آتا ہے؟ ہم پبلک پراپرٹی نہیں معاشرے کی حرمتیں ہیں،عزت وقار ہیں،شعائر اسلام ہیں۔
مستورات ہیں توحیا ہی ہماری اصل قوت اور پوشیدہ طاقت ہے جو نظر آنی چاہیے۔ یہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کار خیر کو سمجھے،محسوس کرے اور ان آ بگینوں کو سنبھال کر رکھے، اپنے وقار اور عزت کو اپنی نسلوں کو اس دنیا و آخرت کے سودے میں ممتاز رکھے، بکاؤ مال یا تجارت نہ سمجھیں۔ سوچیں آج کا ماحول اور آپ ہو قوام، عورتوں سے ایک درجہ اوپر رکھ کر ان کا کفیل اور وارث بنایا ہے؟
سود اہے ضمیروں کا ہر چیز تجارت ہے
چپ ہوں تو قیامت ہے، بولوں تو بغاوت ہے
تو اپنی ذمہ داریاں محسوس کریں! بے بس اور بے حس بن کر معاشرے کا بگاڑ اور فساد نہ بنیں! سدھار آپکے ہاتھ ہے کیونکہ آپ اس قیامت اور بغاوت پر قابو پا سکتے ہیں اپنی حیا سے اپنے شعور سے، اپنے تقویٰ اور احساس جواب دہی اور ذمہ داری سے فساد فی الارض کو روکیں! اللہ توفیق دے۔ آمین





































