
لطیف النساء
قاضی کی صلاحیتوں کو واقعی اس کے مقدمات میں فیصلوں پر ہی پرکھا جاتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اپنی فراست علم حکمت بہادری کی وجہ سے بہت
مشہور تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تقریبا ًتمام جنگوں میں حصہ لیا۔ آپ اہل بیت میں سے تھے اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر میں اہل بیت کو شامل کیا تو وہ اس میں بھی شامل تھے۔
اپنے فیصلے کے لحاظ سے بہترین قاضی وقت تھے، آپ کے فیصلے قابل قدر ہیں قابل تقلید بھی مثلاً یمن کے ایک فرد نے اپنے لڑکے کو سفر پربھیجا جبکہ ایک غلام بھی ساتھ گیا تھا،راستے میں دونوں کا کسی بات پر جھگڑا ہو گیا کوفہ پہنچ کر غلام نے دعویٰ کیا کہ یہ لڑکا تو میرا غلام ہے اور میں اس کا آقا ہوں اور وہ لڑکا بیچنا چاہ رہا تھا،حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس مقدمے میں فیصلہ صادر کرنے والے تھے تو آپؓ نے کمرے کی ایک دیوار میں دوبڑے سوراخ بنوائے اور کہا کہ ان دونوں لڑکوں کے سروں کو سوراخوں سے باہر نکالنے کا حکم دیا تو خادم نے کہا یا علیؓ کیا میں رسول اللہ ﷺ کی تلوار لے آؤں؟جی، خادم تلوار لے آیا تو حضرت علیؓ نے فرمایا! غلام کا سر کاٹ ڈالئے ،یہ سنتے ہی غلام نے اپنا سر پیچھے کر لیا جبکہ لڑکایوں ہی سر نکالے کھڑا رہا اور آپ کی حکمت عملی سے معلوم ہو گیا کہ غلام کون ہے؟ ملزم ہے کون؟سبحان اللہ
آپ ؓنے لڑکے کو چھوڑ دیا اس وجہ سے ان کی شہرت اب تک مشہور ہے۔اسی طرح ایک شخص چوری کے جرم میں آپ کے پاس لایا گیا جبکہ اس کے ساتھ دو گواہ بھی تھے حضرت علیؓ کسی کام میں متوجہ ہو گئے پھر آپ نے کہا کہ جھوٹے گواہوں کو میں بڑی سخت سزا دیتا ہوں ،جب بھی وہ میرے پاس جھوٹا گواہ آیا تو میں نے اسے سخت سزا دی کچھ دیر بعد آپ ؓنے ان دونوں گواہوں کو طلب کیا تو معلوم ہوا کہ وہ لوگ جھوٹے تھے بھاگ چکے تھے اور آپ ؓنے ملزم کو آسانی سے بری کر دیا، یہ تھی حکمت عملی اور فراست۔ اس فیصلے میں آپ کا علم فہم وفراست قابل رشک تھا ،اس لیے انہیں آپﷺ نے کہا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اسکا دروازہ،سبحان اللہ
اسی طرح علم کاایک واقعہ بڑا زبردست ہے اور آپ کے کردار کا قوی فیصلہ کا واضح ثبوت! آپ ؓکے مطابق بہترین علم وہ ہے جس کے ساتھ عمل بھی ہو کیونکہ علم تمہیں راہ دکھاتا ہے اور عمل تمہیں مقصد تک پہنچاتا ہے۔ اونٹ کا واقعہ کبھی نہیں بھلایا جا سکتا! کہ آپ کی خدمت میں مقدمہ پیش کیا گیا۔ تین افراد تھے 17 اونٹ پیش کیے گئے جو تینوں میں اس طرح تقسیم ہونے تھے کہ ایک کا حصہ کل کا آدھا تھا دوسرے کا حصہ تہائی یعنی1/3 اور تیسرے فرد کا حصہ سب اونٹوں کا نواں یعنی1/9حصہ تھا۔ شرط یہ تھی کہ اس طرح اونٹ تقسیم کیے جائیں کہ کسی اونٹ کو کاٹا نہ جائے۔
حضرت علیؓ نے بیت المال سے ایک اونٹ منگوایا 18 ہو گئے 9 اونٹ پہلے کو دے دیے جس کا حصہ آدھا تھا دوسرے کو 6چھ اونٹ دے دیے جس کا حصہ تہائی تھا۔18 اونٹوں کا نواں حصہ جو کہ دو اونٹ بنتے ہیں وہ اس تیسرے بندے کو دے دیے جس کا حصہ تمام اونٹوں کا نواں حصہ تھا۔اس طرح9، 6اور 2 کل 17 ہو گئے ایک بچ گیا جسے انہوں نے بیت المال واپس بجھوا دیا۔اونٹ بٹ گئے، یہ ہے عدل،انصاف اور حکمت عملی اسلام کی عدل کی مثال! یہ ہے حکمت عملی اور یہ ہے فیصلہ اسی فراست کی وجہ سے حضرت علی ؓ کو علم کا دروازہ کہا جاتا ہے۔ سبحان اللہ!حکمت عملی فراست بردباری تدبر خودبھی مطمئن اور رعایا بھی پرسکون۔
ہمارے رسول ﷺ کے داماد،شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ!اور ان کا رتبہ اور فراست قابل دید ہے، بقول حضرت علیؓ کے علم دو طرح کا ہوتا ہے ایک انسان کی نفس میں یعنی دل میں راسخ ہو جاتا ہے ،دوسرا وہ جو صرف سنا ہوا ہے ہو یعنی زبانی، فائدہ مند علم تو وہی ہے جو دل میں راسخ ہو جائے اور سب سے بے قدر علم تو وہ ہوتا ہے جو انسان کی زبان کی حد تک ہو اور جبکہ بلند مرتبہ علم وہ ہوتا ہے جو اعضاء و جوارح یعنی ہاتھ پاؤں بدن اور دوسرے اعضا ء سے نمودار ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمارے علم میں اضافہ فرمائے اور ہمیں باعمل مسلمان بنائیں۔حضرت علیؓ اپنے اخلاق و کردار کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں آپ ﷺ اوراصحاب رسولﷺ کی خصوصیات عطا فرمائے۔ آمین!اے رب تعالیٰ ہمارے علم میں اضافہ فرما اور عمل کی توفیق دے۔ آمین!





































