
لطیف النساء
رات بھا بھی کے فون نے مجھے کافی ڈسٹرب کیے رکھا،میں نے اپنے بڑے بھائی سے بدتمیزی
سے بات کی سمجھانے کے لئے کیونکہ وہ کسی اور کی بات سننے کو تیار نہیں، اگرچہ یہ جملہ بھی ایک خطا اور گناہ ہے،نہ جانے کیوں بڑی عمر کے لوگ بھی امتحان کی شکل میں ہمارے سامنے ہوتے ہیں اور یوں ہم ہر لمحہ آزمائش میں رہتے ہیں۔اللہ ہمیں حکمت اور عقل و شعور وفاداری محبت عطا فرمائے۔ آ زما ئشیں ہی تو ہمارے صبر کا امتحان ہیں اور اپنی عزت کروانا جانیں تاکہ چھوٹے ان کے شر سے محفوظ رہیں۔اتنی شدید گرمی مہنگائی مسائل میں دو وقت کا کھانا تیار مل جائے اور رہنے کو گھر، بستر پر ایمان اور صحت کے بعد اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں! جتنا شکر ادا کریں تو کم ہے۔
روزہ تو ہمیں صرف کھانے پینے کی ہی چیزوں سے ہی نہیں روکتا بلکہ ہر برائی، ہر برے کام لڑائی جھگڑے سے مستقل بچا کر ہمیں ضبط نفس کی تعلیم دیتا ہے اور مسلسل ایک ایسی مشق ہے جو آنکھ سے لے کر دل و دماغ تمام اعضا و جوارح کی تربیت کا باعث بنتا ہے ۔ ان پر اختیار ی طور پرقابو رکھنا اور پھر اس پر ثابت قدم رہنا دراصل روزہ ہے،پھر ہم کیوں بار بار بھول جاتے ہیں؟ کسی کو برا بول دینا،کسی کو غصے سے دھکے دینا، غرانا،طعنہ دینا، گالی دینا یا کاموں کی ناقدری کرنا، چھوٹوں پر شفقت نہ کرنا ،بجائے پیا رمحبت کے، ہر وقت ان کے پیچھے اپنے غصے اور بغض کو نکالنا، رشتوں کا بھرم نہ رکھنا ،یہ روزے کے تقاضوں کے بالکل منافی ہے۔
زندگی میں میرے ذاتی تجربے کے ساتھ اہل خانہ شوہر،بہن بھائیوں، بھابیوں، دیگر رشتوں سے لے کر مانگنے والے اور بیچنے والوں کے رویوں میں بھی میں نے دیکھا ہے کہ روزہ ٹوٹتا جا رہا ہے کیسے؟ کبھی جھوٹ سے، کبھی گالی سے، کبھی سختی سے،کبھی تکبر سے، کبھی بے حیائی وبے اعتنائی سے اور کبھی نفرت سے، کبھی غصے دھوکہ دہی سے۔
یا اللہ! یہ کیا ہے؟ ہم کب صحیح ہوں گے؟ یہ میری کیسی عبادت ہے؟ یہ تو گندی عادت ہے ،اس گندی عادت کو خشوع و خضوع والی عادت یعنی عبادت میں تبدیل کرنے کے لیے مجھے میرے نفس پر ضرور قابو پانا ہوگا۔ اللہ تو ہی مجھے اس میرے نفس پر قابو دے، مجھ سمیت میرے تمام مسلمان بہن بھائیوں کو اپنی محبت اور خشیت دے اور تیرا حق ادا کرنے کی توفیق دے۔(آمین)
میرے مالک دین کا صحیح شعور دے،حقوق سب کے ادا کرنے کی توفیق دے (آمین) ہم ناشکرے بندے بات بات پر گمراہ ہو جاتے ٹوٹ جاتے ہیں،بکھر جاتے ہیں،پھر تیرے سہارے اٹھتے ہیں، توبہ کی طرف آہستہ آہستہ ڈرتے گھبراتے ہوئے توبہ کرتے ہیں ،جس کسی کا دل توڑا ہوتا ہے اس کی نظروں میں گر جاتے ہیں خود اپنی نظروں میں بھی۔ تجھ سے معافی طلب کرتے ہیں،اس بندے سے معافی مانگنا چاہتے ہیں مگر انااور اکڑ ہمیں مزید گرا دیتی ہے۔ یوں ہماری عبادت بری عادت ہی رہتی ہے اور جو ہمارے پورے معاشرے کا افسوس ناک المیہ بھی ہے۔
اے رب تو کتنا عظیم ہے جو احساس دلاتا ہے فلاح کی طرف بلاتا ہے ،موقع پر موقع دیے جاتا ہے اور ہم ہیں کہ بار بار تیری اور تیرے بندوں کی حق تلفی کر جاتے ہیں۔ہم ہزارہا نعمتیں پا لینے کے باوجود تیری ناقدری کر جاتے ہیں، آج اتنے روزے ہو گئے. ہزاروں خوشیاں دی ہیں, الحمدللہ! اموات کی خبریں سنی ہیں، ہزارہا نعمتوں سے سرفرازکیے گئے ہیں، الحمدللہ!مگر آخر میں اپنے آپ کو ویسا کا ویسا بگڑا ہوا پا رہے ہیں۔
بار بار کہیں چوری ڈاکہ،طلاق، خلع، ضد، بحث، لڑائی جھگڑا،اللہ کی پناہ! گھر والوں کا امن تباہ جب بڑے ہی ایسا کریں گے تو پھر چھوٹے بچوں کے لیے ہم کیا نمونہ چھوڑیں گے؟ اور یوں ہر برائی پر ہمارا روزہ ٹوٹتا ہی چلا جاتا ہے ،یہاں تک کہ ہم خود بھی ٹوٹ گئے ہیں ۔کہاں گئی عزت نفس اور روزے میں میرا تزکیہ نفس؟ ابھی بھی وقت ہے زندگی کی سانسیں ہیں سچی توبہ کیلئے، اس رمضان کی سیل کا بھر پور فائدہ اٹھائیں، سنبھل جائیں، اللہ ہمیں توفیق دے ہم تجھے راضی کر پائیں اور آئندہ کبھی برائی کا رخ نہ کریں یقیناً رشتوں کی خوبصورتی تو ایک دوسرے کو برداشت کرنے میں ہے۔
بزرگ تو گھر کے سائباں ہوتے ہیں ، ان کی خوشی عبادت سے کم نہیں، کل آپ وہ مقام پائیں ان شاء اللہ۔ انسان تنہا رہ جاتا ہے اور یہاں تک کہ اپنی قدر و منزلت کھو دیتا ہے مگر ان کی عزت آپ کا انعام اور کامیاب انجام ہے، اجتماعیت حسن ہے، خوبصورتی ہے ،جب تک اپنے نفس پر قابو نہیں پائیں گے دوسروں کو کیسے برداشت کر پائیں گے؟ اجتماعیت پر اللہ کا ہاتھ ہے جو رحیم ہے کریم ہے سو ائے میرے غافل نفس کے! ایک لمحے کے لیے شیطان کو اپنے اوپر طاری نہ ہونے دینا تاکہ روزہ نہ ٹوٹے۔صرف رمضان کا ہی روزہ نہیں بلکہ اس عمر فانی کا کوئی روزہ کبھی بھی کہیں بھی نہ ٹوٹے، کسی کا دل نہ ٹوٹے، کوئی ہم سے نہ روٹھے کیونکہ ہم مسلمان ہیں اور ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ مسجد کو اٹھائیے نہ کہ مندر کو ڈھائیے۔ دل نہ دکھائیے کہ خدا کا مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب سے راضی ہو جائے۔ آمین





































