
ماہ نور شاہد
ابن عمررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نظر شیطان کےتیروں میں سےایک تیر ہے،جس نےاسے میرے خوف کی وجہ
سے چھوڑدیا،میں اسے ایسا ایمان نصیب کروں گاجس کا ذائقہ وہ اپنے دل میں محسوس دووکرے گا۔“
( مسند احمد)
بد نظری درحقیقت شیطان کےمہلک ترین تیروں میں سےایک ہےجو بیک وقت مومن کےاعمال ،کردار،افکار اور جذبات کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔۔۔
کیسے ۔۔۔؟
ہم اس بات کو ایک واقعے کے ذریعے سمجھیں گےکہ ایک شخص نے کسی بزرگ سےدریافت کیا کہ مجھ سےغضِ بصر نہیں ہوپاتا اس پربزرگ نے انہیں ایک بھراہوا دودھ کا گلاس تھما کرکہا کہ اسے لےکر بازار میں نکل جاؤ اور دھیان رہے کہ اس گلاس میں سے ایک قطرہ بھی دودھ چھلکنے نہ پائے ۔ تم جب واپس آؤگے تومیں تمہارے سوال کا جواب دوں گا ۔۔۔
وہ صاحب گلاس کےہمراہ بازارگئےاورایک لمحے کے لیے بھی گلاس سےنظر نہ ہٹائی، یہاں تک کہ دودھ سےویسے ہی بھراہوا گلاس لیےواپس بزرگ کےپاس لوٹے ۔۔۔۔اس واقعےسےہمیں متعدد نکتےغض بصر کی اہمیت اور بد نظری کے نقصانات کی گہرائیوں میں اترنے میں مدد دیتے ہیں ۔۔۔
وہ دودھ کا گلاس دل میں ایمان اورحیا کی مانند ہے کہ اگر نظروں کی حفاظت نہ کی تو دل سےحیا اورایمان کے چھلک جانےکا احتمال ہے۔۔۔وہ گلاس اس منزل اور مقصد حیات کی مانند ہے کہ جس کےلیے ہمیں اس دنیا میں اتارا گیا ہے اگر اس مقصد سے نگاہ چوک گئی تو پاک دامنی راستے سے بھٹک جانے کا احتمال ہے۔۔
وہ دودھ کا گلاس حکمت و دانائی کےکشکول کی مانند ہےکہ اگراس کی نگہبانی میں لا پروائی ہوئی تو اس کےگرکر ٹوٹ جانے کا احتمال ہے۔۔۔۔درحقیقت نظر کی حفاظت روح کی حفاظت ہے جب روح پاک رہے گی تو اندازوفکر ،دل ، کرداراورجذبات سب ہر طرح کی غلاظت سے پاک رہیں گے۔
روح کی پاکیزگی ہی طاعت خداوندی پرآمادہ کرتی ہےاورپھربات نا صرف باطنی بلکہ ظاہری طورپربھی اللہ کی محبت اور رضا تک رسائی کی ہمہ وقت کوشش پرپہنچ جاتی ہے ۔۔اسی لیےغض بصرکےحکم کی صورت میں مرد و عورت دونوں کو اپنی روح کی آبیاری کاحکم دے کراس کی پاکیزگی کا اہتمام کیا گیا کیونکہ نظرکی خیانت مزید خیانتوں کے راستےہموارکرتی ہے اورپھر قدم ایسے راستے پررواں دواں ہو جاتے ہیں جہاں سے واپسی نا ممکن تو نہیں البتہ نہایت مشکل ہوجاتی ہے ۔۔۔
درحقیقت غض بصر احتیاطی تدبیرہے کہ اگر شیطان کے اس جال اورچال سےخود کو بچائے رکھاتو پھر کوئے شک نہیں کے بے حیائی اور بد کرداری کے تمام راستےمسدود ہو جائیں گے ۔۔۔پھر نہ تو حیاء کا جام چھلکے گا نہ ہی کردار کا پیمانہ زمین بوس ہوگا۔





































