
ماہ نور شاہد
سارے صنم مسمار کر خیرالوریٰ سے پیار کر
رکھ کر نبی کو سامنے آرائش کردار کر
ہم جب کسی سے محبت کرتےہیں یا کسی کواپنا آئیڈیل سیٹ کرتےہیں تو اس کی ذات، صفات حتی کہ اس کےقدموں کے نشانات تک محبوب ہوجاتےہیں اوردل خود بخود اس کےجیسایااس کی پسند کے جیسا بننے کی کوشش میں مشغول ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ تمام محبتیں دم توڑ جاتی ہیں ۔۔۔اس شخصیت کی مثال چودھویں کےچاند کی سی ہوجاتی ہےجس کےگردخواہ کتنےہی ستارے جگمگارہےہوں اس چاند کی جاذبیت اور دلکشی انہیں ماند کر دیتی ہے ۔۔۔
کیا ایسی محبت کی حقدار محض وہ ہستی نہیں جو رب العالمین کا بھی محبوب ہے۔۔۔؟کیا ایسی بے مثال اور لازوال محبت محض نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اسم مبارک اورذات اقدس کے ساتھ نہیں جچتی؟؟؟
یقیناً اس کا جواب اثبات میں ہے۔۔۔بے شک ہماری محبت نبی آخرالزماں محبوب خدا حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے ایسی ہونی چاہیےکہ باقی سارے صنم خواہ ظاہری ہویا باطنی چوراچوراہوکرہوامیں تحلیل ہوجائیں کیونکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نےخود فرمایا کہ ہم اس وقت تک مومن ہوہی نہیں سکتےجب تک نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہر چیز سے زیادہ ہمیں محبوب نہ ہو جائیں ۔۔۔
یقین جانیےاگر ہمیں اللہ کا محبوب بننا ہےنا تو ہمیں اس کےمحبوب کو اپنا محبوب بنانا ہوگا ۔۔۔اگرہم چاہتے ہیں نا کہ وہ رب اپنی محفل میں آپ کا ذکرخیر فرمائیں توآپ اپنی محفلوں کی زینت ذکررسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بنالیں۔۔۔
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کو اپنا آئنہ بنالیں ، دیکھیں کہ کہاں کہاں ہم اس آئینےکےمطابق نہیں ۔۔۔
سوچیے ،پرکھیےاورپھر خود کو دل وجان سے خود کو سیرت طیبہ کےراستے پر ڈال دیجئے یقین کریں، آپ خود اس راہ پرنہیں چلیں گے بلکہ اللہ چلائیں گے۔ انشاء اللہ ۔۔۔
کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:
"جوہمارے راستے میں جہدوجہد کرتا ہےہم ضروربالضرور اس کے لئےاپنےراستے آسان کردیتے ہیں اوریقیناً اللہ نیکی کرنےوالوں کےساتھ ہے"
(سورۃ العنکبوت 69)
کیا اللّٰہ کہ دوستی سےبڑھ کر کوئی دوستی ہوسکتی ہے؟؟؟کیا ہر لحاظ اور انداز سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی محبت کا حق ادا کرنے میں اپنی ذات کو گھلا دینا اللّٰہ کی محبت تک لے جانے کا راستہ نہیں ہے ؟؟
بلکل ہے اور یقیناً ہے کیونکہ
تیری فطرت میں ہے اگر حب نبی کے جوہر
پھر تو ہر ایک بلندی پہ قدم تیرے ہیں





































