
ماہ نور شاہد
اللّٰہ کا کنڈا ایسا سہارا ہےجو ذلت ورسوائی اور گناہوں کی دلدل میں نہ صرف گرنےسے بچالیتا ہے بلکہ ان دلدلوں میں دھنسے
انسان کوبھی اس سے نکال کر باہرلاکھڑا کرتا ہے ۔یہ اللّٰہ کی رحیمی اورکریمی ہی تو ہےجو اس نے ہمارے لیے خود تک آنے اور گناہوں سے باہر نکل آنے کے راستے کھول رکھے ہیں۔
یہ اس ہی کی مہربانی ہےجو اس نےہمیں چانسز فراہم کردیے ہیں ۔کیا ہوتا اگر اللّٰہ توبہ اوراصلاح کا راستہ نہ کھولتا ؟کیا ہوتا اگر اللّٰہ صرف ایک گناہ پر بھی جنت میں داخلہ بند کردیتا ؟ہ
م تب بھی تو سمعنا و اطعنا کا مظاہرہ کرتے نا ؟ کیونکہ تب چانس ہی نہیں ہوتا تواب جب اللّٰہ نےاتنی آسانی عطا فرمادی ہےتو کیا چیزہےجو اس کی طرف پلٹنےسے ہمیں روک رہی ہے؟
ہم اپنا پورپور اس ایک اللّٰہ کی سپردگی میں کیوں نہیں دے دیتے؟ہمارا ایک ایک عضو اس کا فرمانبردار کیوں نہیں بن جاتا؟ صرف دل سےاقرار کردینا کافی تونہیں،اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جنت کی کامیابی صرف اللّٰہ کی رحمت پرمنحصر ہے لیکن اللّٰہ کی رحمت کے لیے جہد لازم ہےکیونکہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے شخص کو تو یہ حقیر دنیا نہیں ملتی تو وہ عظیم الشان جنت کیسے مل سکتی ہے۔
اللّٰہ کی فرمانبرداری کا ثبوت لازم ہےکیونکہ اللّٰہ پرایمان توابلیس کابھی تھا مگر اس کا عمل کیا تھا اورکیا ہے۔۔۔۔اللّٰہ کو تومشرکین بھی مانتے تھےلیکن ان کےعمل نے انہے کہاں لا پھینکا۔۔۔یہ عمل ہی ہے جو گناہوں سے اللّٰہ کے قرب اور اللّٰہ کے مقربین سے مردوں و ملعون تک کا سفر طے کروادیتا ہے۔
کیونکہ
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے





































