
ماہنور شاہد
وہ سن رہا ہوتا ہے وہ ہرچیز دیکھ رہا ہوتا ہےمگر خاموشی کے ساتھ۔۔۔ وہ لکھ رہا ہوتا ہےاس کے نمائندوں کے قلم مستقل حرکت میں ہوتے ہیں مگر بغیر
چاپ کیے۔۔۔
وہ انتظار کر رہا ہوتا ہے"حد" کا ۔۔۔ویسے ہی جیسے انسان اللہ کی مغفرت اس کی رحمت اپنےلاتعداد اورمستقل گناہوں کے بعد آزما رہا ہوتا ہے۔۔وہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ اس میں خیر کتنی ہے اور شرک کس حد تک حاوی ہے اور پھر وہ روکتا ہے۔۔۔۔!انسان گناہوں سے کبھی بھی خود نہیں رکتا اسے روکا جاتا ہے۔اللہ اسے روکتا ہے کبھی پیار سے اور کبھی غصے سے۔پتہ ہے اللہ پیار سے کب روتا ہے ہے؟
جب وہ دیکھ لیتا ہے کہ میرا یہ بندہ گناہ کر تو رہا ہے مگر اس کا دل مطمئن نہیں ہے ۔اس کا نفس لوامہ لاشعوری طور پر بیدار ہے اس کا جسم تو شیطان کے تابع ہے مگر اس کی روح میرے قرب کے لیے تڑپ رہی ہے۔جب وہ اپنے بندے کے اندر کی خیر دیکھ لیتا ہے تو بہت پیار سے بہت نرمی سے وہ اپنے بندے کو اس دلدل سے نکال لیتا ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ محض زبان سے استغفار کر لینا محض زبان سے ہدایت کی دعا کرنا بظاہر کوشش نہ کرنا پر اثر نہیں ہے غصہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وہی خیر ہے جو اس کی زبان سے مسلسل جاری رہتی تھی جس کی بنا پر اللہ اپنے بندے کو بچا لیتا ہے ابدی رسوائی، ذلت، اور ناکامی سے ۔۔
جسے اللہ پیار سے روکتا ہے نا اس کے گناہ دنیا کے سامنے عیاں نہیں کرتا جب اس کو گناہوں کا احساس ہوتا ہے تو وہ اس پر اصرار نہیں کرتا بلکہ پلٹ آتا ہے اس وقت اس کے پاس پچھتاوا تو ہوتا ہے مگر مہلت بھی باقی ہوتی ہے مہلت ختم ہونے سے پہلے مہلت دے دی جاتی ہے اور آنکھیں بند ہونے سے پہلے اس کی آنکھیں کھول دی جاتی ہیں اور اس عظیم نعمت کو محسوس کر لینا قرآن میں عظیم نعمت کہا گیا ہے۔
ربنا جعلنا منھم اور آپ جانتے ہیں کہ اللہ کا غصے کے ساتھ روکنا کس کےلیے ہوتا ہے؟جو اندھوں کی طرح گناہوں کی طرف دوڑے چلے جاتے ہیں ان کا جسم ان کی روح دونوں شیطان کے تابع ہوتی ہیں اور وہ شیطان کی اطاعت میں حد سے باہر نکل جاتے ہیں نا ہی انہیں گناہ گناہ لگتا ہے اور نہ ہی وہ خیر کے لئے دعا گو یا طالب ہوتے ہیں۔
ان پرشرحاوی ہوتا ہے،ان کو اللہ سے سب چاہیے ہوتا ہےمگر بس اللہ ہی نہیں چاہیے ہوتا بلکہ وہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اسی کےخلاف لگا دیتے ہیں پھر اللہ بھی انہیں بھلا دیتا ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی پھر جب انہیں اللہ کی طلب ہو گی تب اللہ کو ان کی پرواہ نہیں ہوگی اور تب ان کے پاس پچھتاوا تو ہوگا مگر مہلت باقی نہیں ہوگی۔ تب احساس جرم تو ہوگا مگر مداوائے جرم کا وقت ختم ہوچکا ہوگا۔
تب اللہ ان سے کہے گا کہ جیسے تم نے ہمیں دنیا میں بھلا دیا تھا آج ہم بھی تمہیں بھلاۓ دیتے ہیں۔۔ اور وہ ہوگا عظیم خسارے عظیم تباہی اور نہ ختم ہونے والی ناکامی کا دن۔۔۔





































