
ماہنور شاہد
"ہم نے تم پرروزے فرض کردیے تاکہ تم پرہیز گاربنو" درحقیقت روزے کا مقصد عین تقویٰ ہےاور تقویٰ کےمعنی ہیں"بچنا"۔۔۔اللّہ فرماتے ہیں ہم نے تم پر
روزے فرض کئے تاکہ تم "بچو"وہ ہمیں کس چیزسےبچانا چاہ رہا ہے؟
وہ ہمیں اس کی ناراضی سےبچانا چاہ رہا ہے۔۔۔وہ چاہتا ہے کہ ہمارے اندر تقویٰ کی صفت ناصرف پیداہو بلکہ آخری دم تک قائم ودائم رہے۔ صفت کبھی بھی وقتی نہیں ہوتی بلکہ صفات دائمی ہوتی ہیں ۔اللّہ روزے کے ذریعے اس صفت کو ہمارے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے۔
تقویٰ کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ ہم اس کی مخلوق کا خوف اپنےدل سے نکال دیں۔ وہ جہنم سےخوف نہ کھائیں بلکہ جہنم کو بنانے والے کی ناراضی کا خوف ہمارے دل میں موجزن ہو جائے۔اس کی محبت ہر محبت پر غالب آجائے ۔ اس کا خوف ہر خوف ہر غالب آجائے۔ ہمارا ہرعضو اس کی نا فرمانی سے بچا رہے،یہ ہے تقویٰ کا وہ لیول جو ہمارا رب ہمارے اندر دیکھنا چاہتا ہے۔نا صرف رمضان میں بلکہ باقی پورے سال بھر ۔۔۔ایسا ہوگا کب؟؟؟ جب ہماری آنکھیں ہروہ چیز دیکھنے سےباز رہیں گی جو اللّہ کو ناپسند ہے خواہ وہ نامحرم ہو، موسیقی یا موویز ہوں حتی کہ بے پردہ عورت کو دیکھنے سے بھی میری نگاہ بازرہے۔۔۔
میرے کان اللّہ کی ہرنا پسند چیز کوسننے سے باز رہیں ،چاہے وہ گانےہوں،غیبت ہو،فحش گوئی ہو حتی کہ ہرغیر ضروری بات بھی میرے کان سننے سےباز رہیں۔۔۔
میری زبان اللّہ کی ہرنا پسند بات سے رکی رہے ،چاہے وہ فحش گوئی ہو،غیبت و بہتان ہو، طنز و طعنے ہوں ،یا جھوٹ ہو حتی کہ ہر طرح کی لا یعنی بات بھی میری زبان سے نہ نکلے۔۔۔میرے ہاتھ کسی بھی ایسے فعل کو انجام نہ دیں جس سے میرے اللّہ نے مجھے روکا ہے۔۔میرے پاؤں گناہ کی طرف نہ بڑھیں حتی کہ اس جگہ بھی میرے قدم نہ جائیں جہاں اللّہ کی نا فرمانی ہو رہی ہو۔۔۔یہ ہے وہ تقویٰ جو روزے کو مقبول بناتا ہے۔ورنہ ہمارا بھوکا اور پیاسا رہنا بےمقصد ہوگا۔۔۔ ہم روزے کی حالت میں ہائی رسک پر ہوتے ہیں ہمارا ہر عمل اس بات کا متقاضی ہوتا ہے کہ ہم روزے کے خراب یا فاسد ہو جانے کے خوف سے اپنے افعال پر چیک اینڈ بیلنس رکھیں ۔
اللّہ ہمیں روزے کی حالت میں حلال و حرام دونوں سے روکتا ہےجب ہم رمضان میں حلال سےرک سکتے ہیں تو رمضان کے بعد حرام سے کیوں نہیں رک سکتے ؟ہمیں محض اپنے نفس کو قابو کرنا ہے۔ رمضانُ میں بھی اور اس کے بعد بھی رمضان میں شیاطین تو بند ہوتے ہیں لیکن اس نفس کا کیا جو بارہ ماہ ہمارے ساتھ لگا ہے؟ اسے کنٹرول کرلیں گے تو شیطانی قوتیں بھی بے معنی ہو جائیں گی ۔۔۔ رمضان کو اس کے حق کے ساتھ گزار کر باقی گیارہ مہینے بھی رمضان بنالیجیے ۔۔۔
اپنے دل سے ہر غم اور خوف نکال کر صرف اللہ کی ناراضی کا غم اور خوف دل میں موجزن کرلیں وہ حلاوت نصیب ہوگی جو کسی بھی چیز سے حاصل نہیں ہو سکتی ۔۔۔





































