
نیلم حمید
حیا عورت کا زیورہے۔یہ دنیا ایک عورت اورمرد سےوجود میں آئی حضرت آدم علیہ السلام اوربی بی حوا سے ۔یوں عورت روز اول سے ہےاورصنف نازک
کہلاتی ہے۔
نازک آبگینے کی طرح مگرعزم اورولولہ سے بڑی سے بڑی تکلیف کاسامنا کرتی ہے۔زمانہ جاہلیت میں عورت کو حقیرسمجھا جاتا تھا،عورت صرف گھر تک محدود کردی گئی تھی ۔عورت کوانسانیت کےنچلے درجے پررکھا جاتا۔
پھراس تاریک دورمیں اسلام کااجالا پھیلا۔پھرعورت کو ایک بلند مقام حاصل ہوا۔
تاریخ اسلام میں کی داستان کچھ یوں شروع ہوتی ہے کہ حضرت محمدﷺکے پاس ایک صحابی آکر رونے لگے ۔آپ ﷺ نے پوچھا کیا ہوا کیوں روتے ہو۔
انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ مجھ سے بہت بڑا گناہ سرزد ہوا ہے میں نے
لوگوں کے طعنے سے بچنے کے لیے اپنی بیٹی جب وہ پانچ سال کی ہوئی تو اس کو قتل کردیا ۔وہ بابا ، بابا پکارتی رہی۔
یہ واقعہ سن کر آپﷺ کی آنکھوں سے اشک رواں ہوگئے۔ تو ان صحابی نے پوچھا کیا میرا یہ گنا معاف ہوجائے گا۔ آپ نے فرمایا زمانہ جاہلیت کے تمام گناہ معاف کر دیے جاٸیں گے۔
اب عورت ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ ہے۔ چاہے وہ تعلیم کا شعبہ ہو ۔دفاعی شعبہ ہو یا تر بیت کا اور اگر وہ یہ تمام فراٸض شرم وحیا کے ساتھ اللہ کی بنائی حدود میں انجام دیتی ہے تو دراصل وہ ایک بہترین معاشرہ تشکیل دیتی ہے جس کے باعث معاشرے میں خیرہی قاٸم ہوتا ہے۔
صرف عورت ہی نہیں حیا مردوں کی شان اورعورت کا زیور ہے۔ حیا عورت کے تحفظ کی ضامن ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا بے حیا خیر ہی لاتی ہے۔





































