
نیلم حمید
خاندان کسی بھی معاشرے کی سب سے مستحکم اوراہم اکائی ہے۔ایک خاندان جو مردوزن کے رشتہ ازدواج سے مل کر وجود میں آتا ہے۔ گھر خاندان کی
بنیادی پناہ گاہ ہے۔ اس پناہ گاہ کو مضبوط بنانے کے لیے پر سکون اور دلچسپ ماحول رکھناپڑتا ہے۔
اللہ نےخاندان کو پہلے تخلیق کیا۔رب ایک ہےجو تمام رابطوں کا سر چشمہ ہے۔ سب رشتوں کی تخلیق کرنےوالابھی ایک ہی ہےجس خاندان کی بنیاد مضبوط اور مستحکم ہوگی۔ اس سے معاشرے کی بنیاد بھی مضبوط اورمستحکم ہوگی۔
نبی کریم ﷺنےخاندان کو انتشار سےبچانے کے لیےاسےمستحکم کرنےکے لیےباہم حقوق وفراٸض کاایک سلسلہ قاٸم رکھا ہے۔ خوش باش مطمئن خاندان ہی اس خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔ مضبوط خاندان وہ ہے جہاں محبت اور رواداری ہو۔افراد مطمٸن محوظ اور خوش ہوں۔زوجین میں محبت ایثار اور در گزر کا رشتہ اگلی نسلوں کو اعتماد اور ترقی کے مواقع دیتا ہے۔جہاں محبت کا درس اپنے خاندان سے لیتا ہےایک دوسرے کےساتھ باہمی اعتماد تعاون ہوکینہ بغض سازشیں اوردشمنیاں نہ ہوں ،گھر کی فضامیں شکوہ شکایت نہ ہو تو گھر جنت ہیں۔
وجودِزن سے ہے تصویر کاٸنات میں رنگ۔
عورت رب رحمٰن کی خوبصورت تخلیق ہے۔
زمانے نے ہمیشہ مجبورومحکوم سمجھااورجب عورت ذلت وپستی کی آخری حدتک پہنچ چک تھی۔اس وقت نبی مہربانﷺ کا وجود اس در بدرکی ٹھوکریں کھاتی اورزندہ درگور ہوتی عور ت کے لیے محسن اعظم بن کر آئے۔اس کہ زندگی کے لیے خورشید کی نوید بن کر آئے۔اگر عورت کے کردار پر نظر ڈالو تو عورت ہر روپ میں بھرپور کردار ادا کرتی ہے۔آپ ﷺنے عورت کو ظلم کی گہراٸیوں سے نکال کر آسمانی عزت وشرف کی بلندی تک پہنچایا۔زندگی کے ہر مڑ پر لحاظ ومروت کا حکم دیا۔
قرآن پاک میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں۔عورت کے ساتھ نیکی کا برتاٶ کرو۔(سورہ النسإ آیت 19)مضبوط خاندان میں عورت کےمحفوظ ہونے سے مستحکم معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ عورت بااختیار تب ہوتی ہے ۔جب اس کو اسلامی روایات کے مطابق چاردیواری میں عزت دی جائے۔
عورت کو مکمل تحفظ ملنا ضروری ہے۔پاکستانی معاشرہ اپنی پہچان کھوتا جارہا ہے۔اور خاندانی نظام جو تباہ و بربادہو تا جارہا ہے۔ اور ہمارے معاشرے کی بگڑتی ہوئی حالت پرہر انسان فکر مند ہے۔محبِ افراد اسلامی معاشرے میں بڑھتی بےراہ روی سے پریشان ہیں۔معاشرے میں بہت سی براٸیاں جنم لے رہی ہیں۔ نوجوان طبقے کی بڑھتی ہوئی بے راہ روی انتہائی تشویش ناک ہے۔بزرگوں اوربڑوں کاادب احترام منشیات تشدد کارجحان انتہائی قابل مذمت ہے۔ آجکل طلاقیں بھی عام ہوگٸیں ہیں۔
دونوں میں صلاح کرانے کے بجاۓ مغربی رنجش کو ناقابلِ عبور سمندر بنا دیا ہے توایسی حرکت سےآپس میں لڑائی جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں۔ زندگی میں بہت دکھ درد اداسیاں سہی مگرزندگی بھی تو ہے۔ خوشیاں مسکراٸیں گی اورقہقہے بھی زندگی کا حصہ ہیں۔ خوشیاں ایسے موتی کی مانند ہوتی ہیں۔ کبھی تو اسے انسان اسے پا لیتا ہےاور کبھی سمندرکی وسعتوں میں کھوکرغموں کی وادی میں کھو جاتاہے۔
عورت کا وجود کاٸنات میں رنگوں کی بہارہے۔ اس کے دم سے زندگی بامقصد نظر آتی ہے۔ بہتریں آسوہ حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے ۔ کامل عورت بننا ہو توحضرت فاطمہ زہرہ کی زندگی پرغور کرنا پڑے گااور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی سعی کرنی ہوگی۔ عورت کےلیے حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔خوشحال اورمطمٸن معاشرہ وجود میں آئٓےگا اور ان شاء اللہ ہرگھر جنت کا نمونہ ہوگا۔





































