
صبااحمد
ایران جس نے ہمیشہ سے اپنی ڈیراینٹ کی الگ سےمسجد بنا رکھی ہے ۔اس وقت اپنے سفارت خانے کے جوابی حملے پر اسرائیلی حملے کا جواب دے کر
عالم اسلام اور سوشل میڈیا پر عالم اسلام کا کا ہیرو بن بیٹھا ہے ۔اس کی حقیقت کیا ہے، اپنی مسلم آبادی کوخوش کرنا ہے۔ یہ بظاہر امریکہ کے خلاف ہے اور ہمیشہ اقتصادی پابندیوں کی زد میں رہا ہے ۔
اسرائیل نے اس کے سفارت خانے پر حملہ کیا تو اس نےاسرائیل پر حماس کی مدد سے حملہ کیا ، سب دجالی دور کا آغاز ہے اور دجل کا مطلب ہی جھوٹ فریب ہے، جنگ کبری کا آغاز کرنے کی تیاریاں زورو شورسے مغرب اور یہودی کررہے ہیں۔
بقول ان کے نعوذ باللہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں، سب سے پسندیدہ قوم اللہ تعالیٰ کی اور صرف زمین پروہ ہی قوم قائم وآبادرہنے والی ہے۔دجال ان کا نجات دہندہ بن کرآئےگا اورعیسائ بھی ان کے ساتھ ہیں ۔حقیقت یہ ہے کے ایران شعبدے بازہے۔اسرائیل جہاں امریکہ کا گود لیاہوا ہے وہیں ایران بھی کم دھوکے نہیں ۔
مشرق وسطی میں کے ممالک میں اس کی کسی سے نہیں بنتی۔ شام مصر جو فلسطین کی کوئی مدد نہیں کر رہے۔ صرف یمن جو غریب اور چھوٹا ملک ہے مگر امریکہ کے خلاف ریڈ سی لال سمندرمیں لڑ رہا ہے۔ امریکی بحری بیڑوں کو تباہ کررہا ہے۔ ایسی بارودی سرنگیں زیرزمین بچھائی ہیں کہ امریکہ جیسا ملک اس کو نہیں کھوج سکتا اور اس کے دس اتحادی بھی اس کے اینٹی میزائل کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ان کی بحری فضائی اور بری فوج نےان ممالک کو بے بس کردیا ہے ۔یمن نے پہلے ہی کہا تھا غزہ پر جنگ بند کرو ورنہ اس کا سخت جواب دیا جائے گا ۔ یمن کی فوج کے سامنے امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک بے بس ہے۔
اب آتے ہیں مدعے کی طرف کہ دنیا قیامت کےآخری اوئل میں داخل ہوچکی ہے۔ سوشل میڈیا نےلوگوں کو ہراساں کررکھا ہےکہ چار لال بچھڑے مل گئے،تابوت سکیینہ بھی مل گیا جو یہودیوں نےمسجد اقصی کی کھدائی سے حاصل کرلیا ہے ۔اس سے پہلے سلطان عبدالحمیدکے محل کے نیچے تہہ خانےمیں کئی سال ڈھونڈتے رہے ،وہاں بھی نہیں ملا بعد میں مسجد اقصی کے نیچے کتنے سال سے ڈھونڈ رہے ہیں ۔
8اپریل کے سولر اقلیپس یاسورج گرہن کےبعد بچھڑوں کی بلی کےبعد پادری ان کی راکھ سےنہا کرپاک ہوجائیں گےاورمعاذاللہ مسجد اقصی کو گرا کر ہیکل سلیمانی کی تعمیر اور پھر دجال کا ظہور ہوگا۔ یہودیوں کی کتابوں میں لکھا ہے اور یہ ان کا ایمان ہے جو آٹھ اپریل کے سورج گرہن کے بعد الحمدوللہ نظر نہیں آیا ۔ یہی دجالی فتنہ ہے اور ایران کا حملہ بھی ۔یہ سب علم اللہ سبحان تعالیٰ کو ہے ۔اس کےعلاؤہ اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ کومعلوم ہے ۔
دوسری بات دنیا میں اسرائیل کےبعد سب سے زیادہ یہودی ایران میں آباد ہیں اور نبی کریم صہ کے مطابق دجال کا ظہور ایران کے شہر اصفہان سےہوگا۔اب اس کی حقیقت کو جانیے کہ امریکہ عالمی جنگ چاہتا ہے بظاہر ایران اور امریکہ دشمن ہیں مگر ایک ہی ٹیم ہیں۔
اسرائیل چھ ماہ سے فلسطینوں کاخون بہارہا ہے،کس قانونکے تحت کیونکہ امریکہ چاہ رہا ہے وہ مسلمانوں کا خون ایسے ہی بہاتا رہے ،امریکہ افغانستان سے جب سے نکلا ہے تو اسرائیل کو شہ دی ۔ یہ دنیا میں امن وامان نہیں دیکھ سکتا خاص طور مسلمانوں کو چین سے اوران کے اتحاد سےاسےخوف ہے ۔
جیسے اسرائیلی صدر نےکہا ہم صرف امن چاہتے ہیں ۔
جب کہ قرآن سورۃ البقرہ میں ہےکہ "جب ان سے کہا جاتا ہے ملک میں انتشار نہ پھیلاؤ"تویہ جواب دیتے ہیں۔ ہم صرف امن قائم کرنےوالوں میں سے ہیں ۔"اب مسئلہ ہے کے امریکہ، چائنااورپاکستان کواس جنگ میں دھکیلنا چاہ رہا ہے تاکہ عالمی جنگ ہو مگر چونکہ فتنوں کا دور ہے جو بظاہر درست نظرآرہا ہے حقیقت میں نقصان دہ ہے۔عرب بھی خاموش ہیں۔
مسلمانوں کے لیےاور عالم اسلام میں عرب اورسعودی عرب میں امریکہ کی ائربیسسز ہیں، سب کے ہاتھ بندھے ہیں۔ ترکی میں بھی توکون آوازاٹھائےان دس سپر پاورز کے خلاف مگر سوال ہے کہ غزہ میں جو 35ہزارلوگوں اور بچوں کو شہید کیا جاچکا ہے گھرکھنڈر بن چکے ہیں ۔ نہ ختم ہونے والی جنگ مقصد فلسطینیوں کوغزہ سےنکالنا نہیں انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دینا ہے ۔۔۔ کیوں؟ ۔۔۔۔۔۔۔اس جنگ کے آخر نتائج کیا ہوں گے،اختتام کب کیسےہوگا۔عرب خاموش کیوں ہیں۔ پہلے قطرسامنے آیا اب وہ بھی پردہ پوش ہوگیا ترکی اورپاکستان ایٹمی طاقت ہونےکے باوجود خاموش ہیں ۔صورتحال پر پوری دنیاحیران وپریشان ہے۔





































