
صبا احمد
ماں جسم وجان کی قربانی کا نام ہے، محبت و ممتا کی مورت وہ لفظ ہے جس کو اللہ تعالی نے بہت پسند فرمایا اور تشبہ دی کہ اللہ ستر ماؤں سے زیادہ اپنے
بندوں سے پیار کرتا ہے۔ ماں دنیا کی مہربان ہستی جسے زمیں دھرتی ماں سےبھی تشبہ دی گئی ۔ زمیں کے سینےکو چیرکر اس میں ہل چلا کر مخلوق خدا کے لیے اجناس اگایا جاتاہے،پھلدار درخت اگتے ہیں، زمین پروش کرتی ہے، نباتات درخت پھول پودے اور درختوں کی لکڑی کھانے پکانے کے کام آتی ہے ، تمام میوے کھانے پینے کے لیے ۔۔۔ جیسے ماں جنم دے کر گود میں تعلیم تربیت اور پرورش کرتی ہے، اسی طرح اللہ تعالی نے اس کائنات کو بنایا "چھ دن میں زمین وآسمان بنائے" حضرت انسان کے لیے دھرتی و اں کے دل میں محبت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا اور اللہ بھی رازق رزق دینے والا زمین وآسمان سے رزق دیتا ہے۔ماں جسم وجان اور روح کی غذا ہے موسموں کا تغیر وتبدل گرمی سردی سے مشکل میں بیماری میں ماں کی بچوں کو بچانے کی تڑپ ۔۔۔۔۔ اسی طرح جانوروں اور انسانوں کی ماں بچوں کو جنم دیتی ہے ،دودھ پلاتی ہے،تھوڑا بڑے ہوتے ہیں تو کھانے پینے کی سینکڑوں چیزیں بازار وگھر میں ان کے لیے تیار کرتی ہے ۔ ۔۔۔۔۔تو اس وقت سب سے مشکل میں فلسطین کی ماں ہے 78 سال سے غزہ کی ماں قربانیاں دے رہی ہے۔ جسم وجان اور اپنے بچوں کی القدس کی حفاظت کے لیے جو نبیوں کی سر زمین مسلمانوں کا قبلہ اول اور اب ماں کی کوکھ میں بھی شہداء کی سرزمین ہے ۔اسرائیل جو منوں ٹنوں بارود اس اتنے سے علاقے میں برسا چکا ہے مگر شہداء کی خوشبو سے فضا مہک رہی ہے ۔
تمام آلودگی ان کے حوصلے ہمت کے سامنے زچ ہے ۔ماؤں کےبچے شوہر وں کی بیویاں فضائی حملوں میں ملبے کے ڈھیر سے زندہ بھی نکلتے ہیں اور شہید ہوتے ہیں تو شہادت کے انگلی کھڑی ہوتی ہے گواہی کے اللہ ایک ہے اس کائنات کا خالق و مالک اور رازق ۔۔۔ان کا ایمان دیکھو کہ وہ بھوکے پیاسے قرآن حفظ کرتے ہیں۔ روزے رکھتے ہیں ، بچے مٹی اور گھاس کھاتے ہیں ۔
اسرائیلی اللہ تعالی کی کبھی محبوب قوم تھی سب سے زیادہ سرکش قوم ہے تھرڈ ٹمپل اوردجال کی آمد کے لیے چھ ماہ سےغزہ میں خون کی ہولی کھیل رہا ہے ، بچوں کی نسل کشی غزہ کی پٹی سے فلسطینوں کو نکالنے ،مسجد اقصی پر قبضہ کرنے کے لیے پاگل ہورہا ہے۔ گھروں اسکولوں اسپتال تک تباہ کر چکا ہے، کھانے کی اشیا کے ٹرک رفح باڈر سے آنے نہیں دےرہا۔ پینے کے پانی کی فراہمی بھی روک رکھی ہے ۔
پوری مغربی دنیا کی حکومتیں اور اسرائیل کا سرغنہ امریکہ جو سب سے بڑا اتحادی ہے،اس کی مدد کررہا ہے تمام مغربی سپر پاورز اس کا ساتھ دے رہی ہیں مگر ان کے عوام احتجاج کر رہے ہیں ۔ غزہ میں ان سپر پاورز کے ظلم وستم کے خلاف ان کی اور اسرائیلی پروڈکٹ اور چیزوں کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے ۔خیبر کے قلعے کی طرح جب نبی صہ نے ان کے درخت کاٹ کر معیشت کو نقصان پہنچایا تو وہ قلعہ چھوڑنے پر مجبور کیا ۔
قوت ایمانی کے ساتھ وہ ہر طرح کی حالت کو اللہ تعالی کاامتحان اورالقدس اللہ کی امانت سمجھ کی سلطان صلاح الدین ایوبی بنےلڑ رہے ہیں ۔اسرائیل نے بمباری غزہ، رفح اور یونس کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے مگر فلسطینی اپنے حق سے پیچھے نہیں ہٹ رہے ۔
بیشک یہ ایک غزہ کی مسلم ماں کی تربیت ،حوصلہ اور ایمان ہے ۔ 35ہزار سے زائد بچے بوڑھے جوان شہید ہو چکے ہیں وجہ ان کے پیچھے عورت ہے ، وہ ماں ہے جو ان کو اس قربانی کے لیے تیار کر رہی ہے ، بیوہ عورت اکیلے بچوں کی پرورش کر رہی ہے ۔ مرد عورت کے بغیر بچوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے ۔ اور چھوٹے بچے یتیم اکیلے سڑکوں پر پھر رہے ہیں ۔ ماں باپ تنہا ہیں ۔ بچے شہید ہوگئے مگر وہ القدس کے لیے اللہ کی رضا پر راضی ہیں ۔
حماس کے رہنما کے بچے ،بیٹے ، پوتے اور پوتیاں شہید ہوگئےمگر وہ سب اللہ کی رضا میں راضی ہیں اور بس الاقصی اور غزہ کی آزادی کے لیے کوشاں ہیں ، سب برداشت کر رہے ہیں 57مسلم ممالک تساہلی اور بے حسی کا شکار ہیں مگر ممالک نے بھی عالمی عدالت میں مقدمہ کیا کہ اسرائیل جنگ بند کرے ۔یہ دہشت گرد ہے ۔ اس نے فلسطین پر ناجائز قبضہ اور جنگ مسلط کررکھی ہے گر امریکہ اس کو ویٹو کر دیتا ہے ۔
فلسطینی ماؤں کی قربانی رائیگاں نہیں جا رہیں ۔ ساری دنیا میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے۔ خواتین مرد عورتیں بچے پادری ، کھلاڑی ہرطرح کے لوگ ان کے صبر اور ایمان کے جس میں ان کا اللہ راضی ہے، قبلہ اول کی حفاظت میں جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں ، یہ ان کا کامل ایمان ہے جو ہمیں حیران کررہا ہے اس سال کا "مدرز ڈے "فلسطین کی ان بہادر عظیم ماؤں کے نام ہے جنہوں نے اپنے اللہ تعالیٰ کی رضا اس کی سر زمین کے لیے ہرطرح کی قربانی دی ہے جس کی دنیا میں مثال نہیں ۔ یہ ان کی قوت ایمانی اللہ سبحان تعالیٰ کے قبلہ اول کی حفاظت کے لیے ہے ،غزہ کی ماؤں کو سلام ۔۔
غزہ کی ماں دنیا کے ہر انسان کا تجھے سلام
مدر ڈے کیا ہر دن تیری قربانی و عظمت کے نام





































