
صبا احمد
پاکستان میں پہلے ہیومن ملک بینک کا افتتاح ہو ا۔سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے شعبہ نیونٹولوجی کےایگزیکٹو ڈائریکٹرڈاکٹر جمال رضا
نے بتایا کہ پاکستان پہلا شرعی ملک بینک کا قیام عمل میں لانے میں کامیاب ہوگیا ہے ۔
جب میں نے خبر پڑھی تو حیرت ہوئی اور عقل کےگھوڑے دوڑائے کہ ہیومن بینک میں خواتین ہی یہ کام کریں گی اور یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے ؟۔دودھ جو مائیں پلاسکتی ہیں نہیں پلاتیں کیوں کہ ہمارے فیگر خراب ہو جائیں گے ۔یہ کافی سال پہلے کانظریہ تھا مگر بریسٹ کینسر کے بڑھتے کیسز نے خواتین کو باور کروایا کے مدر فیڈ بچوں کے لیے نہیں ماؤں کے لیے بھی کتنی اہم ہے۔تو وہ اس طرف راغب ہوئیں مگر کچھ خواتین کو کم دودھ کے مسائل اور کچھ کو کسی وجہ سے اپنا دودھ بچوں کو پلانا مشکل لگتا تھا اسی کے پیش نظر مغرب نے ملک بینک بنایا ۔
کچھ کم عقلوں نے شرعی بینک کا تو نام دیا ہے مگر شریعت کے لحاظ سے وہ بچے کی رضائی ماں ہوجائے گی اور اس خاتون کے بچے رضائی بہن بھائی ہوں گے تو یہ کیسے ممکن ہوگا اور روز کوئی دودھ دے گا ۔ملک بینک کم عقل وفہم رکھنے والے ڈاکٹر نے بنایا ہے ۔ کچھ جمال رضا جیسے سیکولر مائنڈ لوگ جو دین اور شریعت کا علم نہیں رکھتے مغرب کی اندھی تقلید میں قوموں ،نسلوں اور مذہب کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔ اپنے ذاتی مفاد کے لیے ۔
دوسرا یہ کہ اب مجبور اور غربت کے ہا تھوں تنگ مائیں اور نکمے باپ دودھ اپنےبچوں کےمنہ سے نکال کر بیچیں گے،اس پورے عمل سے حق دار کا حق تو مارا گیا ۔اس طرح رشتوں کا تقدس باقی نہیں رہے گا ۔رومی یہودی اور عیسائی کسی بھی سگے رشتے سے نکاح کر لیتے ہیں ۔ ۔یہاں تک پوتا ،دادی سے بہن بھائی سے جیسے مصر کے ایک فرعون بادشاہ کا ایک بیٹا معذور تھا اس نے بہن سے نکاح کیا تھا ۔اس طرح اخلاقی و معاشرتی خرابیاں اور معذور بچے پیدا ہونے سے معذور قوم پیدا ہوگی ۔یہ اسلامی شرعی اور معاشرتی طور پر جائز نہیں گناہ ہے ۔قرآن وسنت کے خلاف ہے ۔
اس طرح کے بینک کے قیام کا خلاف زیادہ سے زیادہ علماء کرام فتویٰ دینا چاہیے۔یہ حلال نہیں حرام اور گناہ ہے ۔
علماء اور حکومت پاکستان کے وزیر مذہبی امور کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔یہ سنگین مذہبی و نسلی مسئلہ ہے یہ بینک کسی طرح شرعی تقاضوں پر پورا نہیں اترتا ۔ جناب مفتی تقی عثمانی صاحب نے اسے غیر شرعی قرار دیا ہے۔ تو حکومت کو چاہیے اس ملک بینک کو فی الفور بند کرے ۔





































