
صبااحمد
جنگلات ماحولیاتی تبدیلیاں کا سبب ہیں ۔۔۔ماحول آپ کے ارد گرد کی آب وہوا،موسم ، بود وباش گرد ونواح میں پائے جانے والے وسائل اور
جاندار ہیں ۔
جنگلات کسی بھی علاقے کی آب و پر ہوابراہ راست اثرانداز ہوتےہیں ۔ یہ بہت اہم ہیںجن علاقوں میں جنگلات زیادہ ہیں وہاں بارش زیادہ ہوتی ہے ۔ درخت اور پودے ہماری خوراک کا%80ہیں۔انسانوں کی طرح یہ بھی جاندار ہیں ۔سانس لیتے ہیں۔ کھاتے پیتے اور زمین کی گردش کے ساتھ گھومتے ہیں ۔۔جنگلات موسم کی تبدیلی بارش اور زمینی کٹاؤ کا اہم سبب ہیں ۔۔۔
جب دنیا وجود میں آئی سب سے پہلے زمین پرپانی تھا اس میں پھر درخت اور چرند پرند ۔حضرت آدم نےرہائش کےلیے درختوں کو کاٹا ،اپنے استعمال کے لیے گھروں اور مکانوں کے لیے پھر کھیتی باڑی شروع کی تو پھر انہیں کاٹ کر زمین کو صاف کرکے بیج بو کرمختلف اجناس اگائے ۔
ماحول میں چند سال یا صدیوں میں آب وہوامیں تغیر،تبدل یا تبدیلی قدرتی عمل ہے ۔ دوسری بڑی وجہ بڑھتی ہوئی آبادی،جنگلات اوژون لیئر کا ڈیمیج ہونا ہے ، فضائی آلودگی کی وجہ سے اس میں سوراخ ہورہے ہیں۔گرمی سردی بڑھ رہی ہےاور آلودگی بھی سورج کی الٹرا وائلٹ ریز اوژن لئیر میں سوراخ کی وجہ سے براہ راست ہم تک ہماری فضا میں آرہی ہیں ۔انڈسری کی وجہ سے کیمیائی دھواں ہوا میں اور فاضل مادے پانی اور مٹی میں شامل ہورہے ہیں ۔ اس سے انسان جانور اور آبی مخلوق پر تابکاری مادے اثرانداز ہوتے ہیں۔
پاکستان قدرتی وسائل سے مال و مال ہے مگر انہیں درست طریقوں سےکبھی استعمال نہیں لایاگیا۔قدرتی جنگلات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ درخت اپنی خوراک بنانے کے دوران کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اورآکسیجن گیس بناتے ہیں جو جانوروں اور انسانوں کے سانس لینے کے لیے ضروری ہے ۔شجر کاری مہم سال میں دو مرتبہ ہوتی ہے ۔
مگر باغوں اور شہری آبادی میں درخت مسلسل کم ہو رہے ہیں ۔ وجہ تعمیراتی کام تیزی ہو نا ہے ہر جگہ سے درخت کاٹے جارہے ۔ہر تین چار منزلہ گھر تعمیر ہورہے ہیں اور ہر گھر کے مکین کے پاس دو گاڑیاں تو لازمی ہیں ۔
گھروں کے سامنے جو درخت لگےتھے، انہیں کاٹ کرکارپارکنگ کے لیے شیڈ لگائےجارہیں جبکہ گھنے سایہ دار درخت شیڈ اور آکسیجن دونوں فراہم کرتے ہیں مگر اندھا دھن فیشن کی تقلید بہتر لائف اسٹائل کے چکر میں زندگی اور سانس لینے کو مشکل بنا رہے ہیں ۔
دوسری طرف انڈسری کا دھواں ان کا کیمیائی ویسٹ فضا زمین ہوا اور پانی کو آلودہ کر رہےہیں ۔ صنعتکار صفائی اور آلودگی سے نا آشنا ملک وقوم کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ کارخانوں میں دھواں کے اخراج کے لیے الیکٹرک چمنیاں لگائی جائیں دھواں ہوا میں خطرناک کیمیائی مواد نہ چھوڑے ۔
درختوں کا بے دریخ کاٹنا قدرتی وسائل کو ضائع کر نا ہے ۔ اللہ تعالی نےقدرتی وسائل میں پانی اورجنگلات پھلدار درختوں فصلوں سے ملک کو مالدار بنایا تھا مگر انسان نے بےعقلی سے ضائع کیا۔ کسان فصل کاٹ گھاس کو آگ لگا کر فضا کا آلودہ کر رہے ہیں ۔سردیوں میں فوگ زیادہ ہو جاتی ہے ۔دمہ کے مریضوں کو سانس لینے میں مشکل پیش آتی ہے اور موت واقع ہو جاتی ہے ۔
اسی طرح زیادہ ٹریفک کے دھوئے سے سانس میں مشکل اور جلدی بیماریاں ہو تی ہیں۔۔ابھی تو ہمارے پاس قدرتی گیس کا خزانہ ہے، ورنہ مٹی کا تیل لکڑی اور کوئلہ کی درآمدات سے ذرائع مبادلہ بہت دینا پڑتا ۔
دریاؤں سمندر میں آلودگی، طغیانی زیادہ سیلاب اور زمین کا کٹاؤ ماحول میں تبدیلی کا باعث بنتے ہیں ۔ دیہی زندگی کا زیادہ شہری آبادی کی طرف اخراج کی وجہ سے شہروں پر بوجھ بڑہ رہا ہے۔ بجلی ،گیس ، پانی کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ بارش کا پانی سمندروں میں چلا جاتا ہے ،ڈیم کم ہیں اگر چھوٹے چھوٹے ڈیم بنا کر پانی کو محفوظ کیا جائے، سیلابوں میں کمی شہری اور دیہی آبادی کو نقصان کافی حد تک کم ہو جائے گا اور کاشت کاری کے لیے فصلوں کو زیادہ پانی میسر آئے گا اور زراعت ترقی کرے گی ۔
زیادہ بجلی پیداکرنے سے یہ بحران ختم ہو جائے گا ۔اس کے لیے عوام اور حکومت صنعت کاروں تاجروں کسانوں کو مل کر ہر طرح کی آلودگی زمینی فضائی آبی شور کی آلودگی جو ٹریفک کا شور ہے ،اس پر قابو پایا جائے گا مگر ہماری حکومتیں تو گونگی بہری ہی آتی جاتی ہیں۔ انہیں ملک وقوم کی فلاح وبہبود سے کوئی تعلق نہیں ۔انہیں صرف اقتدار اور اپنے بینک بیلنس کو بڑھانے کی فکر رہتی ہے ۔ اللہ کے ہاں کا اکاؤنٹ بیشک خالی رہے جو اصل ہے ۔قدرت کا جو نظام ہے اگر آپ اس کی نفی کریں گے ،نقصان اٹھائیں گے۔ اس کا واحد حل زیادہ سے زیادہ شجر کاری درخت لگائیں ۔انہیں کاٹیں نہیں بلکہ بچائیں ۔
"درخت لگانا سنت رسول ہے اور درخت کا تنا جو مسجد نبوی میں تھا اور آپ صہ اس پر ٹیک لگایا کرتے تھے ،جب منبر بن گیا تو درخت رونے لگا کہ اب مجھ سے ٹیک نبی صہ نہیں لگائیں گے تو اسے جنت کی بشارت ملی کے وہ تنا جنت میں جائے گا تو درخت لگانا بھی عبادت ہے ۔"
مصنوعی جنگل ہاتھ سے لگائیں جیسے چھانگا مانگا کا جنگل ہے ۔۔ اگر معیشت اور آب و ہوا کوبہتر کرنا چاہتے ہیں اور صحت مند زندگی و معاشرہ چاہتے ہیں توب ضروری ہے کہ ہم سال میں دو مرتبہ شجر کاری مہم کے دوران زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں۔





































