
صبااحمد
فلسطین میں جنگ اور بھوک پیاس یہود کا آخری ہتھیار ہے جو اب وہ استعمال کر رہا ہے۔ انہیں غزہ سے دستبردار کرنے کے لیے کے وہ ہر طرح
کا اسلحہ ان کے خلاف استعمال کر چکے ہیں مگر ناکام ہوگئے ۔ان کے حوصلوں اور ہمت کو توڑنے میں ناکام رہے ،چالیس ہزار کے قریب لوگ شہید ہوگئے ،سب سے زیادہ بچوں کی نسل کشی کی گئی ۔
فلسطین اب کھنڈر نم چکا ، بھوکے پیاسے زخمی لوگ اور خوف سے کانپتے بچے ہیں ،ہر طرف شہداءکے لاشے ، فلسطین میں رفح باڈر خوراک کی رسائی کے لیے بند ہے ۔جنگ و بمباری سے بے گھر لوگ اور بچے علاج معالجے کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اب طویل جنگ اور بے گھر اور بےسروسامانی سے اسرائیل نے اپنے حامیوں کے ساتھ فلسطینیوں کو بے بس تو کیا ہے مگر ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے ۔
بچے بھوک پیاس اور زخموں کی تاب نہ لاکر والدین کی گود میں دم توڑ رہے ہیں ۔یہ ظلم ہےاور کربلا کا منظر ہے ۔
مسجد اقصی کو لوگ کسی بھی تہوار اور موقع پر تنہا نہیں چھوڑ رہے ،وہ وہاں اسرائیلی کی سخت ناکہ بندی اور ڈنڈے کھا کر بھی نماز پڑھنے جاتے ہیں ۔کہ یہ ہماراقبلہ اول ہے ۔ہم اس کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ،وہ موت سے نہیں ڈرتے اور قرآن سینوں میں محفوظ کرتے ہیں ۔ان کے خاندان کے خاندان شہید ہوگئے مگر وہ ایمان کے پکے ہیں ۔
ان کی قوت ایمانی کو دیکھ کرلاکھوں لوگوں نے اسلام قبول کیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ" اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد "
کیا اللہ ورسولہ صہ سے والہانہ محبت انہیں طاقت دیتی ہے کہ اتنی بڑی صہیونی طاقت کو ہلا کر رکھ دیا ۔حماس کے مجاہد اور یمن کی چھوٹی سے فوج سمندر میں لڑ رہی ہے ۔ دو سپر پاورز کے ساتھ انہیں ناکوں چنے چبوا رہی ہے ۔یہ سچائی اورایمان ہے ۔
فلسطینی غزہ کو چھوڑنے کو تیار نہیں ۔ستر برس بیت گئے اسی عرصے سے اسرائیلی غاصب ہیں ۔اصل وطن تو فلسطینیوں کا ہے ۔وہ اس سر زمین کے اصل مالک ہیں مگر اسرائیل زبردستی اس کو اپنی جاگیر دولت اور اسلحے کے ذریعے مٹانے پر تلا ہے مگر یہ سچائی چھپ نہیں سکتی ۔مغربی عوام نوجوان اور طالب علم غزہ کے حق میں سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ ریلیاں نکال رہے ہیں، لاٹھی چارج کی صحبتیں جھیل رہے ہیں، جیلوں میں بند ہیں مگر سچائی کا ساتھ دے رہے ہیں مگر صد افسوس 57مسلم ممالک ہمہ تن گوش ،خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ احتجاج تو درکنار اپنی عوام کو بھی آواز اٹھانے کی اجازت نہیں دے رہے۔ سعودی عرب اور مصر نے اپنے ہوائی اڈے بھی اسرائیل اور امریکہ کو دے دیئے ۔ فلسطین کو تنہا چھوڑ دیا ۔
جبکہ حدیث ہے کہ "مسلمان آپس میں جسد واحد کی طرح ہے۔فلسطین میں بچے یتیم مسکین تنہا کھنڈروں میں رہتے ہیں۔ سوتے ہیں افسوس کے وہ تنہا ہیں ۔
امام حسین رضہ عنہا کی طرح جب انہوں نے یزید کی طاغوتی حکمرانی جو شورائی اور خلافتی نظام کے برعکس تھی ۔ خلافت کے نظام میں شخصیت پرستی اور بادشاہی نظام نہیں بلکہ اکثریت کی رائے اور بہترین کردار سازی کی بنیاد پر بیت کے ذریعے ہے مگر یزید ان تمام خوبیوں سے عاری تھا اور امیر معاویہ نے یزید کو مسلمانوں خلیفہ نامزد کرکے دین اسلام کی خلاف ورزی کی اور حضرت امام حسین ابن علی نے اس کو ماننے سے انکار کیا ۔اور اپنے پورے پورے خاندان کے ساتھ جہاد کیا اور ان کا پورا خاندان پنگھوڑے کے بچے بھی شہید ہوئے پر یزید نے دریائے فرات کا پانی بند کردیا ،ان کے بچے بھی بھوکے پیاسے شہید ہوئے ،صرف دین اسلام کے لیے ۔
امام زین العابدین کے سوا جو علالت کی وجہ سے جنگ میں شریک نہ ہوسکے ۔ تیرہ سو برس گزر گئے ا،س قربانی کومگر اہل بیت اور نبی کریم صہ کے خاندان اور ان کے پیارے نواسے کی قربانی کی یاد ہر سال بڑی عقیدت کےساتھ یاد کیا جاتا ہے ۔یہ تربیت ہے مسلمانوں کی آپ کو دین اسلام کے قوانین پر عمل پیرا رہنا ہے ۔
جیسے حضرت امام حسین نے اپنی شہادت سے امر کردیا
بقول علامہ اقبال
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
اس وقت یہ کام فلسطین کا ہر بچہ بوڑھا جوان مرد اور عورت کر رہا ہے اورشہادت کے رتبے پرفائز ہو رہا ہے اور ہماری حکومتیں اور حکمران اسرائیل کے خلاف جنگ نہ کرکے طاغوت کا ساتھ دے رہے ہیں مگر ہم نے ایمان کی تینوں حالتوں کو پورا کرنا ہےبرائی کو ہاتھ سے نہیں روک سکتے تو دوسرا درجہ اسے براکہنا ہے۔تیسرا سب سے کمزورمگر دل میں برا کہنا ہے ۔ اور سوشل میڈیا پر فلسطین کے خلاف اسرائیل کی کاروائیوں پر تنقید کرتے رہنا ہے. اس وقت کا میدان جنگ یہ بھی ہے اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنا ہےمگر اقوام متحدہ امریکہ کا ادارہ ہے جو مسلمانوں کا کبھی ساتھ نہیں دیتا ۔ہمیں فلسطین کی جنگ لڑتے رہنا ہے جیسے فلسطینیی تنہا نہتے قبلہ اول کے لیے لڑ رہے ہیں ۔
بقول اقبال
یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی





































