
صبااحمد
میاں چنوں کے ارشدندیم نے اولمپکس گیمز میں 92.97 میٹر دور جیولن پھینک کرنہ صرف وہاں موجود کھلاڑیوں بلکہ دنیا کو
حیران کردیا ،40 سال بعدپاکستان کو گولڈ میڈل جتوا کر حقیقی خوشی سے ہم کنار کیا اور پہلے سے موجود طویل جیولن تھرو کا ریکارڈ توڑ کر دنیا میں نیا ریکارڈ بھی قائم کردیا ۔
وہ پاکستانی ایتھلیٹ جس کے پاس چند ماہ قبل تک عالمی معیارکاجیولن تک نہیں تھا ،اس نے کمال کردکھایا ۔بھارت سے آیا لڑکا نیرج چوپڑا جو دوسرے نمبر پر رہا ،ارشد ندیم کے مقابلے میں اس کے پاس ایک سے زیادہ جیولن تھیں اوربھارت نے اس پر کروڑوں کے وسائل بھی خرچ کیے تھے ۔
اس وقت جب ملکی معاشی حالات غیر مستحکم تھے،قوم مہنگائی اور مصائب کی وجہ سے افسردہ تھی ۔ارشد نے پاکستان کانام دنیا میں روشن کیا۔ کبھی دنیا میں پاکستان اسکوائش ،ہاکی اور کرکٹ ورلڈ چیمپئن کے نام سے جانا جاتا تھا ۔ آج یہ کمنام کھیل اور کھلاڑی پاکستان کی شناخت بن گیا۔
کرکٹ کے کھلاڑی صرف کھیلتے ہیں مگر اپنی جیبیں بھر کر آجاتے ہیں، افسوس انہیں ملک کے پیسے اور عزت کی پروانہیں مگر ارشد ندیم نے وسائل نہ ہونے کے باوجو دمحنت کی ،ہمت نہیں ہاری اور 40 سال بعد پاکستان کو گولڈ میڈل دلوایا اور قوم کو بڑی خوشی دی ۔
معاشی بدحالی اور بلوں کے بوجھ تلی دبے عوام کے دل خوشی سےجھوم اٹھے۔امنگیں پھر جاگ اٹھیں اور کھلاڑیوں کے لیے میدان اور کمپلیکس بنانے کاجذبہ مختلف کمپنیوں کے دلوں میں پروان چڑھا اور ایف بی آر نے اعلان کیا کہ وہ ارشد ندیم سے ان کو انعامات کے طور پر ملنے والے کروڑوں کی رقم پر ٹیکس نہیں لیں گے ۔
یوم آزادی کے موقع پرجہاں فلسطین اور مسجد اقصی ہمارا قبلہ اول اسرائیل کی اور کشمیر ہماری شہ رگ بھارت کی قید میں ہیں ۔فلسطینی بھوکے پیاسے ،بے گھر اور شیر خوار معصوم بچے شہید ہو گئے ہم خوشی نہیں منا سکتے تھے ۔بس اس جیت نے دل کو مضبوط کیا کہ مسلمان اپنے ایمان کی طاقت اور جذبے سے بڑے سے بڑے حریفوں کو زیر کرسکتا ۔
ملک تو آخر اپنا ہے یہ خطہ ارض جو کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل ہواتھا۔ یہ سبز ہلالی پرچم پیرس کی سر زمین پر لہرایا ۔قومی ترانہ گونجا۔اس زمین پر ارشد ندیم نے سجدہ کیا ۔ اللہ تعالی پاک نے اس کی فتح سے دشمن کو ناکام کیا ۔





































