
صبا احمد
ہرتہزیب اورمعاشرت کے عورت کے لیے کچھ احکام ہوتےہیں ۔ دین اسلام نےعورت کو حقوق سےآراستہ کرنے کے بعد مسلم عورت کو حجاب کا حکم دے
کرمنفردبنایا کہ دنیا میں وہ الگ تھلگ نظرآئےاس کی عزت وتکریم ہو۔ وہ تہذیبوں کی آبیاری اورنشوونماکرنےوالی ہے۔
توحید ، نماز ، روزے اور حج کی طرح حجاب کا بھی حکم دیا تو فرضیت کے زمرے میں آیا ۔ اہل ایمان کی عورتوں پر "عورت"کامطلب ہی ڈھکی ہوئی ہےتاکہ دوسری تہذیبوں کی یلغار سےبچی رہے، اس کی جداگانہ پہچان ہو۔ معاشرے میں اسے عزت و افتخارملے۔ اسے معاشرتی استحکام میسرہو جو اس کے لیے باعث تحفظ ہو۔۔
ہر دین ومعاشرے کاایک اہم وصف یااہم جزہوتا ہےاوردین اسلام کا امتیازی وصف حیاءہے۔حیا لفظ کی اہمیت سمندروں جتنی وسیع اور گہری ہےجس کی تہہ میں رازوں کا طوفان دفن ہوتا ہے۔ یوں کہ لیں کے حیا وہ قوت جوانسان کو فحش باتوں اورمنکرات سےروکتی ہے اور ایسی صفت ہے جو انسان کو لغزش کے موقع پرسہارا دیتی ہے۔اور یہی اسلام کی خاصیت ہے کہ اس نے"حیاء"کو ایمان کا جز قراردیا ۔"نماز دین کا ستون ہے اور بے حیائی سے روکتی ہے "۔
اور حدیث ہے کہ "حیا اورایمان ساتھ ساتھ ہیں ان میں سے ایک اگرحیا ختم ہو جائے تو ایمان خود بخود ختم ہو جاتاہے "
یہ نیکی کا راستہ ہے،خیرلانے کا موجب ایمان کا جزہےتومسلمان کی صفت بھی ہے اورمصیبت اورنافرمانی سے بچانے والی بھی ۔
اس وقت مغربی این جی اوزاور سوشل میڈیا کی یلغار فحاشی کی صورت میں ہمارے سروں پرمسلط ہےجو اب عام کی جارہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ہرحیا دار فرد پریشان ہے۔ نبی کریم صہ کا فرمان ہے"حیاء ایمان اور ایمان بہشت میں لے جائے گا،بے حیائی جفا ہےاورجفا جہنم کا موجب ہے"(مسند احمد)
سورۃ الاحزاب کی آیت حجاب نمبر 53 میں کہا گیا ۔
اے نبی صہ" اپنی بیویوں اوربیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہ دیجئےکہ اپنے اوپر چادروں کے پلو لثکا لیا کریں۔یہ زیادہ مناسب طریقہ ہےتاکہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں "
اسی طرح قرآن مجید میں (سورۃ النور کی آیت 31)میں ہےکہ "اوراپنےسینوں پر اپنی اوڑھنیوں کےآنچل ڈالے رکھیں "
"ا(وراے نبی )صہ مومن عورتوں سے کہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اوراپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤسنگھارنہ ظاہر کریں بجز ان کے جو خود ظاہر ہو جائےاور اپنے پاؤں زمین پرنہ مارتی ہوئی چلیں ۔"
سورۃ الاحزاب کی آیت 53 آیت حجاب ہے ۔ جلباب اورخمر دراصل بڑی (چادراورچھوٹا دوپٹہ )
آج سے چودہ سو سال پہلے کا منظر ۔۔
ام خلاد رضہ صحابیہ رسول صہ کابیٹا شہید ہو چکا، حجاب اوڑھےاس کاپتا کرنےنکلتی ہیں،لوگ حیرت سےدیکھتےہیں ۔بیٹا شہید ہوگیا اورانہیں نقاب کی فکرہے۔ جواب دیتی ہیں :اے لوگو،اولاد کی مصیبت میں مبتلا ہوجانا بے حیائی کی مصیبت میں گرفتار ہونےسے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ میں نے اپنا بیٹا کھویا ہے ۔۔۔۔۔۔اپنی حیاء تو نہیں۔"
" ایک بار حضرت عائشہ کی بھتیجی حفصہ رضہ بنت عبد الرحمن ام المومنین رضہ کے پاس آئیں ،باریک اوڑھنی اوڑھے ہوئی تھیں۔حضرت عائشہ نے اس باریک اوڑھنی کو پھاڑ ڈالا اور حضرت حفصہ رضہ کو موٹی اوڑھنی اوڑھادی" ۔(موطا )
یہ تو تھے لباس اورستر کے احکام مگر "حجاب "اس سےبھی بڑھ کر ہے ۔موجودہ دورمیں مغرب نے دین اسلام کے حجاب کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے اور 2001سے اپنی توپ و تفنگ کا رخ عالم اسلام کی عورت کے حجاب اور حیاء کی طرف موڑ رکھا ہے، ماڈرن اسلام کے علمبردار ہراس چیز کو کو باطل قرار دیتے ہیں جسے مغرب ناپسند کرتا ہے ۔
آج کی عورت کو بہت خطرات کا سامنا ہے ۔ یونیورسٹیز،اسکولزاورکالج سوشل میڈیا نےبچوں کوعمرسےپہلے بڑاکردیاہے،اس طرح کی وڈیوز وائرل ہوتی ہیں جو انسان کےاندر شیطان پیدا کردیتا ہے،شہوانیت کو روکنا مشکل بنا دیا ہے اوربچیوں کےخطرات بڑھ گئےہیں۔
باشعورمسلم عورت جس کا مطلب ہی ڈھکی ہوئی ہے،اپنی عزت و وقار کو سمجھتے ہوئےکہتی ہے حجاب میرافخرہے ،میری پہچان ہے ۔سب سے منفرد واہم سیپ کےموتی کی طرح قیمتی ۔۔۔۔ جسےابھی بھی لوگ عبایا میں دیکھ کر احتراما"راستہ چھوڑ دیتےہیں۔





































