
صبا احمد
آٹھ اکتوبر کو پورا ایک سال ہوگیا ،اسرائیل کا فلسطین پر حملہ اور اس کے بعد جنگ جاری ہے۔ 40فیصدبچوں کو شہید کردیا گیا ہے ۔ ظلم وستم کے پہاڑ
توڑے دیے گئے ۔ تاریخ کی کی ایسی بربریت کہ ہلاکو خان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا گیا ، بھوکے پیاسے بچے گھاس بھوس کھا کر زندگ بسر کر رہے ہیں۔ گھر ملبے کے ڈھیر بن چکے ہیں ۔
فلسطین پر آٹھ اکتوبر کو حماس کی مزاحمت کے بعد سے آج تک اسرائیل دودن کی جنگ بندی کے بعد دوبارہ جنگ بندی پر راضی نہیں ہوا مسلسل ہر طرح کے بم برسا رہا ہے ۔28ستمبر 2024کو امریکہ کی دو ریاستوں میں ہوائی اور سمندری طوفان آئے، یہ ساحلی علاقے ہیں ۔یہاں سمندری اور ہوائی بگولوں کا طوفان تقریباً ہر سال آتے ہیں مگر اس مرتبہ 28ستمبر کے طوفان کو امریکہ نے یلنی نامی طوفان کا نام دیا ہے ۔
آٹھ اکتوبر 2024کو پورا ایک سال ہوگیا، اسرائیل کے حملے کوجب اسرائیل نے فلسطین پر حملہ کیا ۔28ستمبر کو جب طوفان آیا تویہ امریکاکی تاریخ کا بدترین طوفان ہے، جس نے دونوں ریاستوں کے 80 یا 90 فیصد علاقےمکمل تباہ و بر باد کر دیئے ہیں ۔ اتنی ہولناک تباہی آئی کی امریکن ہی نہیں بلکہ پوری دنیا ہل گئی ہے ،یہ دو ریاستوں کی تباہی کا سبب بنا ، اسرائیل کو سارا جنگی سامان ایک تو نارتھ کیرالائنا امریکا کی فوجی چوکی فراہم کرتی ہے جس کی آبادی ایک کڑور ہے ،ہر شخص ریاست کا فوجی سازوسامان بنانے کا کام کرتا ہے ۔یہاں سے سامان بندرگاہ سے جہاز پر لاد کر بھیجا جاتا ہے ۔ سات فوجی چھاؤنیاں ہیں۔ یہاں یہ وہ اڈے ہیں جہاں سے یہاں بم کارگو جہاز سے اسرائیل کو دیئے جاتے ہیں۔جہاز یہاں سے بم لے کر اڑتے ہیں فلسطین پر برساتے ہیں اس کو تباہ کرنے کے لیے ۔یہاں کے زیادہ لوگ فلسطینیوں کے اتنے خلاف ہیں کے جب یہاں سے جہاز بم لے کر اڑتے تھے تویہ لوگ خوشی سے نعرے لگاتے تھے ۔ اب اس ریاست کو از سرنوتعمیر کے لیے 35بلین امریکن ڈالر لگے گے ۔
دوسری ریاست فلوریڈا ہے ۔ یہاں امیر ترین یہودی رہتے ہیں اور امریکی کانگرس کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ وہ یہاں سے بل اور امداد پاس کراتے ہیں جو فلسطین کو تباہ کرنے کے لیے اسرائیل کو دی جاتی ہے ۔ اس مرتبہ ۔180میل فی گھنٹہ ہوا کا طوفان آیا جو آج تک دنیا بھر میں نہیں دیکھا گیا ۔اس طوفان نے فلوریڈا کو گھیرے میں لیا ۔ریاست نے لوگوں سے گھر پہلے ہی خالی کروالیے ۔ دو کڑور کے 20لاکھ کی آباد ی ،جن میں 20لاکھ بچے ہیں، سب بے گھر ہوگئے ۔ اتنا شدید طوفان تھا پوری ریاست خالی کردی گئی ۔اس کو ازسر نو تعمیر کرنے کے لیے دوسو بلین ڈالرلگیں گے ۔
غزہ کو از سر نو تعمیر کرنے کے لیے 53بلین لگیں گے ۔ اسرائیل خود کہتا ہے کہ فلوریڈا ہماری ا فنانس اور پولیٹیکل پاور ہے ۔نارتھ کیرولینا ملڑی پاور ہے ۔ امریکا اسرائیل کو جنگی سامان اور ساتھ نہ دے تو وہ دودن حماس کے سامنے کھڑانہیں ہوسکتا یہ جنگ نہیں لڑسکتا ۔ تقریبا ایک مہینہ پہلے اللہ تعالی نے اپنی قدرت وطاقت سے اور ان شہروں کو ہواؤں اور پانی سے خش وخاک کی طرح بہا دیا ۔ اللہ تعالی کی قدرت جوش میں آئ تو اپنی طاقت دکھائی ۔
اللہ تعالیٰ جس کے قبضے میں ساری کائنات ،چرند پرند ،ہوا پانی اورحشرات ہیں جن سے جب کام لینا چاہے وہ ان کو حکم دیتا ہے ۔کبھی سسری ،ٹڈی دل وبا اور مینڈک کے ذریعے عذاب دیتا ہے ۔کبھی کفار پر عذاب بھیجتا ہے ۔۔۔۔ کبھی زلزلے سے عاد وثمود پر پتھروں کا عذاب،آتے ہیں ۔کبھی آندھی ، طوفان، بارش، ابابیلوں کے ابرہہ کے لشکر پر قدرت غضب میں آتی ہے تو پھر دنیا کے یہ فرعون اور کارون کے خزانوں سمیت زمین بوس ہوجاتے ہیں۔
۔سورۃاعراف میں ہے (آیت 128 )یقینا تمھارا رب سزا دینے میں تیز دست ہے ۔
,"اللہ تعالی نے قرآن میں کہا ہے گھومو اللہ کی زمین پر اور دیکھو اللہ تعالی نے کیسےکیسےعذاب بھیجے ہیں کفار پر".بیشک اللہ تعالی کا عذاب ان پر فلسطینیوں کی شہادتوں اور دعاؤں اور صبر کے بعد آیاہے ۔جب 57اسلامی ملک خاموش تماشائی بنے رہیں ۔جہاد ان پر فرض بھی ہوا مگر اسے نظر انداز کردیا ۔اتنے بزدل کے انہیں فلسطینیوں کی سسکیاں آہ وپکار بھی بھی نہ دکھائی دیتی ہیں نہ سنائی دیتی ہیں۔
اسرائیلی فنانس منسٹر کا کہنا ہے ،اب غزہ کے ساتھ میں یمن ،مصر شام ،اور لبنان کو بھی اسرائیلی ریاست میں دیکھنا چاہتا ہوں ۔غزہ کے بعد اب یہ لبنان پر شدید بمباری کررہے ہیں۔ اس کو ملبے کا ڈھیر بنانے کے لیے مگر اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ ابھی تک ایران اور حزب اللہ ہی فلسطین کی کھلم کھلا حمایت کرتے آئیں ہیں ۔باقی امت مسلمہ چپ سادھے بیٹھی ہے ۔جن کا آپس میں لاالہ کا رشتہ ہے اور دنیا کے تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔





































