
صبا احمد
برصفیرکا ایک سچاعاشق رسول (ص )جس نےنوے سال پہلےتیرہ اکتوبرکومسلمانوں اورہندؤں کوباورکرایا کہ نبی (ص )سےکیسےمحبت کی جاتی ہے اوراس
حدیث کو صحیح ثابت کردکھایا۔
نبی( ص) نےفرمایا کہ کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتاجب تک میں اس کیلئے اپنی جان، مال،اولاد اور ہرچیز سےزیادہ اہم نہ ہوجاؤں "۔
ایسی جرات اور بہادری دکھائی کہ اس محنت کش ترکھان کے بیٹے نے عالموں ، ڈاکٹروں اور انجینئروں کےبچوں کو بھی حب نبی (ص)میں سب سےپیچھے چھوڑدیا اورشہادت کا رتبہ پایا ۔
ہندوراجہ نبی (صہ) کی شان میں گستاخی کرتاجوغازی علم دین کےلیےناقابل برداشت تھی ۔ایک دن علم الدین اس کی دکان میں گیا چھری کے پےدرپےحملے کرکے اسےجہنم واصل کردیا اورخود 1929پھانسی چڑھ گیا ۔
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نےاس کامقدمہ لڑنے کوکہا تو اس نےمنع کردیا۔
ایسے ہوتے ہیں نبی پاک ( ص ) کے متوالے جو ناموس رسالت پرقربان ہونا پسند کرتے ہیں ۔غازی علم دین شہید کا نام آج بھی زندہ وجاوید ہےاور ان کا نام قیامت تک کے مسلمانوں کیلئے حب رسول کے حوالے سے زندہ رہے گا ۔





































