
صبا احمد
چوبیس اکتوبرانیس سوپنتالیس کواقوام متحدہ کاقیام عمل میں آیاجس کامقصدہ پوری دنیا میں امن وامان،انصاف کا قیام ، لوگوں کی فلاح وبہبود اورترقی
تھامگرآج یہ اس کےمتضاد کام کررہا ہے۔ دنیا میں مسلم ممالک کی کوئی شنوائی نہیں۔اقوام متحدہ ترقی یافتہ ممالک اوراپنے چہیتوں کومن مانی کرنےکی کھلی اجازت دیتاہےاور ظلم کرنے والوں کو نہیں روکتا۔
اقوام متحدہ کا صدر مقام امریکا میں ہےاس لیے اقوام متحدہ میں امریکا کی مداخلت عام سی بات ہے،ویت نام،عراق ،بوسنیا ،کشمیر،افغانستان اوراب فلسطین میں امریکی مداخلت دنیا کے سامنےہے، جسے روکنےمیں اقوام متحدہ بے بس ہو چکا ہے ۔
امریکا کا اصل ہدف ہو تا ہےکہ یہ تمام ممالک کےاندرونی معاملات میں دخل اندازی کےبعد خانہ جنگی کرائے۔کچھ ممالک کے مسائل میں دخل اندازی کرکےان کے مسائل حل کرانااوردنیا کی نظر میں ہیرو بننا امریکہ کا پرانا وطیرہ ہے۔ اقوام متحدہ نےآج تک مسلم ممالک کےمسائل حل نہیں کیےبلکہ مسائل پیدا کیےہیں۔اصل مسئلےجوں کےتوں ہیں۔
مسئلہ کشمیراورفلسطین کبھی حل نہیں ہوئے،تاہم اقوام متحدہ نے کشمیرمیں سادہ ساعمل ریفرنڈم بھی نہیں کرایا کیونکہ بھارت اس کامنظورنظر ہے۔ ستائس اکتوبرکو کشمیر میں یوم سیاہ منایاجاتا ہے،ان کے حق خود ارادیت اے37اور 237 کوختم کرکےکشمیر کو بھارت میں ضم کیا گیا،عالمی قوانین کے مطابق بھارت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرے ۔
کشمیر کوزبردستی اپنا حصہ بنانےپر،ان پرظلم و ستم کیخلاف بھارت کو تنبیہ کرنے کیلئےاقوام متحدہ نے کبھی اپنا کردارادا نہیں کیامگربھارت نےاپنے 9لاکھ فوجی کشمیریوں پر مسلط کرکے ظلم وستم کی انتہا ضرورکی ہے ۔
حریت پسند لیڈرز کوجیلوں میں بند کرکےشہید کیا گیا،300افراد جیل میں قید کتنے ہی لوگ لاپتا ہیں ، کشمیرکے نوجوانوں اور بچوں کے لیے اسکول کالج اور یونیورسٹیزکے دروازے بند ہیں۔ سوشل میڈیا بند لینڈ لائن بند،دنیا سے ان کا رابطہ بند کردیا گیا ہے تاکہ دنیا کوان کی جدوجہد آزادی اور ظلم سے متعلق معلوم نہ ہو ۔
آج فلسطین میں 50 ہزار کے قریب خواتین ،بچوں بوڑھوں کوشہید کیا جا چکا پے مگراقوم متحدہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔وہ ظلم ہوتا دیکھ رہا ہے ،اسے احتجاج کے ذریعے دنیا بھر سے بتایا جا رہا ہےکہ امریکا اسرائیل کی مدد کررہا ہے۔ تمام مسلم ممالگ ظلم ہوتا دیکھ رہے ہیں لیکن اقوم متحدہ اپنی کسی بات پر عمل درآمد نہیں کرواسکا ۔آج ہمیں حضرت عمر رضہ اور صلاح الدین جیسے عظیم سپاہ سالاروں کی ضرورت ہے جو مظلوم لے لیے انصاف حاصل کرسکیں ۔





































