
رنگ نو کے مقابلہ میں شامل ایک مضمون
صبا احمد/ کراچی
ٹی وی ڈرامے سب سے زیادہ خواتین اور بچیاں دیکھتی ہیں ۔ڈرامے گھروں میں مرد ،خواتین لڑکوں اورلڑکیوں کی انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ ہیں ۔اس طرح ٹی
وی ڈرامے معاشرتی، معاشی ،سماجی رسم و رواج اورروایات کی عکاسی بھی کرتے ہیں ،اس لحاظ سے میڈیا تہذیب و تمدن ،صحت مند معاشرے کے ارتقاء اور بقا کا ضامن ہونا چاہیے، اس لیے میڈیا کی بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ اچھے اصلاحی اور تعمیری ڈرامے پیش کرے ۔
اس وقت سوشل میڈیا کے دجالی طوفان نےہرمیڈیا کو اپنے چنگل میں لیا ہواہے۔فیس بک،یوٹیوب اورانسٹاگرام مختلف قوموں مذاہب اورثقافتوں کاسر چشمہ ہے۔یہ ہر مکاتب فکر کے لوگ کی رسائی میں ہے ۔ٹی وی ایسا ذریعہ ہے جو ہمارے معاشرے کی عکاسی ڈراموں میں کرتا ہے مگر آج صورتحال مختلف ہے ۔پہلے معاشرتی برائیوں کی تشہیر نہیں کی جاتی تھی۔ انہیں دبایا جاتا تھا کہ یہ لوگوں میں عام نہ ہوں اور حضور صہ بھی کچھ معاملات کو معاشرتی برائی کو عام ہونے سے پہلے اس کا سدباب کرتے تھے اور خاندان کے بزرگ بھی بچوں کی غلطیوں کو معاف کرکے دوبارہ نہ کرنے کا عہد لیا کرتے تھے ،اسی طرح آج کل کے ڈرامے کچھ موضوعات پر ٹی وی چینل پر ایک ساتھ پیش کیے جاتے ہیں کچھ منفرد خاندانی ڈرامے آج بھی پیش کرنے کی کوشش میں گلیمر پیدا کرنے کیلئے اسلامی سماجی حدود کو پھلانگا جا رہا ہے ۔
مشہور کہاوت ہے ۔۔۔۔۔
خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے۔
اس طرح کے ڈرامے جو مذہب اور مسلم معاشرےکی عکاسی نہیں کرتے حیا،حجاب کو بھی پیش نظر نہیں رکھتے ۔لباس زبان اور پردے کی حدود بھی ختم کر رہے ہیں ۔دوسرا فیشن انڈسٹری بھی ٹی وی ڈراموں کو استعمال کرتی ہے ۔ اخلاقیات کی ترجمانی کرنا لڑائی جھگڑا اور منشیات کا استعمال ، خریدو فروخت بچوں اور طالب علموں میں بڑھتا رججان دکھایا جاتا ہے جس کے منفی اثرات پیدا ہوتے ہیں ۔
پرائیویٹ چینل گرین ٹی وی بہت بولڈسیکولراورمعاشرےمیں بگاڑپیڈاکررہاہے( جیسےقرآن میں ہےکہ کچھ لوگ اپنےفائدےاورچندروپوں کیلئےقرآن کی آیات کو بیچ دیتےہیں) یا اس میں ردوبدل کردیتے ہیں۔ ان کیلئےآخرت کا عذاب ہے ۔
شادی بیاہ میں لوگ اس طرح کےایونٹ آرگنائزر ہائرکرتےہیں جوناچ گانےاوررنگوں کی تھیم بناتےہیں۔ گھرکی ڈیکوریشن جن پرلاکھوں روپےخرچ ہوتے ہیں، دلہن برینڈڈ لہنگے پر لاکھوں روپے ایک دن کیلئےخرچ کرتی ہیں۔غریب والدین مجبور ہوکر قرض لیتے ہیں۔ صاحب حیثیت کی بچیاں پیا دیس سدھار جاتی ہیں اور غریب لوگوں کی آرزو ہی رہ جاتی ہے ۔
کوشش کرکےاصلاحی ڈرامےپیش کریں۔انڈونیشیا مذہبی ڈرامے بناتا ہےاورترکی کےتاریخی ڈرامےارطغرل اورسلطنت عثمانیہ کی فتوحات پر مبنی ڈرامے شاندار ہیں ۔آج کے بچےموبائل کی دنیا میں غرق ہیں۔وہ ان کی تربیت گاہ بن گیا ہے، وہ رشتوں سے دور ہوگئے ہیں۔ گھر میں خاندان کے لوگ کمروں سے ایک دوسرے پر بات کرتےہیں ۔بچے ان سے دور ہوتے ہیں ۔میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اخلاق باختہ ڈراموں سے قوم کو بچائے اور حکومت ان ڈراموں کی نگرانی کرے ۔





































