
شہلا ارسلان
کشمیرپاکستان کی شہ رگ کہلاتا تھاپر مودی سرکار نے اس کی شہ رگ کاٹ دی ہے کیونکہ ہمیں کشمیر کے لیےجو کرنا تھا وہ ہم نہیں کر پا ئے۔ انڈیا کو
کھلی چھوٹ کو مل گئی اور انہوں کشمیر کی الگ حیثیت کو ختم کر کے انڈیا میں ضم کر لیا اور ہندو پنڈتوں کو وہاں بسانا شروع کر دیا ہے۔ پر اللہ نے چاہا تو نیتن یاہو کی طرح مودی کو بھی منہ کی کھانا پڑے گی ۔
مجاہدین کشمیر کو لائحہ عمل بنانا پڑے گا ،یہ ماننا پڑے گا کہ کشمیریوں نے بھی اپنی جانوں کی بازیاں دی ہیں۔ ان کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی پر جس طرح حماس نے اپنے آپ کو ازسرنو تعمیر کیا تو کیا کشمیریوں کے پاس کوئی لیڈر ہے ۔ بزرگ رہنما سید گیلانی کے بعد یاسین ملک موت و حیات کی کشمکش میں روز وشب جیل کے اندر گزار رہے ہیں اور حالیہ الیکشن میں واپس شیخ فاروق کے بیٹے آگئے ہیں۔ ان کو کشمیر کی آزادی سے کوئی دلچسپی نہیں ۔
کشمیر میں فی الحال امن و امان قائم ہے مگر دلوں میں نہیں ۔ لوگ آج بھی پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں اور وزیر اعظم اور کرنسی اپنی ہی چاہتے ہیں - کہتے ہیں امریکی صدر ٹرمپ کے آنے سے کچھ منظر نامے بدل رہا ہے۔ اللہ کرے کشمیر کا منظر نامہ بھی بدل جائے ۔
آپ لوگوں کویاد ہوگا کہ عمران خان کے دور حکومت میں ٹرمپ نے کشمیر کے معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہا تھا جومودی کے لیے کسی طور پر قابل قبول نہ تھا ۔دعا ہے کہ جس طرح فلسطین کے معاملے میں اللہ نے نیتن یاہو کےنکلیل ڈالی ۔ایسے ہی مودی کو بھی اللہ کے حکم سے نکلیل ڈالنے والا کوئی ہو -
کشمیر کا ایک دن نہیں
سارے دن میرے کشمیر کے ہیں





































