
رباب ارشد
پچیس دسمبر کا دن بھی کوئی عام دن نہیں ہے۔ یہ دن بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی پیدائش کا دن ہےاور یہ دن یومِ قائد کے نام
سےجانا جاتا ہے۔ہم بچپن سے ہی اپنی کتابوں میں قائداعظم کے بارے میں پڑھتے آرہے ہیں۔
قائداعظم محمد علی جناح انتہائی اصول پسند انسان تھے۔ان کی ساری زندگی اصول وضوابط کے مطابق گزری۔ قائدملت محمد علی جناح بہت ہی ذہین،عقلمند اوردانشور لیڈر تھے۔اسی ذہانت کے بل بوتے پر قائداعظم مسلمانوں کے لیے الگ ملک حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ قائداعظم نے الگ ملک تو مسلمانوں کے لیے حاصل کیا مگر اس میں حقوق سب کو یکساں طور پر دینےکا حکم دیا۔ اس پاکستان میں جو حقوق مسلمانوں کے لیے تھے وہی اقلیتوں کے لیے بھی مقررکیے۔ قائداعظم نےپوری قوم سے مخاطب ہو کر فرمایا:
" تم سب اس پاکستان میں اپنے اپنےعقیدے پر آزاد ہو۔"ایک اور جگہ قائداعظم نےاخوت اورمساوات کے بارے میں بات کرتے ہوئے فرمایا:
" مساوات اور اخوت ہو تو جمہوریت بنتی ہے۔"
قائداعظم محمد علی جناح نے قوم کو ہمیشہ متحد ہو کر رہنے کی ہی تلقین کی۔قائداعظم کا مانناتھا کہ جو کام متحد ہو کرکیا جاسکتا ہے وہ اکیلے میں کرنا ناممکن ہوتا ہے۔قائداعظم کہتے تھے کہ خود کو علاقوں یا فرقوں میں مت بانٹو بلکہ ایک متحد قوم بن کر جیو۔اسی کے متعلق قائداعظم کا ایک مشہور قول ہے۔ قائداعظم فرماتے ہیں:
" ایک شخص بن کرنہ جیو! بلکہ ایک شخصیت بن کر جیوکیونکہ ایک شخص تومرجاتا ہےمگر شخصیت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔"مسلم تو مسلم غیر مسلم بھی قائداعظم کو بہت مانتے تھے۔ قائداعظم کی ذہانت کی داد دیتے تھے۔وجے لکشمی پنڈت نے بھی قائداعظم کے بارے میں اپنے خیالات کااظہار بہت خوبصورت انداز میں کیا۔وجے لکشمی کہتے تھے:
" اگر مسلم لیگ کے پاس ایک سو گاندھی اور دوسوابوالکلام ہوتے لیکن کانگریس کے پاس صرف ایک ہی محمد علی جناح ہوتےتو ہندوستان کبھی بھی تقسیم نہ ہوتا۔"لیکن آج ہم لوگوں نے اپنے عظیم رہنما کےعظیم اصولوں کو یاد ہی نہیں رکھا۔ ہم قائداعظم ڈے تومناتےہیں مگر صرف اپنی تفریح کے لیے۔ کیا ہم نے کبھی قائداعظم ڈے پر قائداعظم کو یاد کیا ،کبھی ان کی باتوں کو ان کے اصولوں کو ان کے طور طریقوں کو یاد رکھا۔نہیں نا! ہم نےبس چھٹی منانی ہے ۔آرام کرنا ہے یا پھر کہیں سیروتفریح کا پروگرام بنانا ہے۔
ہر سمت تیرے نام کے کتبے سجا دیے
لیکن تیرے جو خواب تھے یکسر بھلا دیے
۔۔
بے اثر ہو گئے سب حرفِ نوا تیرے بعد
کیا کہیں دل کا جو احوال ہوا تیرے بعد
ٹو بھی دیکھے تو ذرا دیر کو پہچان نا پائے
ایسی بدلی کوچے کی ہوا تیرے بعد
اور تو کیا کسی پیماں کی حفاظت ہوتی
ہم سے اک خواب سنبھالا نہ گیا تیرے بعد





































