
رباب ارشد
ہمارے گھروں میں ہمارے ارد گرد ہرجگہ سب سے زیادہ بولا جانے والا جملہ
لوگ کیا کہیں گے؟؟؟
اگر بیٹی نے کہا کہ مجھے نوکری کرنی ہے۔ تواس کو اپنے بڑوں سے یہ ہی جملہ سننے کو ملتا ہے کہ" لوگ کیا کہیں گے؟؟؟"۔اگر بیٹا ذات سے باہر شادی کرنا چاہتا ہے تو اسے بھی یہ کہہ کر منع کر دیا جاتا ہے کہ" لوگ کیا کہیں گے؟؟؟"۔کیا ہمارے لیے اپنوں سے بڑھ کر ہیں یہ لوگ؟ ہیں کون یہ لوگ ؟ کہاں سے آجاتے ہیں یہ لوگ ہماری زندگیوں کے فیصلے کرنے کے لیے؟ آخر کیوں سنیں ہم ان لوگوں کی۔ یہ لوگ تب کہاں ہوتے ہیں جب کوئی اپنے گھرمیں فاقوں سےمر رہا ہوتا ہے۔ جب کوئی علاج کے لیے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اپنی بیماری کے ہاتھوں جان سے چلا جاتا ہے۔
جب کسی پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ رہےہوتےہیں۔تب کہاں ہوتےہیں یہ لوگ؟؟ یہ زندگی ہماری ہے جو کہ اللہ رب العزت نے ہمیں عطا کی ہے۔اس زندگی پر حق بھی صرف ہمارا ہی ہے۔ کسی دوسرے کو کوئی حق نہیں کہ وہ ہماری زندگی کے فیصلے کرتا پھرے۔خدارا نکلیں ان لوگوں کی باتوں سے۔یہ لوگ تو کسی کو جینے نہیں دیتے۔اگرکوئی خوش ہوتو یہ لوگ اس پربھی باتیں کریں گے۔ اگر کوئی اداس ہو تو اس پر بھی باتیں کریں گے۔ اگر کوئی زیادہ بولتا ہے تو اس کو بھی نہیں چھوڑیں گےیہ لوگ اوراگر کوئی خاموش رہنے لگے تو اس کے بارے میں تو ناجانے کیا کیا کہانیاں بنائیں گے یہ لوگ ۔
سانس مت لو
لوگ کیا کہیں گے
جب ہمارے مذہب میں ذات پات کی کوئی گنجائش نہیں تو ہم لوگوں کی پروا کیوں کریں۔ جب ہمارا مذہب عورت کو پردے میں رہ کر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے تو یہ لوگ کون ہوتے ہیں کچھ کہنے والے۔انہیں لوگوں کی باتوں کی وجہ سے ہم اپنے سگوں کو خود سے بہت دور کردیتے ہیں۔
؎ جس معاشرے میں ہمیں یہ سوچنا پڑے
کہ لوگ کیا کہیں گے معاشرہ کیا کہے گا
ایسے معاشرے کو آگ لگا دو
میرے نزديک یہ بہت بڑا المیہ ہے۔ ہمیں لوگوں سے زیادہ اپنوں کی پروا کرنی چاہیے۔لوگوں کی فضول باتوں کو سننے کی بجائےاپنے سگوں کوسننا ہوگا۔ لوگ توہمیں مشکل میں دیکھ کر ہماری مدد کو نہیں آئیں گے۔ تب بھی یہ لوگ صرف باتیں ہی کریں گے اور ہمارے مشکل وقت میں دور کھڑے ہو کر ہمارا تماشا دیکھیں گے۔
"لوگ کیا کہیں گے"
اس جملے نے لاکھوں بیٹے بیٹیوں کے خواب دفنا دیے۔
ساری ذندگی ہم اسی ڈر اور فکر میں گزار دیتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔آخر میں لوگ صرف اتنا ہی کہتے ہیں:
" اناللہ وانا الیہ راجعون "





































