
رباب ارشد
خواب آنکھوں میں سلامت رہیں تعبیر کی خیر
میرے مولا میرے آقا میرے کشمیر کی خیر
کشمیر برصغیرکے شمال میں واقع ایک ریاست ہے۔کشمیر کی ریاست تین حصوں پر مشتمل ہے۔کشمیر کا ایک حصہ پاکستان میں آزاد کشمیرکے نام سے ہے۔دوسرا حصہ بھارت میں جموں کشمیر کے نام سے ہے اور تیسرا حصہ چین میں ہےجو کہ اقصیٰ چین کہلاتا ہے۔ مذہب کے اعتبار سے دیکھا جائے تو کشمیر میں 80 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہےاور باقی 20 فیصد دوسرے مذاہب کے لوگ کشمیرمیں آباد ہیں۔ کشمیر کی عوام شروع سے ہی پاکستان کے ساتھ اپنا الحاق چاہتےتھےمگرراجہ ہری سنگھ جو کہ کشمیر کا بادشاہ تھا،اس نے کشمیرکو بھارت کے حوالے کر دیا اورپھر کشمیر میں بھارتی فوجیں داخل ہو گئیں۔اس کے بعد ہی پاکستان اور ہندوستان کے درمیاں کشمیر کو لے کر جنگ شروع ہو گئی جو کہ آج تک جاری ہے۔
کشمیر میرا کشمیر تیرا
کیا کوئی کھیلونا ہے کشمیر
یہ محض زمین کا ٹکڑا نہیں
جیتے جاگتے لوگوں کا ہے کشمیر
سن انیس سو نوے میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین صاحب نے کشمیری مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے کشمیر ڈے منانے کی تجویز پیش کی۔ اس میں ان کا ساتھ اس وقت کے اپوزیشن لیڈرمیاں نواز شریف نے دیا۔ اس پراُس دور کی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے 5 فروری کو کشمیرڈے منانے کا باقائدہ اعلان کیا۔ سن انیس سو نوے کےبعد سے اب تک پاکستانی اس دن کوکشمیری عوام سےاظہار یکجہتی کے طور پر منا رہےہیں۔ پاکستانی عوام اپنے کشمیریوں کو نہ کبھی بھولے ہیں نہ کبھی بھولیں گے۔
قدرت کا کرشمہ ہے میرا کشمیر
آؤ دوزخ میں ڈوبی ہوئی جنت دیکھو
کشمیر کوجنت نظیر بھی کہا جاتا ہےاورجنت پرحق صرف مسلمان کا ہے۔پھر ہم اپنی یہ جنت کافروں کے حوالے کیسے کرسکتے ہیں۔ کئی سال سے بھارتی افواج کشمیری عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ کشمیر کی ماؤں بہنوں کی عزتیں بھی غیرمحفوظ ہیں مگر کشمیر کی عوام کےحوصلے پست نہیں ہوئے۔وہ آج بھی جرأت کے ساتھ بھارتی افواج کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں ، جھکے نہیں۔ کشمیرمیں جب بھی کسی نےاس ظلم کے خلاف آواز اُٹھائی تو ظالم بھارتی فوج نےاسے شہید کر دیا مگر کب تک اور کتنے برہان وانی کو یہ ظالم اپنی وخشت کا نشانہ بنائیں گے۔
بھارت لاکھ کوشش کرلے مگر یہ کشمیری عوام کو اپنے سامنے نہیں جھکا سکتا۔ کشمیری عوام کی زبان پر نعرہ آج بھی پاکستان کا ہی ہے۔ زور وزبردستی سےکسی کی زمین پر تو قبضہ کیاجا سکتا ہے مگر دلوں پر نہیں اورکشمیر جیتے جاگتے انسانوں کی ریاست ہے۔یہ مسلمانوں کی ریاست ہے۔ بھارت کا اس پر قابض رہنے کا خواب خواب ہی رہے گا۔ یہ بات بھارت سرکار کو سمجھ آجانی چاہیے کہ آج نہیں تو کل کشمیر بنےگا پاکستان۔ ظلم کا سورج جتنی بھی آب وتاب کے ساتھ طلوع ہو جائے اس کو غروب ہونا ہی پڑتا ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہےاور شہ رگ سے ہی وجود مکمل ہوتا ہےاور پاکستان کا وجود بھی کشمیر کے ملنے سے ہی مکمل ہوگا۔
تم نے کیا ہے قبضہ کشمیر پر
بڑا اترا رہے ہو تم اپنی جیت پر
قبضہ کیا ہے تو نے فقط زمین پر
حکومت آج بھی ہماری ہے دلوں پر
اپنی تحریر کے آخر میں انڈیا کو میں یہ پیغام دینا چاہتی ہوں۔
اے انڈیا والو!تم مسلمانوں کو کمزور سمجھنے کی غلطی کبھی مت کرنا۔ مسلمان کفر کے آگے نا کبھی جھکا ہے اورنہ ہی کبھی جھکے گا۔ تاریح گواہ ہے کہ مسلمان چاہےتعداد میں کم ہی کیوں نہ ہوں وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔انہوں نے ہمیشہ کفرکا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔اور فتح یاب ہوئے ہیں۔
ارے موت سے ڈر کیسا موت تو مقدر ہے
دیکھنا دشمن کو کس بے بسی کا رونا رولائیں گے
اے بھارت تیرے ہاتھوں میں وہ لکیر نہیں
کشمیر کوئی تیرے باپ کی جاگیر نہیں





































