
رباب ارشد
چودہ فروری کے دن کوحجاب ڈے کے طور پر منایاجاتا ہے۔ہرمسلم لڑکی کے لیے تو ہردن ہی حجاب ڈے ہوتا ہے۔حجاب کے لیے کسی خاص دن
کسی موقع کی ضرورت ہرگز نہیں ہےاور میراحجاب تو میرا مخافظ ہے۔ میں جب بھی کہیں بھی حجاب پہن کرجاتی ہوں تو مجھےلوگوں کی بےباک نظروں کی بلکل بھی پروا نہیں ہوتی۔یہاں تک کہ میں کسی شادی پربھی جاتی ہوں توحجاب پہن کرہی جاتی ہوں۔ یہ حجاب ہی ہےجو مجھےسب سےالگ سب سے بہتر اور سب سے اوپردکھاتا ہے۔ میرا حجاب میرا پردہ میری پہچان ہے۔ یہ حجاب ہی غیر مسلم ممالک میں مسلمان کی پہچان بنتاہے۔
آج کےدور میں جب بھی کوئی لڑکی پردہ کرنا شروع کرتی ہے تو اسے بہت کچھ سننے کو ملتا ہے۔ لوگوں کی باتیں ،مذاق, طعنے یہ سب اس کے پیچھے لگے رہتے ہیں مگر اس کو اس خوبصورت عمل پر سراہنےوالےبہت کم ملیں گے۔ یہ ہی توہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم صحیح کو غلط اورغلط کو صحیح مان بیٹھےہیں۔
کٹا سکتی ہیں سر اپنا مگر سجدہ نہ چھوڑیں گی
بیٹیاں امت مسلمہ کی کبھی پردہ نہ چھوڑیں گی
ہمارا حجاب ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہم کتنے خاص ہیں۔ ہم کتنے انمول ہیں۔ گھر تو بہت سے ہیں مگر خانہ کعبہ پرہی غلاف ہے۔کتابیں بھی بہت سی ہیں مگرغلاف صرف قرآن مجید پرہی ہوتا ہے۔آخرکیوں؟ کیوں کہ خانہ کعبہ اور قرآن مجید بلکل بھی عام نہیں ہیں۔ یہ بہت خاص ہیں ،اس لیے ان پرغلاف ہوتا ہے۔ یہ ان کے سب سے الگ سب سےخاص ہونے کی ہی نشانی ہے تو پھر ایک مسلم عورت کیسےعام ہوسکتی ہے۔ جب تک ہمارا غلاف ہمارا حجاب ہم پر ہےہم بہت خاص ہیں۔
کھلتے ہوے گلاب اچھے لگتے ہیں اور
ہر مسلم لڑکی پرحجاب اچھے لگتے ہیں
آج اگرکسی سے پردہ کرنے کا کہا جائے یا غیر محرم سے دوستی کرنے سے منع کیا جائے۔تو جواب ملتا ہے کہ ہماری نیت تو صاف ہےنا۔ جس وقت پردہ کا حکم آیا تو حضرت فاطمہؓ سمیت تمام اصحاب کی بیویوں نے تمام مسلمان عورتوں نےبغیرکسی سوال جواب کےپردہ شروع کر دیا۔ان سے صاف نیت بھلا کس کی ہوسکتی ہے۔اُسی دور کا ایک بہت ہی خوبصورت واقعہ ہے۔
" رات کو پردے کا حکم آیا تو صبح سب عورتوں نے پردہ شروع کر دیا۔ایک عورت جس کواس بارے میں معلوم نہیں تھااس نے سب سے پوچھا کہ یہ اتنا پردہ تم سب نے کیوں کیا ہوا ہے تو اس کو بتایا گیا کیا تم نہیں جانتی کہ رات کو پردے کا حکم آیا ہے۔اس لیے ہم سب نے پردہ کرلیا ہے۔ تو اس عورت نے ایک بچےکواپنے گھردوڑایاکہا کہ میری بڑی چادرلےآؤ۔ بچہ چادر لےآیا اور وہ عورت چادر اوڑھ کر اپنےگھر واپس گئی۔ جب وہ اپنے گھر پہنچی تو اس کے خاوند نے اس سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہوا کہ تم نے پچے سےچادر منگوائی۔ تواس عورت نے اپنے خاوند کو ساری بات بتائی۔ اس پراس کے خاوند نےبولا کہ تمہیں پردے کا پتہ چل گیا تھا توتم گھر آ کر پردہ شروع کر لیتی۔ تو اس عورت نے بہت خوبصورت جواب دیا۔اس نے کہا کہ جب میرے اللہ کا حکم آ گیا تھا اورمجھ تک پہنچ بھی گیا توپھر اس کے بعد ایک قدم بھی اللہ کی مرضی کے بغیر اٹھانے کی مجھے جرات نہیں ہوئی"۔
اس عورت سےزیادہ کوئی خوبصورت نہیں
جوخالص اللہ کی رضا کے لیے پردہ کرتی ہے
ہمیں ہر حال میں اپنا حجاب قائم رکھنا ہےکیوں کہ یہ ہمارےرب ذوالجلال کا حکم ہے۔یہ جونعرے بازی چل رہی تھی کہ میراجسم میری مرضی۔تو میں ان سب سے پوچھتی ہوں کہ یہ جسم یہ روح یہ جان سب کچھ تواللہ رب العزت نے ہمیں عطا کیا ہےنا تو ہم اس کو اپنا کیسے کہہ سکتےہیں۔ یہ سب تو امانتیں ہیں ہمارے پاس جوایک نا ایک دن واپس ہی جانی ہیں ، اپنے رب کے پاس تو پھر اس پر ہماری پرضی نہیں بلکہ اللہ پاک کی مرضی ہی چلے گی تمہاری نہیں۔ پہن لو حجاب خدارا رب کے قہر کو آواز مت دو۔
اللہ پاک ہمیں دوسروں کو بھی پردے کی طرف لانے کی توفیق عطا فرمائیں۔(آمین)
حجاب پہنو اے میری بہنو
کہ حکم رب کو بجا ہے لانا
نبی سے ملنا ہے حشر کے دن
ماں عائشہ کو ہے منہ دکھانا
حسن تمہارا حجاب میں ہے
وگرنہ جیون عذاب میں ہے
قبر اندھیری سی کوٹھری ہے
سزا جزا کا ہے وہ ٹھکانا
تم قہر رب کو بلا رہی ہو
چھپانا ہے جو دکھا رہی ہو
عذاب رب کو نہ دعوت دو
نہ دو برسنے کا ایک بہانا
یہ جسم رب کا دیا ہوا ہے
تمہاری مرضی نہیں چلے گی
ملے گا یہ خاک میں کسی دن
اور اس امانت کو ہے لوٹانا
خبر نہیں تم کو کیا ہے پردہ
کہ فاطمہ نے کیا ہے پردہ
حجاب پہنو اے میری بہنو





































