
محمودہ تفسیر
لاہوراچھرہ میں حلوہ والی خاتون کو"گستاخی قرآن" کےالزام میں جس ہولناک صورتحال سےگزرنا پڑا۔اس نے ماضی میں کبھی توہینِ رسالت
توکبھی توہینِ اسلام اور توہین قرآن کے تناظر میں پیش آنے والےکئی واقعات کی سلگتی ہوئی آگ کی چنگاریوں کو نئے سرے سےبھڑکا دیاہے۔ ہمارے عوام اتنے جاہل کیوں، دیوانے پن اورمذہبی جنون کا شکار کیوں ہو رہے ہیں کہ بغیر سوچے سمجھے قانون کواپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں؟؟؟
اس دورِفتن میں عورت نےبے حیائی اوربےحجابی کا شیوہ اپنا کرمردوں کےلئےگھروں سے باہر نکلنا دوبھرکر رکھا ہے۔عورت جس کی شرم و حیا ہی دراصل اس کا حسن ازلی تھا کہ شاعر مشرق نے بھی وجودِ زن کو کائنات کا رنگ قرار دیا۔ آج وہی عورت جب دوسروں کو دعوت نظارہ دیتی ہوئی بازاروں میں فتنہ بنی پھرتی ہے تو پھر اپنے جیسے شیطانی چیلوں کےہاتھوں درد و الم کی ایسی داستان رقم کرتی ہے کہ الاماں۔۔۔ ایسے واقعات اورایسےسانحات دراصل ہمارے لئے بہت سےسوالیہ نشانات چھوڑ جاتےہیں۔
پہلی بات تویہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسے لباس جس پرعربی رسم الخط میں پرنٹنگ ہو اورجس کا عام شہری جو عربی کو صرف قرآنی عبارت کی تناظر میں دیکھتا اورپڑھتاآرہاہے۔نہ تو وہ عربی زبان کے معانی اور مفہوم سے آگاہ ہے،نہ ہی قرآن کی زبان اور عام عربی میں فرق جانتا ہے۔نہ قرآن کے معانی اور تراجم سے ہی آگاہی رکھتا ہے۔ایسے میں بازاروں کے اندر عورتیں یا مرد اگرعربی رسم الخط کے برانڈڈ لباس پہن کرنکلیں گےتو یہ بات نام نہاد مسلمانوں کےجذبات کومجروح کرنے کے لئے کافی ہوگی اوروہ اسےتوہینِ قرآن سمجھیں گے،اس کے علاوہ مذہبی حمیت میں مبتلا ہو کرمرنے مارنے پر بھی اتر آئیں گے۔
قرآن کوسمجھ کرپڑھنے کے بجائے عام طور پر صرف اسے چومنے، چاٹنے اور ادب سے اونچی جگہ پررکھ دینا ہی کوکافی سمجھتے ہیں ۔زیادہ سے زیادہ اگر کوئی مرجائے تو مردے کےاوپرقرآنی آیات سے بھری چادرڈال دیتے ہیں اوراس کے لئے قرآن خوانی کردی جاتی ہے۔ ان کے نزدیک بس یہی قرآن کاحق ہے۔عربی زبان سے مسلمانوں کی حساسیت فطری ہے۔اس زبان کے ساتھ ہماری قلبی، ذہنی اور فکری وابستگی ہےجو عقیدت سے بڑھ کرعشق کی صورت اختیارکر چکی ہے۔
مسلمانوں کی اس حساسیت کونظرانداز کر کے اس طرح کے ڈیزائنڈ لباس بنانےوالوں کے دومقاصد سمجھ میں آتےہیں۔ ایک تویہ کہ ایسے ڈیزائین بنانےوالےکوئی انتہائی احمق اور لبرل ازم سےمتاثر ہیں اوردوسرایہ کہ وہ جان بوجھ کرمسلمانوں کے جذبات کو عربی زبان اور قرآنی آیات کےذریعے نارملائز کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ پہلے توعام الفاظ کی عربی رسم الخط میں ڈیزائین والےلباس بنا کرمارکیٹنگ کی جائے اور کچھ عرصہ بعد جب لوگ ایسےرسم الخط کےعادی ہوجائیں تو پھرآیاتِ قرآنی کی بھی کپڑوں پر پرنٹنگ کی جائےچونکہ لوگ رسم الخط میں حلوہ، ص،ن اورق جیسے الفاظ دیکھنے کے عادی ہوچکے ہوں گےتو انہیں قرآنی آیات کے ڈیزائن والےکپڑے پہننے میں بھی کچھ عارنہ ہوگا۔ دراصل دشمن کےوار بہت کاری ہیں۔وہ چاہتا ہے کہ ہماری جڑوں کو کھوکھلا کیا جائےاورمسلمانوں کو اندرونی فتنوں سےتباہ و برباد کر دیا جائے۔
میرے خیال سے ہم سب کوہرمحاذپہ ایسےواقعات کےخلاف آوازاٹھانی چاہیے۔مرض سےزیادہ اسبابِ مرض پر غور و خوض کرنا چاہئے۔ کیونکہ اسباب کا سدباب ہو گا تب ہی مرض ختم ہو پائے گا۔ اس واقعے سے کچھ نکات واضح طور پر سامنے آتے ہیں جن پر عمل کرنا معاشرے میں بہتری لا سکتا ہے۔
- حکومتی اداروں کو ایسے لباس تیارکرنے والوں کے خلاف ایکشن لیناچاہیے؟جس کمپنی یا مل نے یہ کپڑا تیار کیا یا جس نےاسے پرنٹ کیا اس کوجرمانہ کیا جائے۔
- مسلمان خواتین کو لباس اور حجاب کے اصل مقاصد کو جانناچاہیےاورایسےملبوسات کا بائیکاٹ کرناچاہیےجوغیر مسلموں سےمشابہت رکھیں اور جنہیں زیب تن کرنے سے فتنہ پھیلنےکےامکانات ہوں۔
- لوگوں کوقانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہیےاور کبھی بھی بےصبری، جذباتیت اورجہالت کا شکار ہوکردشمن کا آلہ کار بنتے ہوئےجگ ہنسائی کاذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
بقول شاعر
سرسے آنچل ڈھلک گئے تو کیا
تو مگر دامن نظر کو سنبھال
رقص و نغمه، شراب و عیش و نشاط
ان دریچوں سے جھانکتا ہے زوال





































