
ثمین سجاد
کہتے ہیں کہ جب ظلم کا اندھیرا اتنا کالا ہوجائےکہ مظلوم اور ظالم دونوں کے چہرے پہچاننا مشکل ہونےلگیں تو یقینآ انصاف کی ایک ایسی روشن
صبح آنے والی ہےجس کا ہر قوم خواب دیکھتی ہےمگر اس سارے سفر میں ایک چیزجو کہ سب سے ضروری ہے وہ ہےمستقل مزاجی۔اس بات پر یقین رکھ کرہر منزل طے کرنی پڑتی ہےکہ خدا بھی ان کی مدد کرتا ہےجو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔
وطن عزیز کا سب سےبڑا زمینی حصہ رکھنے والا صوبہ--- صوبہ بلوچستان، جو زمینی، معدنیاتی، شعوری، غرض ہراعتبار سے سب سے آگے ہے۔اسے اتنا پس پشت کیوں ڈالا گیا ہے؟ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں بلوچستان کےساتھ زیادتیاں کی گئیں۔ بلوچستان کے لوگوں کو دہشت گرد کہا گیا حالانکہ بلوچ سےزیادہ کون انصاف پسند ہے۔ میرا ماننا ہےکہ جو کتاب اٹھالے وہ بنا کسی وجہ کے بندوق نہیں اٹھاتا۔ جہاں ایک دن میں 70 لاکھ کی کتب فروخت ہوئی ہوں، وہ قوم ، وہ لوگ دہشت گرد، ظالم و جابر ہو ہی نہیں سکتے۔ملکی حالات اور اداروں نےاس حمیت پسند اورجریں قوم کواتنامجبور کیا کہ آج وہ تربت سے دارالحکومت پہنچ آئے، صرف انصاف کے لئے۔
بے جا ظلم اور حق تلفی تحفتآ ایک چیزضرور دیتی ہیں، وہ ہے" شعور"۔ اسی شعور نے آج بلوچستان کی ہرعورت کو اکسایا ہے کہ وہ اپنے حق کی جنگ لڑے۔ایک فلاسفر کا کہنا تھا " اگر تمہاری قوم کی بےبس عورت کو شعور آگیا اور وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانےلگے تو سمجھ جاؤ کہ تمہاری قوم ترقی کرنےوالی ہے۔"اور مجھے لگتا ہے کہ وہ وقت قریب ہے۔
آہ!تم فطرت انسان کے ہم راز نہیں
میری آواز یہ تنہا میری آواز نہیں
تم ہنسو گے کہ یہ کمزور سی آواز ہے کیا
جھنجھنایا ہوا، تھرایا ہوا ساز ہے کیا
ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ اورسمی دین بلوچ جیسی لاتعداد عورتیں ہیں جواپنے حق کے لئے، اپنے پیاروں کےلئے اس وقت سڑکوں ہے ہیں مگر سوال یہ اٹھتا ہےکہ کیا ایک انسان کی انا اتنی طاقتور ہے کہ دوسرے انسانوں کی زندگیاں تباہ کردے۔ بےگناہ لوگوں کو لاپتہ کردینا اوراتنے سالوں تک لاپتارکھنا کہ ان کے پیارے ان کی شکلیں دیکھنے کو ترس جائیں اوراگرقسمت سےوہ کبھی واپس آ بھی جائیں تو ایسی حالت ہو کہ دل خون کے آنسو روئے۔ایسا تو نہیں تھا پاکستان اوراب اگر وہ مظلوم عورتیں آوازاٹھا رہی ہیں تو ان پر تشدد کر کے انہیں پابند سلاسل کیا جارہا ہے۔پولیس والوں نے ان عورتوں سے پوچھا ،" تمہارے مرد کہاں ہیں؟ ہم ان سےبات کریں گے" اس بات کے جواب میں انہوں نے کہا "یہی پتہ کرنےتو ہم بلوچستان سےدارالحکومت آئےہیں"
نثار میں تیری گلیوں پہ اے ارض وطن
چلی ہے رسم جہاں کہ کوئی سر اٹھا کر نہ چلے
کوئی چاہنے والا جو طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے نکلے
مگر ان سب کے باوجود وہ بہادر اور جری قوم ثابت قدم ہے اور اپنا حق لینے کے لئے کوشاں ہے۔ دعا ہے کہ خدا ان کو ان کے مقصد میں کامیابی دے اور ان کو ہم سے جوڑے رکھے کیونکہ بظاہر کمزورسی آوازیں جب ایک ساتھ گونجنے لگیں تو ساز بنا دیتی ہیں۔ اسی ساز نے کل معاشرے میں ظلم کو ختم کرنا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ عورتوں کے حقوق کا پرچارکرنے والے عورتوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے۔ آواز وہی لوگ اٹھاتے ہیں جن کو خدا کا خوف اور انسانیت کی ہمدردی ہوتی ہے۔ خدا بلوچستان اور پاکستان کو سلامت رکھے۔ پاکستان ندہ باد!!!
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگرکے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































