
ثمین سجاد
میگزین کے اوراق پلٹتے پلٹتے ایک سرخی پہ نظر پڑی کہ عورت مارچ میں موجود ایک خاتون کا کہنا ہے کہ "پردہ تو نظروں کا ہوتا ہے اور کچھ
نہیں، زیادہ مردوں سے کہیں اپنی نظریں نیچی کریں"۔ اب یہ سطور پڑھ کر حیرانی کے ساتھ ساتھ ہنسی بھی آئی کہ جن کو پردے کا اصل مقصد بھی نہیں پتا وہ عورتوں کے حقوق کے لئیے بول کیوں رہی ہیں؟
جسم کو ڈھانپنے کے بعد پردے کے لئےجس چیز پہ زور دیا گیا وہ تھا سرکو ڈھانپنا۔ سرکو ڈھانپنے کے اور حجاب کےآج سائنس بھی بہت فوائد بتا رہی ہے اور یہی سب اسلام نے چودہ سو سال پہلے بتا دیا تھا۔ حجاب کرنا نہ صرف عورت کو تحفظ دیتا ہے بلکہ اس کو اسلام سے محبت سکھاتا ہے ۔ ہمارے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا مالک کتنا رحیم اور محبت کرنے والا ہے کہ دنیا میں کا کر بھی اس نے ہماری حفاظت کی ذمےداری خود لی جو لوگ یہ دلائل دیتے ہیں کہ حیا آنکھوں میں ہونی چاہئے ان کو قرآن واضح پیغام دیتا ہے کہ اس قرہ ارض کی سب سے پاکباز اور باحیا عورتوں کو بھی حجاب کرنے اور خود کو چھپانے کا حکم دیا گیا تھا۔
حجاب ایک مسلم معاشرے میں ہماری پہچان ہے۔ اب سائنس کے انکشافات نےغیر مسلم ممالک میں حجاب کرنے والی لڑکیوں کو ایک ممتاز مقام دلوایا ہے ۔ لوگ اب حجابی لڑکیوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اوران کا ماننا ہے کہ ان کو یہ مقام رب نے دیا ہے ۔ حجاب نہ صرف ایک عورت کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ اسے معاشرے میں عزت دیتا ہے۔ اللہ ہم سب کو اسلام پہ چلنے کی توفیق دے (آمین)





































