
ثمین سجاد
"امی یہ آواز کیسی ہے؟؟؟ "احد نے دعا مانگتی امی سے پوچھا۔ "بیٹا آپ بھی دعا کرو ۔اللہ ہماری حفاظت کرے" امی نے روتے ہوئے جواب دیا۔ "پر امی اللہ
تو ہماری کب سے حفاظت کررہا ہے۔ ہوا کیا ہے امی؟" احد نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔ "بیٹا ہمارے اور اسلام کے دشمن اسرائیل نے ہم پر حملہ کردیا ہے۔ وہ ملعون روزانہ ہمارے سینکڑوں افراد کو مارہے ہیں۔
وہ ہم سے ہمارا مسکن اور دنیا کے تمام مسلمانوں کا قبلہ اول چھیننا چاہتے ہیں!" امی بہت ڈری ہوئی تھیں مگر احد نہ ڈر جائے اس لئے اسے آرام آرام سے سمجھا رہی تھیں۔ ابھی وہ یہ سب بتا ہی رہی تھیں کہ ایک زوردار دھماکے نے ان کے گھر کو بھی اڑا دیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ننھے احد کے جسم کا کوئی حصہ نہ مل سکا۔ احد کے شہید ہونے سے اس کے سوالات تو ختم ہوگئے مگر یہ حالات ہر مسلمان کے لئے ایک سوال بن گئے ہیں کہ آخر کب تک وہ معصوم لوگ ہمارے حصے کی قربانیاں دیتے رہیں گے۔ آخر کب تک ہم اور ہم پر مسلط حکمران چپ رہیں گے؟
وہ تو مؤمن اول ہیں کیونکہ وہ ہر لمحہ حالت جہاد میں ہیں۔ ان کا ہر بچہ ، ہر بوڑھا ، ہر جوان جب بھی گھر سے نکلتا ہے تو یہ سوچ کر اور سمجھ کر نکلتا ہے کہ ہوسکتا یہ اس کاآخری پل ہو۔ وہ لڑ رہے ہیں کیونکہ وہ اپنا گھر نہیں دینا چاہتے مگر ہم کیوں چپ ہیں؟
ہم راستے میں مرے ہوئے کبوتر کو بھی دیکھ کر افسردہ ہو جاتے ہیں،یہ تو پھر بھی انسان ہیں۔ ان کو دیکھ کر ہماری انسانیت کیوں جوش نہیں مارتی ۔ کیوں ہمارے دل نہیں تڑپتے۔ کیوں ہمارے اندر جہاد کا جذبہ نہیں پیدا ہوتا کیونکہ ہم مسلمان ہیں مؤمن نہیں۔
ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائی، جو اس وقت کفر سے لڑائی میں اپنا سب کچھ وار رہے ہیں،ان کی طاقت بنیں۔ وہاں نہیں جاسکتے تو ڈیجیٹلی ان کا ساتھ دیں۔ ان کے لئے دعا کریں۔ پروٹیسٹ میں شامل ہوں۔ یہ بھی ان کی مدد ہی ہے۔ اللہ ہمارے سب مسلمان بھائیوں کی مدد کرے (آمین)





































