
ثمین سجاد
خوبصورتی ہمیشہ سے انسان کی کمزوری رہی ہے۔ انسان ہمیشہ سے خوبصورتی کو دو طرح سے استعمال کرتا رہا ہے۔ یا سراہنے
کے لئے یا تو استحصال کرنے لئے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ انسان کو جب جب کوئی چیز خوبصورت لگی ہے، اس نے تب تب اس کا استحصال کر کے اس کو فسادات کی نظر کر دیا۔ یہ ساری بات کشمیر کے سلسلے میں بالکل درست ہے۔
وادی کشمیر جسے زمین پر موجود جنت کہا جاتا ہے، وہ آزادی کے وقت سے ہی فسادات کی نذر رہی ہے۔ وجہ چاہے غیر منصفانہ تقسیم رہی ہو یا غیر مسلم حکمران، کشمیر نے اپنی زرخیز زمین اور بلند و بالا پہاڑوں پر کیا کیا نہ سہا۔ اس کے باشندوں نے اپنے پیاروں کی قربانی دی اور بہت سے لوگوں نے اپنے آپ کو جلاوطنی کی آگ میں جلا دیا مگر ان سب کی قربانی ضائع نہیں گئی۔ ہمت اور حریت کی عظیم داستانوں میں کشمیر کے لوگوں کی داستان سر فہرست ہے۔
گزشتہ 78 سال سے کشمیر اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں لاکھوں جانیں گئیں، ہزاروں خاندان تباہ ہوئے مگر جو نہیں ٹوٹا وہ اس جرات مند قوم کا حوصلہ ہے۔ اسی حوصلے نے خرم جاوید ، ملک یاسین، اور محبوبہ مفتی جیسے کئی لوگوں کے جذبات کو ابھارا اور ان کو یہ ہمت دی کہ وہ اپنے گھر، اپنی دھرتی، کشمیر، کے لیے کچھ کر سکیں۔ وہ لاکھوں ماؤں کی آواز اور کروڑوں بہنوں کے درد کا ساز بن گئے اور ان کے حوصلے نے ہی یہ وقت دکھایا کہ اب کشمیر کا درد دنیا کو محسوس ہو رہا ہے۔
کشمیر کئی دہائیوں سے اپنی جنگ خود سے لڑ رہا ہے۔ یونائیٹڈ نیشنز میں اب تک بھی کشمیر کا کوئی فیصلہ نہیں ہو پارہا ہے۔ کئی سالوں سے ہندوستانی فوج کی جانب سے بے گناہ شہریوں کو بے رحمی سے مارا جارہا ہے۔ اس کے باوجود کشمیری صرف انصاف چاہتے ہیں۔ برہان وانی جو کے ایک جہادی تھے اور 2016 میں شہید ہوئے، ان کی والدہ نے کمال ضبط سے بس اتنا کہا کہ ہمیں بدلہ نہیں صرف انصاف چاہیے ۔ یہ الفاظ اس ماں کے ہیں جس نے اپنا اکلوتا بیٹا کھویا۔ ایسی بےتحاشا امثال ہیں جو کشمیریوں کی ہمت و حوصلے کو ظاہر کرتی ہیں۔
کوئی بھی قوم حریت پسند ایسے نہیں بنتی۔ اس کے پیچھے بےپناہ قربانیاں ہوتی ہیں۔ کبھی ماؤں کی آہیں تو کبھی بہنوں کی کراہیں، کبھی اجڑتے گھروں سے اٹھتا ہوا دھواں تو کبھی آنکھوں سے بجھتی ہوئی زندگی کی امید۔۔۔۔ان سب سے بنتی ہے ایک قوم عظیم۔۔کیونکہ عظمت اور بڑائی خراج مانگتی ہے اور وہ کشمیری سود سمیت دیتے آرہے ہیں۔ ان کے حوصلے کی مثال نہیں ملتی۔ کیونکہ اس خوبصورت وادی میں رہنے والوں کے دل بھی اسی کی طرح خوبصورت ہیں۔ تبھی انہوں نے ہر غم کو اپنے اندر سمیٹ لیا۔





































