
بنتِ نثار احمد
انسانی حقوق سےمراد وہ حقوق ہیں جو بحثیتِ انسان ہرانسان کو میسر ہوتے ہیں۔اسلام انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو قطعاً برداشت نہیں کرتا۔ اسلامی
ریاست کا فرض ہے کہ وه اپنے شہر یو ں کو تمام حقوق ترجیحی بنیادوں پرفراہم کرے۔ اسلامی ریاست کے شہری کوکوئی بھی عقیدہ رکھنےکی آزادی ہوتی ہے۔اسلام کے نقطہ نظر سے دین و مذہب کے معاملے میں کسی طرح کا جبرروا نہیں۔
سورة البقرة (256) ۔
لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ ۟ ۙ قَدۡ تَّبَیَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَیِّ ۚ فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی٭ لَا انۡفِصَامَ لَہَا ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۵۶﴾
دین کےبارے میں کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت ضلالت سے روشن ہوچکی ہے، اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کےسوا دوسرے معبودوں کا انکار کرکے اللہ تعالٰی پر ایمان لائے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالٰی سننے والا جاننے والا ہے۔ مسلم حکمرانوں نے کبھی بھی کسی کو زبردستی دائرہٴ اسلام میں داخل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ عقیدۀ کی آزادی سے اسلامی ریاست کے شہری کواپنے اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت ہے۔ ہر قو م اپنے مذ ہب کے بتائےہوئے طر یقے کے مطابق عبادت کرنے میں آزاد ہیں۔
آج سے تقریباً چوده سو سال پہلے آپﷺ نے اپنےخطبہ حجتہ ا لوداع میں انسانی حقوق اورامن عالم کےمنشور کا اعلان کیاجس میں آ پﷺ نے فرما یا : "بلا شبہ تمہا را اللّه ایک ہےاور تمہارا باپ بھی ایک ہے،یاد رکھو کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی برتر ی حاصل نہیں اورنہ کسی عجمی کو کسی عر بی پر کوئی برتر ی حا صل ہے ،نہ کسی گو رے کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حا صل ہے فضیلت کا معیار صرف اور صرف تقویٰ اور پرہیز گاری پر ہوگا۔" اسلام نےہر انسان پر دوسرے انسان کے حقوق عائد کئے ہیں جسے پورا کرناہر مسلمان کا عین فرض ہے۔ہر انسان کو اپنے غریب بھائی کی مدد کرنی چاہیے۔
آپﷺ نے فرمایا: "الله اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہےجب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرنےمیں مصروف رہتا ہے۔"ہر انسان کو اس کےپورے پورےحقوق دینے چاہئیں۔
فلسطین کے لوگ جو مسجدِ اقصٰی کےلیے قربانی دے رہے ہیں وہ پیارے مسلمان بہن بھائی ،بوڑھے،بچےسب انسانی بنیادی حقوق کے پورے پورے حق دار ہیں انہیں سارےحقوق فراہم کرنا مسلم ممالک کا فرض ہے۔ہر انسان کو اس کے پورے حقوق دئیےجائیں۔والدین اولاد کو اور اولاد والدین کو ایک دوسرے کے حقوق دیں۔پڑوسی اپنے پڑوسیوں کے حقوق پورے کرے۔رشتہ دار اپنے رشتہ داروں کے حقوق پورےکرے۔شہری اپنے دوسرے شہری بھائیوں کے حقوق پورے کرے۔اس کےبعد یتیموں ،مسکینوں،بیوؤں ،مزدوروں، غلاموں،مسافروں اور خواجہ سراؤں کے حقوق بھی ان کوفراہم کیے جائیں۔
یتیم بچیوں کی تعلیم وتربیت اورشادی بیاہ کا انتظام کیا جائے۔ مسکینوں کے کھانے اور رہائش کا انتظام کیا جائے۔غلاموں اورمزدوروں کو ان کی محنت کی پوری پوری أجرت دی جائے جیسا کہ آج کل ہمارے معاشرے میں خواجہ سراؤں کوکم تر سمجھا جاتا ہے۔ان کوہر شعبے میں ذلیل و خوار کیا جاتا ہےان کو بنیادی انسانی حقوق فراہم کیےجائیں اور ان کو بھی ہرجگہ عزت دی جائے کیونکہ انہیں بھی الله نے پیدا کیا ہے۔
حقوق العباد کی اہمیت کا اندازہ ہم اس بات سے کرسکتے ہیں کہ الله تعالیٰ اپنےحقوق تو ہمیں معاف کر سکتا ہے لیکن بندے کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں کرے گا جب تک بندہ خود معاف نہیں کرے گا۔اس لئے کبھی کسی کو حقیرنہ جانیں۔ نہ ہی کسی کی ذات،رنگ ونسل،قد و قامت پر طعنہ زنی نہ کریں۔ایک دوسرے کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آئیں ۔





































