
زہرا یاسمین /کراچی
چھوٹی سی زینی ننھی منی پیاری سی ابھی تو صرف دویا ڈھائی سال کی ہے باتیں خوب سمجھتی اور کرتی ہے۔ فلسطین اورغزہ سے واقف ہے۔ ترازو کے
نشان کو بھی پہچانتی ہے ۔ اتوار کو والدین کے ساتھ غزہ ملین مارچ میں شریک تھی ۔ آج میری ملاقات ہوئی تو ہاتھ اٹھا اٹھا لبیک یاغزہ کہہ کر بتایاوہ گئی تھی وہاں۔ میں نے پوچھا وہاں کیا تھا۔ بچے کو فلسطین کوفو ہوگیا۔ پھر لبیک یا غزہ کہہ کردعا مانگنے لگی ۔ میں نے پوچھا کیا دعا مانگی تو بولی ٹھیک ہوگیا ۔ اللہ اللہ ھو ، اللہ اکبر ، لبیک یاغزہ ننھی کلی کےمنہ سے یہ باتیں سن کر دل سے دعا نکلی یا اللہ یہ ننھے معصوم بھی اپنے فلسطینی مسلمان ساتھیوں کے لیےدعاگو ہیں یا اللہ تو ان کی بھی پکار سن لے۔
وہ ننھی بچی ہے اسے سمجھ نہیں ہے گھر میں باتیں سنتی ہے۔ فلسطین کے ترانے سنتی ہے تو اُسے یہ لگتا ہے لبیک یا غزہ اور دعا سے سب ٹھیک ہوگیا ہے۔پر امید، پرجوش ننھی مجاہدہ کو دیکھ کر دلی اطمینان محسوس ہوا، ابھی گھر پہنچی ہی تھی کہ ننھے چھ سالہ یحییٰ و صفیہ جڑواں ہیں اور آٹھ سالہ فاروق اپنی نانو سےبات کرنےکو بے قرار تھی ، اسکول سے آتے ہی غزہ سےاظہار یکجہتی اور غزہ ملین مارچ کی روداد سنانےکو بے چین تھے، وہ بھی لبیک یا غزہ مسجد اقصیٰ کو بچانا ہے۔کہہ رہے تھے۔
فاروق کا کہنا تھا کہ میں بڑا ہوکر صلاح الدین ایوبی بنوں گا میں نےپوچھا کیوں تاکہ فلسطین کو آزاد کرواسکوں چار سالہ ارحا کے بھی کچھ یہی جذبات تھے۔ میں نے سوچا ان ننھے منےبچوں نے گھروں میں فلسطین اور غزہ کی صورتحال سنی ترانے سنے اوران کے اندر غزہ اور مسجد اقصیٰ کو بچانے کا جذبہ بیدار ہوگیا ہے لیکن جابجا سوشل میڈیا پرموجود فلسطین غزہ، رفاح و مسجد اقصیٰ کی صورتحال پر مبنی ویڈیوز۔ تصاویر اور تحریری مواد ، متن جو مختلف زبانوں میں موجود ہے،انہیں دیکھ کر ان کے بارے میں جان کر مسلم حکمران کیسے خاموش بیٹھے ہیں؟کیا یہ جذبات سے عاری ہیں؟ کیا ان کے سینے میں دل نہیں دھڑکتا ؟ کیا وہ امت کے درد کو محسوس نہیں کرتے؟ ایسا کیوں ہے؟ کچھ دیر یہ سوچتے تو میری آنکھیں ہی بھر آئیں۔ میرے ذہن میں ان سوالوں کے جواب میں سورہ بقرہ کی آیات گونجیں۔
سورہ بقرہ آیت 171 ۔
صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۔ بہرے گونگے ہیں اندھے ہیں وہ نہیں سمجھتے/ وہ شعور نہیں رکھتے۔
سورہ بقرہ آیت 18
صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یرجعون۔
بہرے، گونگے، اندھے ہیں پس یہ لوٹ کر نہیں آئیں گے۔
یعنی منافقین و کفار جو حق جانتے اور پہچانتے ہوئے بھی اسے مانتے نہیں تھے اس پر ایمان نہیں لاتے تھے۔
اور سورہ محمد آیت 24 ۔
ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا ، یا ان کےدلوں قفل چڑھے ہوئے ہیں۔
یعنی انکے دلوں اور زبانوں پر
مصلحت کا مفاد کا خود غرضی کا حرص وہوس کا زنگ اور قفل ( تالا) ہے۔ اسی لیے ان کی آنکھوں کی بصارت پرحق دیکھنے کے لیے غفلت اور عیش پرستی کی پٹی بندھی ہے اور کان حق سننے کے لیے بند ہیں کہیں ان پر اسکا اثر نہ ہو جائے۔ ان نا عاقبت اندیش حکمرانوں سے لاکھ درجے بہتر ننھے معصوم بچے ہیں جنہیں جنت کے باغوں کا پھول قرار دیا گیا ہے۔ کیا خوب کہاوت ہے بچے من کے سچے۔ واقعی خالص کھرے اور سچے۔




































