
زہرا یاسمین
یحییٰ اورمعوذ نےاپنی امی سےکہا : ہمیں پڑھنا ہے۔ہم کیوں اسکول میں پناہ گزین ہیں ۔ہمارا اسکول کب کھلے گا؟
ماں ام عمارہ آنکھوں میں نمی دل میں دکھ سمیٹے بچوں کو امید دلانےلگی۔ ان شا اللہ جلدبس ذرا جنگ بند ہوجائےامن ہو جائے توکھل جائے گا آپ کا اسکول۔
بچے یہ سن کر خوشی سےپکاراٹھے۔اللہ اکبر۔۔۔۔۔ ان شا اللہ اورام عمارہ ہاتھ اٹھائےاللہ رب العزت کی بارگاہ میں اپنے غمزدہ دل کی گہرائیوں سےاپنی سر زمین فلسطین کے لیے گڑ گڑاا کر دعائیں مانگنے لگی۔ سب ہی دعا گو تھے، ان سب کی امید کا دیا روشن تھا۔کیسےنہ ہوتا؟اللہ کےبھروسے پرقبلہ اول کی حفاظت پرماموراہل فلسطین آئےدن سخت حالات مشکلات کا سامنا کرتےہوئےاپنوں کی جدائی کا غم سہتے ہوئے گھر بار چھوٹ جانےکے باوجود اور زخموں سے چوربدن کےساتھ صیہونی دہشت گردی کا سامنا کررہےہیں ۔
ان کے دل اور عزائم فولادی ہوچکے ہیں۔ فلسطین میں ایک طرف ادویات، پانی اور خوراک کی قلت کے باعث آئے روز بچوں اور دیگرشہریوں کی اموات کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔وہیں دوسری جانب غاصب صہیونی دشمن ریاست اسرائیل نےجنگ بندی کی تمام کوششیں ناکام بنا دی ہیں اوروہ غزہ میں فلسطینیوں کی منظم؟ اورمسلسل نسل کشی پر پوری ڈھٹائی کے ساتھ قائم ہیں۔
صبح ہی محلہ الشریم کے ایک اسکول ابن الہیشم میں فضائی حملےاوربہت سے فلسطینیوں کی شہادت اورزخمی ہونےکی خبرنےام عمارہ کےغمزدہ دل کابوجھ اوربڑھادیا اس کے لبوں پراللہ سے کسی صلاح الدین ایوبی جیسے مرد مجاہد بھیجنےکی دعا اور آنکھوں میں انتظار ہے۔ قرآن مجید سورہ آل عمران کی یہ آیت اسکے دل کو تقویت دینے لگی۔
دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔




































